--> Dunia Ka Sab Se Ameer Insan By Zaid Zulfiqar Short story | Urdu Novel Links

Dunia Ka Sab Se Ameer Insan By Zaid Zulfiqar Short story

 Dunia Ka Sab Se Ameer Insan By Zaid Zulfiqar Short story دنیا کا سب سے امیر انسان از زید ذوالفقار کہنے والے کہتے تھے وہ دنیا کا آخری کنارہ ...

 Dunia Ka Sab Se Ameer Insan By Zaid Zulfiqar Short story





دنیا کا سب سے امیر انسان

از زید ذوالفقار



کہنے والے کہتے تھے وہ دنیا کا آخری کنارہ ہے۔ جہاں سورج ڈوب جاتا ہے۔ وہ دلدل ہے۔ وہاں اسی دلدل میں وہ چھپا ہوا ہے۔ وہ دنیا کا سب سے انمول اور سب سے قیمتی پتھر ہے۔ وہ جس کے پاس ہوگا، وہ دنیا کا سب سے امیر انسان ہوگا۔

تو بس اس نے ٹھان لی تھی۔

اس پتھر کو پانے کی۔۔۔ دنیا کا سب سے امیر انسان بننے کی۔۔۔

لیکن وہ آسان نہیں تھا۔

وہ کئی سالوں کی مسافت تھی۔ ایک طویل راستہ۔ کٹھنائیاں۔۔۔ تکالیف۔۔۔ مصائب۔۔۔ بیماریاں۔۔۔۔

وہاں طرح طرح کے جوکھم تھے۔ اس تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔

لیکن وہ تیار تھا۔

اسے وہ کرنا ہی تھا۔

اس نے سفر شروع کیا۔ وہ راستہ اس شہر سے شروع ہوا تھا۔ وہاں بیوپار اچھا تھا۔ وہاں تجارت منافع بخش تھی۔ وہاں اسے کئی لوگ ملے۔ اسے کہا وہیں ان کے ساتھ روزگار شروع کرے۔ وہ اچھا منافع کما سکتا تھا۔ لیکن وہ نہیں مانا۔۔۔ 

وہ چند سکے۔۔۔ وہ تھوڑی سی دولت۔۔۔۔

نہیں۔۔۔ اسے دنیا کا سب سے قیمتی پتھر چاہئیے تھا۔۔۔

پھر سفر میں وہ صحرا تھا۔

ہزاروں میل تک پھیلا۔ وہاں پیاس کی بیماری تھی۔ طرح طرح کے جانور۔ بھوک۔ ساۓ کی قلت۔

وہ سفر کرتا رہا۔۔۔ چلتا رہا۔۔۔

یہاں تک کہ وہ نخلستان پہنچ گیا۔

وہ چھوٹی سی جنت۔ وہاں وافر پانی تھا۔ خوراک تھی۔ راحتیں تھیں۔ وہیں اسے وہ ملی جس نے اسے دل دیدیا تھا۔ وہ اسکے پیار میں تھی۔ وہ بھی اسے چاہنے لگا تھا۔ اس نے اسے روکا۔

یہیں رہ جاؤ۔ سب سے قیمتی تو بس محبت ہے۔ اور کیا چاہئیے۔ یہیں رہیں گے۔ آباد رہیں گے۔۔۔

لیکن وہ اسکی منزل نہیں تھی۔

اسکی منزل تو وہ دلدل تھی جہاں سورج ساری رات آرام کرتا تھا۔

اس نے اسے الوادع کہہ دیا۔ سفر جاری رکھا۔

کئی دن۔۔۔ کئی راتیں۔۔۔۔ بیمار ہوا۔۔۔ صحت ملی۔۔۔ تھک گیا۔۔۔ اٹھ گیا۔۔۔۔ رک گیا۔۔۔۔ چک پڑا۔۔۔۔

اس وادی سے اسکا گزر ہوا تو وہاں اسے وہ بزرگ ملے۔ ملنسار۔ مہمان نواز۔ وہ انکے اخلاق سے متاثر تھا۔ وہ اکیلے تھے۔ نا بیوی نا بچے۔ اسے اپنے پاس رکنے کو کہا۔ اپنا بیٹا بنا کر۔ گھر بار، روپیہ پیسہ، کاروبار سب تھا۔وہ رک جاتا تو یقیناً ایک اچھی زندگی جیتا۔ وہ رک سکتا تھا پر رکا نہیں۔

اسکی منزل وہ نہیں تھی۔

اس سے دور تھی۔

پہاڑوں کے اس پار۔۔۔ دریا سمندر عبور کرنے کے بعد۔۔۔ اندھیرے سے لڑنے کے بعد۔۔۔۔ ان جانوروں کو ختم کر کے۔۔۔۔ بیماریوں کو مات دے کر۔۔۔۔ خوف کا گلا گھونٹ کے۔۔۔۔ اس پار۔۔۔۔ جہاں سورج روز شام کے وقت آرام کے لئیے آتا تھا۔۔۔۔

وہ وہاں پہنچ گیا۔

وہ اسے مل گیا تھا۔ وہ اس دنیا کا سب سے خوبصورت اور سب سے قیمتی پتھر۔ اس نے اسے اٹھا لیا اور وہ دنیا کا سب سے امیر انسان بن گیا تھا۔ اتنے بے تحاشا سالوں کے بعد آخر اس نے اسے پا ہی لیا تھا۔

اب واپسی کا سفر شروع ہوا۔

انہی کھنڈرات سے۔۔۔ جنگلوں سے۔۔۔ چٹانوں سے۔۔۔۔

اسکے پاس وہ بے مثال دولت تھی۔ اب اسے رہزنوں کا ڈر تھا۔ ڈاکو اسکی تاک میں تھے۔ اب زیادہ محنت درکار تھی۔ وہ ساری ساری رات جاگ کر خود کا پہرہ دیتا تھا۔

ایسے ہی واپسی میں وہ اس وادی سے گزرا۔ وہ بزرگ فوت ہو چکے تھے۔ اپنا سارا مال اسباب اپنے کسی اور منہ بولے بیٹے کو سونپ گۓ تھے۔ وہ خوش تھا۔ زندگی پرسکون تھی۔ اسے اس سے شدید نفرت ہوئی تھی۔

خیر وہ وہاں سے بھی چل پڑا۔

پھر گزر اس صحرا سے ہوا۔۔۔ اب کی بار بھی وہی تکلیف دہ سفر۔۔۔ وہ پیاس سے مرتا رہا۔ وہ پتھر پانی نہیں دے سکتا تھا۔ وہ نخلستان آ گیا۔ اس نے اس دلدار کو ڈھونڈنا چاہا پر وہ اب اسکی نہیں تھی۔ وہ کسی ایسے کو دل دے چکی تھی جسے اسکی قدر ہوتی۔ اپنی زندگی میں خوش و خرم۔ بال بچے۔ گھر۔۔۔۔

وہ وہاں بھی رکا نہیں۔۔۔ دنیا کا سب سے امیر انسان وہاں کیوں رہتا۔۔۔

وہ اس شہر میں آ نکلا جہاں تجارت سب کے لئیے نافع تھی۔ وہاں روزگار آسان تھا۔ اس نے جو اپنی متاع دکھائی تو ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ سب اسے سراہ رہے تھے۔ اسے دیکھنا چاہتے تھے۔ چھونا چاہتے تھے۔ اور جب دیکھ لیا، چھو لیا تو وہ واپس اپنے اپنے کاموں میں لگ گۓ۔

اس نے بھی رختِ سفر باندھا۔

اسکا آبائی شہر۔۔۔۔ باقی کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ ماں باپ مر کھپ گۓ تھے۔ گھر ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ کوئی رشتے دار نا تھا۔ جو رہ گۓ تھے وہ اسے پہچانتے نہیں تھے۔ اتنے سالوں میں وہ ان کے لئیے بس ایک بدروح بن چکا تھا۔

اب اس نے باقی زندگی آرام سے رہنے کی سوچی۔ ایک بڑا سا گھر، سب آسائشیں۔ امیروں کے سے ٹھاٹھ۔ اچھے کھانے۔ نوکر چاکر۔ وہ اس سونار کے پاس گیا تھا۔

یہ دنیا کا سب سے قیمتی پتھر ہے۔

اس نے خریدنے سے منع کردیا۔ وہ اسکی قیمت نہیں دے سکتا تھا۔ کوئی بھی نہیں دے سکتا تھا۔ وہ سارے شہر میں پھرا۔ کسی کے پاس اتنی دولت نہیں تھی کہ اسے خریدتا۔ خرید بھی لیتا تو کیا فائدہ ہوتا۔ وہ نافع تجارت نہیں تھی۔ وہ بس ایک قیمتی پتھر تھا جس کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا تھا۔

وہ ایک ایک شہر پھرا۔ ملک ملک۔ دیس بدیس۔

کوئی اسے خریدنے کو تیار نہیں تھا۔

میں اسے خرید کر کیا کروں گا ؟؟ کوئی اسے مجھ سے نہیں لے گا۔ کوئی اسے لیکر کرے گا بھی گیا ؟؟ یہ کھانا پینا گھر بار بیوی بچے نہیں ہال سکتا۔ یہ تو بس ایک حسین قیمتی پتھر ہے۔۔۔۔

اور وہ دنیا کا سب سے امیر انسان مفلس ہو گیا۔ لوگ اسے قرض دے دے کر تھک گۓ تھے۔ وہ پیسے واپس نہیں لوٹا سکتا تھا۔ اسکے پاس کل پونجی وہ پتھر تھا جو کسی کام کا نہیں تھا۔ اب اسکے جسم میں بھی اتنی طاقت نہیں تھی کہ کوئی کام کر سکتا۔ وہ نوالوں کے لئیے محتاج تھا۔

سنا ہے سالوں بعد وہ مر گیا تو وہ پتھر اسکی قبر کے کتبے پہ جڑ دیا گیا تھا۔ اس پہ لکھا تھا

دنیا کے سب سے امیر شخص کا مزار کہ جس نے گھر بار، محبت، کاروبار کو چھوڑ کر دنیا کی سب سے قیمتی شے کو چُنا اور بھوک سے مر گیا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود کو لالچ سے بچاؤ ( سورت النساء آیت نمبر 32 )


COMMENTS

Name

After Marriage Based,1,Age Difference Based,1,Armed Forces Based,1,Article,7,complete,2,Complete Novel,631,Contract Marriage,1,Doctor’s Based,1,Ebooks,10,Episodic,278,Feudal System Based,1,Forced Marriage Based Novels,4,Funny Romantic Based,1,Gangster Based,2,HeeR Zadi,1,Hero Boss Based,1,Hero Driver Based,1,Hero Police Officer,1,Horror Novel,2,Hostel Based Romantic,1,Isha Gill,1,Khoon Bha Based,2,Poetry,13,Rayeha Maryam,1,Razia Ahmad,1,Revenge Based,1,Romantic Novel,22,Rude Hero Base,3,Second Marriage Based,1,Short Story,68,youtube,33,
ltr
item
Urdu Novel Links: Dunia Ka Sab Se Ameer Insan By Zaid Zulfiqar Short story
Dunia Ka Sab Se Ameer Insan By Zaid Zulfiqar Short story
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgRK7eBXmJdRa43GmQ72pBbk0PsUyAtFbkGcMsOV553Cq_taoz9r00E36vlgPi_CM115oPkcZskJVCdGePO6lloo-uioa3_rFr58FesMqZWOYhOJkGlvhPwmRPtOgan8TQ9wmrECEWwP2OVX6EW-BTaU_fT3KrsIKxsMS2FgVJ9ObphhCjJ4Zu0BV0U/w400-h400/280561818_487973693082148_2914923447785909318_n.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgRK7eBXmJdRa43GmQ72pBbk0PsUyAtFbkGcMsOV553Cq_taoz9r00E36vlgPi_CM115oPkcZskJVCdGePO6lloo-uioa3_rFr58FesMqZWOYhOJkGlvhPwmRPtOgan8TQ9wmrECEWwP2OVX6EW-BTaU_fT3KrsIKxsMS2FgVJ9ObphhCjJ4Zu0BV0U/s72-w400-c-h400/280561818_487973693082148_2914923447785909318_n.jpg
Urdu Novel Links
https://www.urdunovellinks.com/2022/05/dunia-ka-sab-se-ameer-insan-by-zaid.html
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/2022/05/dunia-ka-sab-se-ameer-insan-by-zaid.html
true
392429665364731745
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content