Dene Walo Ko Diya Jata hai By Zaid Zulfiqar Short story

Dene Walo Ko Diya Jata hai By Zaid Zulfiqar Short story

 Dene Walo Ko Diya Jata hai By Zaid Zulfiqar Short story




دینے والوں کو دیا جاتا ہے

از زید ذوالفقار


ہر طرف ہریالی تھی۔

جدھر نظر جاتی تھی، سبزہ ہی سبزہ دکھائی دیتا تھا۔ وہ ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی جس کے دونوں اطراف میں ایستادہ شہتوت کے درخت سیاہ اور سرخ پھل سے لدے کھڑے تھے، گاؤں کی طرف لے جاتی تھی۔ پانی کے اس شفاف کھالے کے ساتھ ساتھ، اپنے فطری حسن سے باخبر آڑو کے درخت موجود تھے جنکی نازک ڈالیاں گلابی پھولوں سے لدی ہوئی تھیں۔ نازک پھول چھم سے پانی میں گرتے اور دور تک بہتے چلے جاتے تھے۔ اس کے کنارے بہار اپنے ساتھ ہزاروں اور بہاریں لیکر اتری تھی۔ ہلکے نیلے، زرد، سرخ رنگ کے چُنے مُنے پھولوں سے کھالے کے کنارے بھرے پڑے تھے۔ زمین کے کئی چھوٹے بڑے قطعات تھے۔ گندم کے ننھے ننھے پودوں سے ہرے ہرے خوشے سر اٹھارہے تھے۔ ذرا آگے سبزیوں کی فصلیں تھیں۔ موسمی چنے، پیاز، لہسن کے پودے تیار تھے۔ پودینے کی باس سارے میں پھیلی ہوئی تھی۔ آم کے اونچے اونچے تناور درخت نۓ نۓ شگوفے نکال رہے تھے۔ انکی اونچی شاخوں میں لُکن میٹی کھیلتے پرندے اپنی سریلی آوازوں میں ملہار گا رہے تھے۔

بہاروں سے سجے اس گاؤں کے عین وسط میں وہ کئی ایکڑ زمین کا ایک قطعہ تھا جس پہ وحشت برس رہی تھی۔ اس علاقے کی خاک ریت بن کر اڑتی پھرتی تھی۔ بنجر ویران زمین جو ہریالی کا ایک زرہ بھی پیدا کرنے سے قاصر تھی۔ ایک آدھ سوکھا درخت، کچھ جڑی بوٹیاں، خود رو جھاڑیاں اسکا کل اثاثہ تھا۔ اس نخلستان کے وسط میں وہ ریت کا کھنڈر تھا۔ وہ منحوس زمین تھی۔ اسے دھتکار دیا گیا تھا۔ اس زمین کے ہر ذرے سے فراوانی اٹھا لی گئی تھی۔ اس زمین کی مٹی سے پیدا کرنے کا شرف چھین لیا گیا تھا۔ بہاروں کے قافلوں کو وہاں پڑاو ڈالنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہاں ویرانی کےہمیشہ رہنے والے ساۓ ہمیشہ تلک کے لئیے اتار دئیے گۓ تھے۔

وہاں کے باسی روایت کرتے ہیں وہ جگہ ہمیشہ سے ویسی نہیں تھی۔ بہت پہلے سے بہت پہلے وہ جنت کے جیسی ہوا کرتی تھی۔ اس زمین کا مالک فقیر محمد تھا۔ وہ اس گاؤں کا ہی باسی تھا۔ اس کے ہاتھوں میں کوئی جادو تھا۔ اسکے ہاتھ پارس پتھر کے جیسے تھے۔ اسکے ہاتھ لگتے ہی زمین سونا اگلنے لگتی تھی۔ اس کے ہاتھ کے لگائے پودے کبھی خراب نہیں ہوتے تھے۔ اسکی فصل باقی سب کے مقابلے میں زیادہ پیداوار دیتی تھی۔  اسکے فصل کی ترکاری ہر سبزی سے لذیذ ہوتی تھی۔ اسکی زمین کا پھل اپنے ذائقے میں باقی سب پھلوں سے برتر تھا۔ اور اسے اس سب پہ فخر نہیں تھا۔ اپنی ضرورت کی پھل سبزی رکھ کر وہ باقی سب بانٹ دیتا تھا۔ گاؤں میں جس کو ضرورت ہوتی وہ اسکو اناج پہنچاتا۔ جسکو ضرورت ہوتی اسکے ساتھ مدد کرواتا۔ ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ گاؤں میں قحط اتر آیا۔  کھڑی فصلیں بیماری کی نظر ہو گئیں۔ سبزیاں زہریلی ہو گئیں۔ پھل جھڑ گۓ۔ فقیر محمد کی زمین ویسے ہی سونا رہی۔ نا فصل بیمار ہوئ اور نا ہی پھل بیکار ہوۓ۔ سارا گاؤں محتاج ہونے کو تھا۔ پر اس نے کسی کو محتاج ہونے نہیں دیا۔ بوریاں بھر بھر کہ سارے گاؤں میں بانٹ دیں۔

اسکی زندگی کا واحد اثاثہ اسکا چند سالہ بیٹا تھا۔ بیوی بچے کو جنم دیتے ہی گزر گئی تھی۔ بس تب سے وہ ہی اسکا کُل جہان تھا۔ اس دن سارے گاؤں کو دھند اور کہرے نے ڈھانپ رکھا تھا جب فقیر محمد کو اطلاع ملی کہ دوسرے گاؤں میں رہنے والے اسکے بھائی اور بھابھی فوت ہوگۓ ہیں۔ اگلے دن وہ جنازے اور تدفین کے بعد لوٹا تو اسکے ساتھ بھائی کے چھوڑے تین یتیم لڑکے بھی تھے۔ اب فقیر محمد کے چار بیٹے ہوگۓ۔ وہ اس کے ساتھ رہنے لگے اور اسکا ہاتھ بٹانے لگے۔ سونا اگلتی زمین سونا اگلتی رہی۔

وقت کے ساتھ ساتھ تینوں لڑکوں کو پتہ چلا کہ چاچا کتنا بیوقوف ہے۔ وہ انتھک محنت کرتا ہے، دن رات ڈھور ڈنگروں کی طرح محنت کر کے اناج اگاتا ہے اور آخر میں لوگوں میں بانٹ دیتا ہے۔ ساری سبزیاں پھل بس ضرورت پوری کرتی ہیں، منافع تو بانٹ دیا جاتا ہے۔ ارے۔ ایسا کیسے۔ کوئی مفلس ہے تو ہماری بلا سے۔ کوئی بھوکا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہمارا اناج ہماری محنت کی کمائی ہے۔ ہماری زمین خدا کی عطا ہے۔ وہ بھی محنت کریں اور خدا سے زمین مانگ لیں۔ وہ اگر انہیں نہیں دیتا تو یہ خدا اور انکا معاملہ ہے، ہمیں کیا۔ لیکن یہ بات بیوقوف چاچا نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ وہ بانٹنا جانتا تھا، جوڑنا اور جمع کرنا اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ اب کی بار گندم کی فصل سے اپنا حصہ رکھ کر جب اس نے باقی بانٹنا چاہا تو تینوں لڑکوں نے روکا، بار بار منع کیا پر فقیر محمد نے سب بانٹ دیا۔ وہ سب سیخ پا تھے۔

" دیکھو پتر ! ہمیں بھوک لگی، ہم نے اس سے مانگی تو اس نے دیدی۔ اب کوئی بھوکا ہم سے مانگے تو ہم نا دیں ؟؟؟ ارے دینے سے کئی گنا زیادہ واپس ملتا ہے "

پر وہ نا سمجھے۔ جو ہمارا ہے وہ بس ہمارا ہے، اور ہم اپنی شے کسی کو بھی کیوں دیں۔۔۔۔

ایک دن شیطان کا ایک چیلا ادھر آنکلا۔ وہ دلوں میں وسوسے ڈالنے لگا، بے برکتی پھیلانے لگا۔ ان دنوں وہ تینوں بھائی انہی خیالوں میں لگے رہتے تھے کہ چاچے کو کیسے رام کیا جاۓ۔

" آج چاچا ہے، کل نہیں ہوگا، تب تو زمین ہماری ہی ہوگی ناں۔ پھر ہم اپنی مرضی کریں گے " ایک بولا

" کل چاچا نہیں ہوگا پر اسکا پتر ہوگا۔ مالک وہی ہوگا اور ہم ہمیشہ اسکے نوکر " دوسرا بولا۔

تیسرا خاموش رہا۔ شائد شیطان کا چیلا وہی تھا۔ اگلے دن فقیر محمد دھان کی فصل کو پانی لگانے میں مصروف تھا جب اس کے چھوٹے بھائی کے سب سے چھوٹے بیٹے نے آ کر اطلاع دی۔ اسکے بیٹے نے زہریلی کھمبیاں کھا لی تھی۔ وہ جلدی سے گھر کو بھاگا۔ اسکے اکلوتے بیٹے کے منہ سے جھاگ بہہ رہی تھی۔ آنکھیں ماتھے سے جا لگی تھیں۔ وہ زمین پہ پڑا سر کٹے بیل کی مانند تڑپ رہا تھا۔ حکیم کے آنے تک وہ ٹھنڈا پر چکا تھا۔ فقیر محمد کے بین سارے گاؤں میں گونج رہے تھے۔ وہ لڑکا زہریلی کھمبیاں پانی میں کھالے میں بہا آیا۔ چاچا روتا تھا۔ وہ تینوں آنکھوں سے مسکراتے رہے۔ مہینے گزرے، سال گزرے۔ فقیر محمد بیمار ہوا، بستر سے جالگا۔ فالج کے حملے نے اسکی زبان گنگ کردی۔ ہاتھ پاؤں کام کرنا چھوڑ گۓ۔ زمین بھائیوں کی ہوگئی۔ اب بھی باقیوں کے مقابلے کئ گنا زیادہ اناج پیدا ہوتا تھا۔ وہ اسے شہر بیچ آتے۔ مانگنے والوں کو ٹھینگا دکھا دیتے۔ نوٹ ہی نوٹ جمع ہوگۓ۔ اندر کھوٹ ہی کھوٹ۔۔۔

وہ گرمیوں کے دن تھے۔ گندم کے سنہری خوشے پک چکے تھے۔ اندروں میں حبس بچے دینے لگا تھا۔ فقیر محمد عالمِ نزع میں تھا۔ پیاس سے بے حال، فالج زدہ زبان سے وہ " پپ۔۔۔ آنی۔۔۔۔ پپ۔۔۔ پا۔۔۔ " کر رہا تھا۔ اس کی سننے والا کوئی نہیں تھا۔ تینوں بھائی تو ایک اور نئی بات سوچ رہے تھے۔ چاچا کے بعد زمین انکی ہوتی اگر وہ وصیت کرتا۔ اب تینوں نے ڈھونڈنا شروع کیا۔ پرانے بکسے میں وہ ورق ملا۔ چاچے نے کچھ زمین تینوں بھائیوں کو اور باقی کچھ غریبوں کو دینے کا سوچ رکھا تھا۔ بڑے نے وہ وصیت پھاڑی، نئی تیار کی۔ ساری زمین گھر سب اپنے نام لکھا اور چاچے کا انگوٹھا لگوا لیا۔ بوڑھا فقیر محمد پانی پانی کرتا رہا۔ پیاس سے بلکتے ضعیف وجود نے آخری سانس لینے سے پہلے اپنی بوڑھی آنکھوں سے اوپر دیکھا۔ ظاہری آنکھیں تو سکنڈوں کی چھت سے پرے نا دیکھ سکیں لیکن باطن کی نظروں نے تاروں بھرے آسمان سے بھی اوپر، عرش دیکھ لیا تھا۔ دو آنسو اسکے پچکے گالوں پہ بہہ نکلے اور اس نے آخری سسکی لی۔ تینوں بھائی فتح کے نشے میں چُور جا کر سو گۓ۔ رات کے کسی پہر کسی نے اطلاع دی۔ فصل میں نجانے کیسے آگ بھٹک اٹھی تھی۔ وہ جب ےک پہنچے، بھڑ بھڑ جلتی آگ سنہری بالیاں سیاہ کر چکی تھی۔ بڑا بھائی پاگلوں کی طرح اپنی محنت بچانے کو کھیتوں میں اترا۔ آگ کی لپٹوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ باقی دونوں نے بمشکل اسے گھسیٹ کر نکالا۔ اسکے کپڑے جل کر بدن سے چپک چکے تھے۔ کھال آبلوں سے بھری تھی۔ ہر شے راکھ ہو چکی تھی۔ گندم کی فصل بھی اور اعمال کی بھی۔ دنیا بھی، آخرت بھی۔

اگلی صبح گھر میں چاچے کا جنازہ تیار تھا۔ دو بھائی کندھا دے رہے تھے، تیسرا گھر میں تکلیف کے مارے ہاۓ ہاۓ کر رہا تھا۔ آبلوں میں سے پیپ بہنے لگی۔ گھنٹوں میں جسم گلنے لگا۔ حکیم معالجوں نے ہاتھ کھڑے کردئیے۔ مکھیاں بھنبھناتا وجود پانی پانی کرتا رہتا تھا۔ تعفن اٹھنے لگا۔ دونوں بھائیوں کی برداشت جواب دے گئی تو اسے باہر کوڑے کے ڈھیر پہ چھوڑ آۓ۔ بس۔۔۔۔

مہینے گزرے۔ جلی ہوئی زمین صاف کی۔ خوب محنت کر کے نئی فصل اگانے کی کوشش کی۔ سب بیچ باچ زمین پہ لگا دیا۔ اچھی سبزیاں، پھل۔ فصل تیار کھڑی تھی جب کسی بیماری نے زمین پہ حملہ کردیا۔ سنڈیوں نے کُتر کُتر کر سب کاٹ دیا۔ تناور درخت کھڑے کھڑے بنجر ہوگۓ۔ دیمک چھال کا برادہ بنانے لگی۔ پھل سبزیاں مہلک بن گئیں۔ وہ قطعہ زمین جو بہشت سا ہوا کرتا تھا، جہنم کردیا گیا۔ زمین بنجر ہوگئی۔ سارے گاؤں کی زمینیں سونا اگلتی تھیں پر وہاں مردنی چھائ رہتی تھی۔ کچھ لوگوں نے وہاں غلہ اگانا چاہا پر بیکار رہا۔ سبزی کا ایک زرہ تک نا اگ سکا۔

گاؤں کی گلیوں میں وہ دو بھکاری بھیک مانگتے پھرتے تھے۔ انہیں دیکھ کر لوگ دروازے بند کر لیتے تھے کیونکہ وہ سوالیوں پہ دروازے بند کرتے آۓ تھے۔ انکی سوکھی کھالیں بدن سے چپکی تھیں۔ گڈھے نما آنکھیں وحشت زدہ تھیں۔ کبھی کسی کو رحم آتا تو روکھی سوکھی مل جاتی ورنہ کئی کئی روز کے فاقے ہوتے۔ ان میں سے ایک فقیر ایک دن گاؤں کی باہر والی نہر کے پاس مرا ہوا ملا تھا۔ اسکی مٹھی میں کچھ کُھمبیاں دبی تھیں اور اسکے منہ سے جھاگ بہہ رہی تھی۔ دوسرا فقیر اس دن کے بعد سے کسی کو دکھائی نہیں دیا تھا۔

سالوں بیت گۓ۔

وہ زمین کا ٹکڑا ویسے ہی بنجر رہا۔ کوئی پھول بوٹا، کسی پرندے کی چہکار، کوئی فیض اس زمین سے نا پھوٹا۔ وہ زمین جو بانٹنے والے نے ایک بانٹنے والے کو دی تھی، چھیننے والوں سے چھین لی گئی تھی۔



No comments: