--> Choti Dunia By Zoi Rajpoot Short Story | Urdu Novel Links

Choti Dunia By Zoi Rajpoot Short Story

 Choti Dunia By Zoi Rajpoot Short Story چھوٹی دنیا زوئی راجپوت     آہ وہ شام بھی کیا شام تھی جب چچا فرید کے گھر ایک انوکھا بچہ پیدا ہوا ۔۔۔ ...

 Choti Dunia By Zoi Rajpoot Short Story


چھوٹی دنیا

زوئی راجپوت

 

 آہ وہ شام بھی کیا شام تھی جب چچا فرید کے گھر ایک انوکھا بچہ پیدا ہوا ۔۔۔


محلے والے جا جا کر دیکھتے کے آیا کہ یہ بچہ انسان کا بچہ ہی ہے نہ


سردیوں کی شاموں میں سے ایک شام جب شکر پور کے گاؤں میں  چچا فرید کو اس کے دس سالوں کے صبر کا پھل ملنے لگا تھا ۔۔


شھبو او شبھو یہ کیا جن دیا پھولی تو ایسے تھی جیس پوری فوج اندر رکھی ہو اور جنا یہ چھچھوندر  اری یہ تو ہاتھ کا بھی نہیں ۔۔۔


محلے کی عورت شھبو عرف شبنم کو حیران نظروں سے دیکھتی سوال کے ساتھ ساتھ طنز بھی کرتی ہے ۔۔۔۔


نی پرا ہٹ میرے پتر توں تو کی بلا بن کے چمڑ گئی اے ۔۔۔۔

(پیچھے ہٹو میرے بیٹے سے تم کیا بلا کی طرح اس کے ساتھ چپک گئی ہو )

خالص جاہلانہ بولی تعلیم سے کوسوو دور ہونے کی نشاندھی کر رہی تھی ۔۔۔


ہائے ہائے تم تو ایویں ہی بھڑک گئی ۔۔۔


اے میرا پتر اے چل تو گلاں کرن آ جاندی اے اپنی کڑی ویکھی یو۔۔۔


(یہ میرا بیٹا ہے چلو جاؤ یہاں سے باتیں کرنے آ جاتی ہو اپنی بیٹی دیکھی ہے )


ہاں ہاں جا رہے ہیں ہم رکھوں اپنا چھچھوندر اپنے پاس ۔۔۔


محلے والے شبنم کو کوستے نکل آتے ہیں اس کے گھر سے ۔۔۔۔


پیچھے فرید شبنم اور چھوٹی دنیا ہی رہ جاتے ہیں ۔۔۔۔


٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪


پندرہ سال بعد۔۔۔


وقت پر لگا کے اڑا پندرہ سال بیت گے پتہ ہی نہیں چلا  چھوٹی دنیا بھی بڑی ہو گی پر ہائے رے قسمت اب بھی سات سال کی لگتی ۔۔۔


ابے او چھوٹی دنیا  ادھر آ ۔۔۔


وقاص سفیر عرف چھوٹی دنیا کو بلاتا ہے۔۔ چونکہ محلے میں سب سے چھوٹے قد والا سفیر ہی تھا اس لیے سب اسے چھوٹی دنیا کہتے تھے ۔۔۔


کیا ہے وقاص مجھے بہت کام ہیں اس لیے ٹائم نہیں ۔۔۔


فرسٹ ایئر کا سٹوڈنٹ جو اپنے قد و قامت سے پانچویں جماعت کا طالب علم لگتا تھا عجلت میں بولتا ہے ۔۔۔


ابے اور چھچھوندر تو کونسا کاروبار کرتا جو ٹائم نہیں اور مجھے نہ بھائی صاحب کہہ کے بلایا کر آیا بڑا وقاص کہنے والا ۔۔۔


اوہ بنا ٹیسٹ کے ہری مرچ میں تجھے کس خوشی میں بھائی صاحب کہوں ہماری عمر ایک جتنی ہے آیا بڑا بھائی صاحب کہا کر ہنہ۔۔۔


سفیر بھی اسی کے انداز میں اچھی خاصی کرتا اپنے رستے چل پڑتا ہے جب کے پیچھے وقاص اپنا سا منہ لے کے رہ جاتا ہے ۔۔۔


°°°°°°°


سفیر اپنی جسامت سے مطمئن تھا ہوتا بھی کیوں نہ اس نے تھوڑی بنائی تھی یہ جسامت اس کے چھوٹے قد میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا بس اس وجہ سے وہ کسی کی باتوں میں نہیں آتا تھا ۔۔۔


یہ ان دنوں کی بات ہے جب رجب نامی اس کے جگری یار نے اپنی پسند کا اظہار کیا تھا محلے کی سب سے خوبصورت لڑکی سے اور لڑکی کے اقرار پر وہ دوستوں کے پورے ٹولے میں مٹھائیاں بانٹ رہا تھا ۔۔۔


او سفیرے  ادھر آ ۔۔۔


گلی کے موڑ سے گزرتے سفیر کے کانوں میں رجب کی آواز پڑی ۔۔۔۔


ہاں بول جانی کس خوشی میں مٹھائیاں بانٹ رہا ہے ۔۔۔


تیرا بھائی بڑی جلدی شادی کرنے والا ہے ۔۔۔


رجب کی خوشی اس کے چہرے پر صاف  عیاں تھی ۔۔۔۔


ابے یارے کس سے کر رہا ہے کچھ بتا ہمیں بھی ۔۔۔۔


سفیر بھی اپنے بچپن کے جانی کے لیے بہت خوش ہوا ۔۔۔


ارے اپنے محلے کے ماسٹر صاحب کے بڑی بیٹی جویریہ کے ساتھ ۔۔۔


واہ واہ بہت خوشی ہوئی اچھا میں چلتا ہوں کام ہے ۔۔۔


سفیر گھڑی پر تین بجتے دیکھ عجلت میں کہتا ہے ۔۔۔


رک سفیرے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔


ہاں جلدی بول ۔۔۔


بات کچھ یوں ہے سفیرے کے تیری بھابھی کو تو پسند نہیں ہے اس لیے وہ مجھے تیرے ساتھ نہیں دیکھنا چاہتی تو مجھ سے اب نہ ملا کر ویسے بھی سارے باتیں کرتے ہیں کے میں بچوں سے دوستی کرتا ہوں دیکھ تجھ سے تو کوئی شادی کرنے سے رہا اور میں اپنا نقصان نہیں کرا سکتا ۔۔۔۔


سفیر بنا پلک چھپکائے سن رہا تھا سن دماغ سب سوچوں کو مفلوج کر چکی تھی یاد تھا تو اتنا کے جگری یار بھی ساتھ نہ رہا اور باتیں الگ۔۔۔


وہ بغیر کچھ کہے نکل جاتا ہے اور دل میں ایک عہد کرتا ہے ۔۔۔۔


°°°°°°°°

 نو سال بعد ۔۔۔


ابے وقاص یہ شو روم کا مالک بڑا کمینہ ہے دیکھ اگر ادھر نوکری مل گئی تو وارے نیارے ہو جائیں گے ۔۔۔


رجب اپنے دوست وقاص جو کے محلے دار بھی تھا کے ساتھ ایک شو روم کے باہر کھڑے تبصرے کر رہے تھے


ارے رجب تیرے گھر تو آج بچہ ہونے والا تھا پھر بھی تو میرے ساتھ یہاں آ گیا میں بڑا شکر گزار ہوں تیرا ۔۔۔


ابے چھوڑ کہاں کی اولاد ساری کی ساری عذاب ہیں میرے لیے چھچھوندر پے چلی گئی ہیں سب کوئی مجھے سیدھے منہ بلاتا ہی نہیں اچھا ہوا تو محلہ چھوڑ گیا تھا ورنہ تو بھی میرا جینا حرام کرتا۔۔۔۔


ہاہاہاہاہاہاہا حد ہے تو ایسی باتیں تو نہ کر چل اندر چل کر دیکھتے ہیں کہ کچھ بنے گا بھی کہ  نہیں  ۔۔۔۔


ہاں چل ۔۔۔


وہ دونوں اس بڑی سی عمارت میں جاتے ریسیپشن سے جاب انٹرویو کا پوچھتے ہیں ۔۔۔


سر آپ روم نمبر ۴ میں انتظار کرے جب آپ کی باری آئے گی ہم بولا لیں گے ۔۔۔۔


جی ٹھیک ۔۔۔


وہ چار گھنٹے سے وہاں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے جب ریسیپشن پے بیٹھے لڑکے نے ان کو سیدھا بوس کے آفس جانے کو کہا ۔۔۔


وہ دونوں حیران ہوتے چل پڑتے ہیں کمرے کا دروازہ کھٹکھٹے ہوئے اجازت ملتے ہی اندر جاتے ہیں ۔۔۔


اسلام و علیکم سر ۔۔۔۔


واعلیکم السلام


افس میں موجود اس شخص کو دیکھ ان کے منہ میں زبان نہ رہی


سفیر کو دیکھ رجب اور وقاص دونوں ہی دھنگ رہ جاتے ہیں کہاں وہ چھوٹے قد والا جو بلکل نہ بدلا تھا کہاں یہ اتنی بڑی بلڈنگ کا مالک ...


**********


وہ تھکا ہارا اپنے گھر آیا  دروازے پر دستک دیتے اس کے ہاتھ پل بھر کے لیے رکے تھے پر پھر ہمت کی اندر سے شبنم کی آواز نے اس کی رہی سہی ہمت بھی ختم کردی تھی ۔۔۔۔


دروازے کے کھولتے ہی شبنم اپنے لختِ جگر کا سر  جھکا دیکھ پریشان ہو جاتی ہے ۔۔۔۔


ویے سفیرے کی گل اے اینا مویا منہ کیو بنایا ایی


( سفیر کیا بات ہے اتنا پریشان چہرا کیوں بنایا ہے )


 اماں آج تیرا سفیرا ہار گیا تم کہتی تھی کے کبھی ہمت نہیں ہارنا پر آج میں ہار گیا ۔۔۔


سچی بڑا دکھ دے گیا مجھے میرا چھوٹا قد کیا میں اللّٰہ کا بندہ نہیں جو یہ لوگ مجھے عجیب عجیب ناموں سے بلاتے ہیں ۔۔۔


وہ آج اپنی ماں کے سامنے سارے دکھ دھو رہا تھا ۔۔۔


پتر اللّٰہ   سائیں بہت چنگے نے او اپنی بنائی ہر شے نو اپنیا نظراں وچ رکھ دے نے تو کیوں پریشان ہونا اے او رب سائیں سب توں سونا اے ۔۔۔

 

( بیٹا اللّٰہ سائیں بہت اچھے ہیں وہ اپنی بنائی ہر چیز کو اپنی نظروں میں رکھتے ہیں ۔تم کیوں پریشان ہوتے ہو وہ رب سائیں بہت پیارے ہیں )

 

اتنے میں فرید چچا بھی گھر میں قدم رکھتے ہیں ۔۔۔


ٱلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ ٱللَّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ


کیسا ہے میرا شیر ۔۔۔۔


ٹھیک ہوں ابا ۔۔۔


کیا بات ہے میرا شیر اداس ہے ۔۔۔۔


فرید چچا اپنے بیٹے کی اداسی دیکھ اس سے وجہ دریافت کرتے ہیں ۔۔۔


شبنم باپ بیٹے کو باتوں میں دیکھ خود کیچن کا رخ کرتی ہے جہاں شام کے کھانے کا انتظام کرنا تھا ۔۔۔۔


کچھ نہیں ابا بس کبھی کبھی اپنے آپ سے تنگ آ جاتا ہوں ۔۔۔


ارے وہ کیوں۔۔۔


بیٹے کو مایوسی والی باتیں کرتا دیکھ وہ کافی حیران ہوئے ۔۔۔۔۔


ایسا کیا ہو گیا جو تم خود سے بے زار ہو۔۔۔


اپنے بابا کے پوچھنے پر وہ سب کچھ بتا دیتا ہے ایک یہ دونوں ہی تو تھے جو اسے سمجھتے تھے ۔۔۔


ہمم تو یہ بات ہے ۔۔۔


وہ اس کی ساری باتیں سن چپ تھے ۔۔۔


ایک بات یاد رکھنا سفیر احمد یہ دنیا ظالم ہے وقت حالات اور اوقات اپنے قبضے میں کرنا خوب جانتی ہے اور جو وقت حالات اور اوقات قبضہ کر لے وہ کبھی ڈھولتے نہیں ۔۔۔۔


باپ کی نصیحت اس نے دماغ میں لوہے کی کیل کی طرح گاڑ لی تھی ۔۔۔۔


 آنکھوں میں اک چمک تھی جیسے کچھ بڑا کرنے کی ہر کمزوری کو طاقت بنانے کی ۔۔۔


°°°°°°°°°


رجب اور وقاص ہونقوں بنے سفیر جو سربراہی کرسی پر بیٹھا دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔


سف۔یر۔۔۔


وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے کچھ بھی بولنے سے قاصر تھے گویا قوتِ گویائی سلب ہو چکی ہو ۔۔۔۔


بیٹھیں۔۔۔


سفیر بے تاثر لہجے میں ان دونوں سے مخاطب ہوا ۔۔۔


اس کی آواز پر ہوش کی دنیا میں لوٹتے وہ دونوں ہی سفیر کی جانب بڑھنے لگے پر رستے  میں ہی سفیر کی آواز سے رک جاتے ہیں ۔۔۔


سامنے بیٹھے اور اپنی سی وی دیکھائے ۔۔۔


وہ دونوں اس کی بارعب آواز کے آگے چپ ہو گئے وہ چھوٹے قد کا دیکھنے والا آج ایک خوبرو نوجوان (جو جوانی کی دہلیز پر ہو ) کی طرح دیکھتا تھا پر اس کی شخصیت میں ایک رعب تھا کوئی اس سے بات کرنے سے پہلے سوچتا ضرور تھا ۔۔۔۔


وہ وقاص کی سی وی دیکھتے ہوئے اس سے کام پر رکھ لیتا ہے پر کام کی نوعیت سن جہاں وقاص آگ بگولہ ہوا وہی سفیر اس دیکھ ایک طرف کی دل جلانے والی مسکراہٹ پاس کرتا ہے ۔۔۔۔


یہ کیا بکواس ہے سفیرے تو تو جگر ہے اپنا پھر توں ایسا کرے گا سوچا نہیں تھا ۔۔۔


رجب کو رنج پہنچا تھا اس لیے بولے بنا نہ رہ سکا ۔۔۔


نو سال پہلے شکر پور کا سفیر مر چکا ہے ۔۔۔۔


جو یہاں  ہے وہ مسٹر سفیر فرید احمد بیٹھا ہے اس لیے آواز اور لہجہ دونوں دھیمے رکھو ۔۔۔۔


وہ سفیر کی بات سن وہاں سے واک آؤٹ کر جاتے ہیں جبکہ سفیر کافی دیر اس دروازے کو گھورتا رہا جہاں سے وہ گئے تھے پھر سر جھٹک کر اپنے کام میں مشغول ہو گیا اس کے لیے ماضی کو یاد کرنا ناسور کو چھیڑنے کے مترادف تھا ۔۔۔۔


°°°°°°°°°°°


وہاں سے واپسی پر رجب اور وقاص گزرے ماہ و سال یاد کر رہے تھے جیسے جیسے واقعات تازہ ہوئے دماغ کے پردے پر ویسے ویسے وہ شرمندگی کی اتا گہرائیوں میں گرتے گئے  ۔۔۔۔


ٹھیک ہی تو تھا وہ کہاں اسے وہ دوست وہ ہمسائے یا اپنے ملے جو اسے حوصلہ دیتے ۔۔۔۔


گھر پہنچتے ہی رجب کو جب پھر سے بیٹا ہونے کی خبر ملی تو اس کا دل بہت زور سے دھڑکا وہ ابھی دروازے پر ہی اس کے کانوں میں اپنی ماں کی اواز پڑی ۔۔۔


ارے میں تو کہتی تھی اس چھچھوندر سے دور رہ پر نہیں پر گیا نہ اس منحوس کا سایہ ۔۔۔۔


رجب کو بہت رنج ہوا وہ کمرے میں جاتا ہے جہاں جویریہ اپنے نومولود بچے کو گود میں اٹھائے رو رہی تھی اور پاس ہی اس کے دوسرے دونوں بچے بیٹھے باپ کو حسرت بڑی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔


معمولی سی ٹھوکر نے رجب کو اس کی اوقات دیکھا دی تھی اس آج شدت سے اپنا سفیرا یاد آیا جو اس کا جانی اس کا جگر ہوا کرتا تھا ۔۔۔۔


وہ اپنے بچوں کی طرف بڑھتا انہیں سینے سے لگاتا خود بے آواز رو پڑا کیونکہ صرف ان کے قد کی وجہ سے رجب انہیں دھتکارتا تھا پر یہ سب تو اللّٰہ سائیں کے کام تھے پر اسے سمجھنے میں دیر لگ گئی لیکن وہ کہتے ہیں نہ دیر آئے درست آئے ۔۔۔


وہ اپنے بچے کی خوشی میں سارے محلے میں مٹھائیاں تقسیم کرتا ہے جب اس کی ماں اسے کوسنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔


اماں آپ جسے کوس رہی ہو نہ اس کے ہی افس سے دھتکارا ہوا آیا ہوں ۔۔۔


اور جانتی ہو کے مجھے برا نہیں لگا بلکہ اس کے دھتکارنے سے ہی آنکھوں سے غفلت کی پٹی اتری ہے ۔۔۔


اور خدا کو خدا کہیں ان کو بنانے والا وہ رب سائیں ہیں اور اس کی تخلیق کو برا کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔


وہ اتنا کہتا وہاں سے چلا گیا جبکہ پیچھے سب کو سکتے میں چھوڑ گیا ۔۔۔۔


گھر سے نکلنے کے بعد وہ سیدھا گاؤں کے حلوائی کے پاس آیا اور خالص کھوئے والی برفی پیک کروائی جو سفیر کو بہت پسند تھی ۔۔۔


وہ بہت مشکل سے اس کے گھر کو ڈھونڈ پایا تھا اب وہ اس کے گھر کے باہر کھڑا بیل بجانے والا تھا جب پیچھے سے اسے گاڑی کا ہارن سنائی دیا ۔۔۔


وہ گاڑی سفیر کی تھی چمچماتی کالی بڑی سی گاڑی جس کی چمک نے چند پل کے لیے رجب کے انکھیں چندیا دی ۔۔۔۔


وہ گاڑی اندر کھڑی کرتا رجب کو اندر بلانے کا کہتا ہے ۔۔۔


وہ جب اندر گیا تو اس سے گلے لگانے کی حسرت دل میں ابھرنے لگے ۔۔۔


وہ اسے سامنے  مٹھائی رکھتا اس اپنے بیٹے کے بارے میں بتاتا ہے ۔۔۔

مبارک ہو وہ رسمی سا اس جواب دیتا ہے ۔۔۔


وہ ۔ انٹی انکل کہاں ہیں ۔۔۔


عمرے پر گئے ہیں ۔۔۔

 

ماشااللہ ۔۔۔


بہت دیر خاموشی رہی پھر رجب بولنا شروع ہوا ۔۔۔


میرے سب بچے چھوٹے قد کے ہیں ۔۔۔


رجب کے بات سن سفیر کو حیرت ہوئی پر اللّٰہ کے کاموں پر سوال اٹھانے والا وہ کون ہوتا ہے ۔۔۔


میں ان سے بہت چڑتا تھا پر جب تیرے افس سے دھتکارا گیا تب احساس ہوا تو سہی تھا ۔۔۔


میں اپنے بچوں کو اب کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دو گا ان کا اگر کوئی دوست نہ بنا تو میں ہمیشہ دوست رہوں گا ۔۔۔


کب رجب کی آنکھوں سے آنسو گرے اسے احساس تک نہ ہوا ۔۔۔


ہوش تو تب آیا جب سفیر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا


رجب جب تم نے صاف الفاظوں میں مجھے دس سال کی دوستی ختم کرنے کا کہا تھا نہ اس دن میں بہت رویا تھا میں اپنے رب سے شکوہ کر رہا تھا تب ابو نے مجھے سنبھالا جانتے ہو میں اپنی زندگی کے اس مقام پر بھی تمہیں نہیں بھولا تھا ہر وقت نظر میں تھے پر اس وقت دکھ تھا رنج تھا بس ۔۔۔۔


پر اب کچھ نہیں مجھے بہت خوشی ہوئی کے تم نے اپنی اولاد کو دھتکارا نہیں بلکہ اس رستے پر چلتے چلتے موڑ گئے ۔۔۔


وہ اس کی باتیں سنتا اس کے گلے لگ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا دل کا غبار ہلکا ہوا تو دو دوستوں کے درمیان دوری بھی ختم ہوئی ۔۔۔


سفیرے میرا مطلب ۔۔۔


اس کی بات سفیر بیچ میں ہی کاٹ دیتا ہے ۔۔


سفیرا ہی ہوں تیرا نام نہ بدل ۔۔۔


سفیر کی بات سن وہ نم آنکھوں سے مسکرا دیتاہے ۔۔۔۔


جہاں کچھ دیر عرصہ پہلے دو دلوں میں نفرت کی اندیکھی دیوار تھی اس کے گرنے کے بعد وہاں قہقہوں کا راج تھا ۔۔۔


بے شک اللّٰہ کی بنائی کوئی بھی چیز معمولی نہیں ہر ایک کا اپنا اپنا کام ہے ۔۔


کچھ لوگ عبرت کا سامان ہوتے ہیں تو کچھ اس سے سبق سیکھنے والے ۔۔۔


کامیابی ناکام عزت ذلت یہ اب رب سائیں کے ہاتھ میں ہیں انسان کی کیا اوقت کے وہ اس میں مداخلت کر سکے ۔۔۔


رجب اور سفیر بھی اپنے رب سائی کے رضا میں راضی ہو گئے تھے ہاں رجب کو دیر ضرور ہوئی پر وہ بھٹکا نہیں ۔۔۔۔


ادھر سفیر نے اپنے معاشرے کے مطابق کمی کو کبھی کمی نہ جانا اور آج اک دنیا اس کی عزت کرتی تھی وقت گزر جاتا ہے رویے یاد رہتے ہیں کوشش یہ ہی ہونی چاہیے کے دل آزاری نہ ہو کیوں کے سب معاف ہو سکتا ہے کسی کے دل کو توڑنے کی معافی نہیں کیونکہ اس میں رب بستا ہے ۔۔۔۔


ختم شد ۔



COMMENTS

Name

After Marriage Based,1,Age Difference Based,1,Armed Forces Based,1,Article,7,complete,2,Complete Novel,604,Contract Marriage,1,Doctor’s Based,1,Ebooks,9,Episodic,274,Feudal System Based,1,Forced Marriage Based Novels,4,Funny Romantic Based,1,Gangster Based,2,HeeR Zadi,1,Hero Boss Based,1,Hero Driver Based,1,Hero Police Officer,1,Horror Novel,2,Hostel Based Romantic,1,Isha Gill,1,Khoon Bha Based,2,Poetry,13,Rayeha Maryam,1,Razia Ahmad,1,Revenge Based,1,Romantic Novel,20,Rude Hero Base,3,Second Marriage Based,1,Short Story,65,youtube,30,
ltr
item
Urdu Novel Links: Choti Dunia By Zoi Rajpoot Short Story
Choti Dunia By Zoi Rajpoot Short Story
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjAVbg8UElgIvrldh7YZEnmWAb2Fd_zjUYrZTukB91a9eHFfvIYqONRDvoAKMg_BfOh4Ji89Y_iKtPqcqsTte69l6LqoIBhIybbU5rTzFoRv3n-MIEd6qaWo8BvOKblol_92LDPvtx6vh8q0hz8MpM3Qs3o-w3vPy4J1iOSpDUEmvS14zjlzPHyK3bW8A/w400-h297/304993353_203964388640017_4637113214581952652_n.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjAVbg8UElgIvrldh7YZEnmWAb2Fd_zjUYrZTukB91a9eHFfvIYqONRDvoAKMg_BfOh4Ji89Y_iKtPqcqsTte69l6LqoIBhIybbU5rTzFoRv3n-MIEd6qaWo8BvOKblol_92LDPvtx6vh8q0hz8MpM3Qs3o-w3vPy4J1iOSpDUEmvS14zjlzPHyK3bW8A/s72-w400-c-h297/304993353_203964388640017_4637113214581952652_n.jpg
Urdu Novel Links
https://www.urdunovellinks.com/2022/09/choti-dunia-by-zoi-rajpoot-short-story.html
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/2022/09/choti-dunia-by-zoi-rajpoot-short-story.html
true
392429665364731745
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content