--> Meri Rooh Me Basa Hai Tu By Mahnoor Sheikh Episode 1 | Urdu Novel Links

Meri Rooh Me Basa Hai Tu By Mahnoor Sheikh Episode 1

 Meri Rooh Me Basa Hai Tu By Mahnoor Sheikh Episode 1 میری روح میں بسا ہے تو ماہ رُخ شیخ قسط نمبر 1   ہر طرف ڈھول اور شہنائیوں کی آوازیں گون...

 Meri Rooh Me Basa Hai Tu By Mahnoor Sheikh Episode 1


میری روح میں بسا ہے تو


ماہ رُخ شیخ


قسط نمبر 1

 

ہر طرف ڈھول اور شہنائیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔ بلوچوں کی شادیاں ہمیشہ دیکھنے لائق ہوتی تھیں۔۔۔ وہ آج بھی پورے دل اور جوش و خروش سے تمام قدیم رسمیں دوہراتے تھے۔۔۔

سردیوں کی اِس ٹھٹھرتی رات میں بولان کے سب سے معزز سردار قبیلے میں مہندی کا فنکشن اپنے عروج پر تھا۔۔۔۔ وسیع و عریض کھلے میدان میں شامیانے لگائے بڑے پیمانے پر مرد حضرات کے لیے فنکشن ارینج کیا گیا تھا۔۔۔

عورتوں کا انتظام حویلی کے اندر ہی تھا۔۔۔۔

تقریباً تمام مرد رواج کے مطابق سفید پگڑیاں پہنے ہوئے تھے۔۔۔

رات کے اندھیرے میں چاروں طرف جلتی برقی قمقمیں اور سرد ہوا میں پھڑپھڑاتے دیے بہت دلفریب منظر پیش کررہے تھے۔۔۔۔ ایک طرف بڑی بڑی دیگیں چڑھا کر مہمانوں کے لیے لعزیز کھانوں کی تیاریاں جاری تھیں۔۔۔ کوئلوں پر بھنتی سجی کی اشتہار انگیز خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔۔۔

ٹھنڈ کی شدت میں کمی کے لیے آگ جلا کر گرمائش کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔۔ وہاں آئے دوست احباب اور کاندان کے تمام جوشیلے نوجوان ڈھول کی تھاپ پر اپنا مخصوص دو تالی اور تین تالی رقص کرنے میں مصروف تھے۔۔۔

یہاں شادی کے فنکشنز پورا ہفتہ چلا کرتے تھے۔۔۔

جتوئی خاندان کی شادیاں تو ویسے ہی اردگرد کے تمام قبیلوں میں مشہور تھیں۔۔

لوگ اِن کی شادیوں میں شرکت کرنا اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔۔۔

وہ سب رقص انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ سردار ذاکوان جتوئی کی آمد کے بھی منتظر تھے۔۔۔

سردار ذاکوان جتوئی وہاں کا سردار تھا۔۔۔۔ بولان اور اُس کے اردگرد کے علاقوں میں آتے پچاس سے زائد قبائل کا اختیار اُسی کے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔ خاندانی رسم کی وجہ سے اُسے یہ اتنی بڑی زمہ داری بہت کم عمری میں ہی مل گئی تھی۔۔۔ مگر وہ اِسے پوری خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتا آ رہا تھا۔۔۔

اُس کا ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہوتا تھا۔۔۔ کسی میں جرأت نہیں تھی اُس سے انحراف کرنے کی۔۔۔۔ مگر وہاں ایک قبیلہ ایسا بھی تھا جو مسلسل کچھ نہ کچھ اُلٹا سیدھا کرکے سردار ذاکوان جتوئی سے بغاوت کرکے دشمنی مول لے رہا تھا۔۔۔ جو ہمیشہ سے جتوئی خاندان سے سرداری چیھننا چاہتا تھا۔۔ خان قبیلے والے ہر بار منہ کی کھانے کے باوجود بھی نئی سازش کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔۔۔

"لگتا ہے اب سردار سائیں اپنے خاندان کی شادیوں میں بھی شرکت کرنا پسند نہیں کریں گے۔۔۔ یا شاید ہم موجود ہیں اِس میں اِس لیے۔"

جابر خان اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ایک طرف فون ہر کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف اسجد جتوئی کے پاس آیا تھا۔۔۔

"زیادہ خسش فہمیاں مت پالیں خان صاحب۔۔۔ آپ کے لیے ہی اچھا ہے کہ سردار لالہ یہاں موجود نہیں ہیں۔۔۔۔ ورنہ اُن کے سامنے زیادہ دیر ٹک نہیں پاتے آپ۔۔۔۔"

اسجد کو جابر خان ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔۔

وہ انتہائی شرپسند انسان تھا۔۔۔ جسے بس ہر وقت دنگا فساد ہی چاہیئے تھا۔۔۔

پاس کھڑے اقبال جتوئی کے اشارے پر اسجد نے خود کو مزید کچھ سخت کہنے سے روکا تھا۔۔۔

مگر جابر کی نفرت بھری نظریں اسجد پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ یہ سردار ذاکون کی خاطر دو بار اُس کی بے عزتی کرچکا تھا۔۔۔

"اِسے چیلے کو تو میں اب سبق سیکھا کر ہی رہوں گا۔۔۔ کب تک سردار ذاکوان اِن سب کو اپنے پروں میں چھپا کر رکھے گا۔۔۔۔ دیکھتا ہوں میں بھی۔۔۔۔"

مونچھوں کو تاؤ دیتے جابر خان اپنی نئی چال سوچ چکا تھا۔۔۔۔

"سردار سائیں آگئے۔۔۔۔"

دِل شیر کی پکار کے ساتھ ہی کچھ لوگ انٹرنس کی جانب بڑھے تھے۔۔ جبکہ باقی سب کی نظریں اُس طرف جم کر رہ گئی تھیں۔۔۔

جب کچھ لمحوں بعد وائٹ کلف لگے قمیض شلوار میں بلیک شال مضبوط چوڑے شانوں پر پھیلائے سردار ذاکوان جتوئی کسی فاتح کی طرح اندر داخل ہوا تھا۔۔۔ اُس کے تیکھے مغرور نقوش اور اعنابی لبوں سے اُوپر موجود سیاہ گھنی مونچیں۔۔۔۔ اُس کی وجاہت میں مزید اضافہ کردیتی تھیں۔۔۔

وہ یونانی دیوتاؤں جیسا حُسن رکھنے والا اپنے دور کا بے تاج بادشاہ مانا جاتا تھا۔۔۔ جو مشکل سے مشکل سچویش کو بھی اپنے ہاتھ میں کرنا اچھے سے جانتا تھا۔

سر پر پہنی وائٹ پگڑی اُس کی رعب دار شخصیت کو مزید چار چاند لگا رہی تھی۔ جب اپنے ساتھ چلتے اپنے رائٹ ہینڈ دل شیر کی بات پر وہ ہولے سے مسکایا تھا۔ جس پر اُس کے دونوں گالوں پر واضح ہوتے خوبصورت گڑھے دیکھنے والی آنکھوں کو اپنا اسیر بنانے کے لیے کافی تھے،،،،،،

اُس نے وہاں آکر سٹیج پر بیٹھے فیضان جتوئی سے بغل گیر ہوتے وہاں ہوتی تمام چہ مگیوں کو بند کردیا تھا۔،،،،،،

جابر خان کی حسد بھری آگ اگلتی نظریں سردار ذاکوان کے مسکراتے روشن چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔

جس طرح باقی قبیلوں کے بڑے لوگ جھک جھک کر سردار ذاکوان کو مل رہے تھے۔۔۔ اِس بات نے اُس کے حاسدوں کو جلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔

"کیا ہوا جابر خان۔۔۔۔ آپ تو بہت شدت سے منتظر تھے سردار لالہ کے آنے کا۔۔۔۔ اب جاکر ملیں گے نہیں اُن سے۔۔۔۔"

اسجد جابر خان کی مانند پڑتی رنگت دیکھ استہزایہ لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔

اردگرد متوجہ لوگوں کی وجہ سے جابر خان کو ناچار اُٹھ کر جانا پڑا تھا۔

"سلام سردار سائیں۔۔۔۔"

سردار ذاکوان سے ہاتھ ملاتے اُس نے باقی سب کی طرح جھک کر اُس کے ہاتھ پر ماتھا ٹیکا تھا۔۔۔

"کیسے ہو جابر خان؟ "

سردار ذاکوان نے ٹانگ پر ٹانگ رکھے اپنے مخصوص مغرور لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔

"اللہ کا کرم ہے سردار سائیں۔۔۔"

جابر خان مٹھیاں بھینچے بہت مشکل سے اپنا لہجہ ٹھیک رکھتے بولا۔۔۔

"ہممہ بہت بہتر۔۔۔۔ "

ذاکوان خوشی کے موقع پر کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ خانوں سے اُن کے کارناموں کا حساب کل جرگے میں ہی مانگنے والا تھا۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

"اُف کتنی ٹھنڈ ہے۔ مجھے لگتا ہے میں تو اِس ٹھنڈ میں ہی جم جاؤں گی،،،،، اگر آج اسائنمنٹ سبمنٹ نہ کروانی ہوتی تو میں کبھی نہ آتی۔۔۔"

دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلتے عنائشہ سردی سے کانپتے ہوئے بولی تھی،،،،،

اُس کے ساتھ چلتی زرجان نے نگاہیں موڑ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔

نیوی بلو جینز کے اُوپر پنک کلر کا لانگ کوٹ پہنے، سر پر سٹائلش سی گرم پنک کلر کی ہی کیپ پہنے وہ سردی سے لال گلابی ہوتی ہمیشہ کی طرح بے پناہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔ اُس کے سیاہ بال کیپ سے نکلتے شانوں پر پھیلے ہوئے تھے۔۔ جبکہ روئی جیسے نرم گال سردی کی شدت سہتے گلابی ہوچکے تھے۔۔۔۔ زرجان اِس چلتی پھرتی آفت کو دیکھ مسکرا دی تھی۔۔۔۔

یہ نازک سی گڑیا یونی کے ہر لڑکے کی اولین خواہش تھی۔۔۔ بھنوروں کی طرح اُس کے گرد منڈلاتے رہتے تھے۔۔۔ مگر عنائشہ نے آج تک کبھی کسی کی جانب مُڑ کر دیکھا تک نہیں تھا۔۔۔۔

وہ حلیے سے جتنی ماڈرن اور نک چڑی معلوم ہوتی تھی۔۔۔۔ درحقیقت اُتنی ہی سافٹ سپوکن اور اپنی حدود کی پاسداری کرنے والی تھی۔۔۔

بچپن سے جس پہناوے کی عادت تھی وہ چھوڑنا اُس کے لیے کافی مشکل تھا۔۔۔۔

"اب اگر آگئی ہو تو کلاسز تو لو۔۔۔۔ اتنی ٹھنڈ بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔ تھوڑا سا تو برداشت کرنا سیکھو۔۔۔"

زرجان اُسے واپسی کے لیے پر طولتے دیکھ بولی۔۔۔

"نہیں میں سب کچھ برداشت کرسکتی ہوں۔۔ مگر یہ ٹھنڈ بالکل بھی نہیں۔۔۔ میں تو کہتی ہوں۔۔۔ تم بھی چلی جاؤں اپنے ہاسٹل۔۔۔۔"

عنائشہ اُس کے ساتھ کیفے ٹیریا میں داخل ہوتی مفید مشورے سے نوازتے بولی۔۔۔

زرجان عنائشہ کے مقابلے میں بالکل مختلف لڑکی تھی۔۔۔ ہمیشہ بڑی سی چادر کا نقاب لیے، اُس میں خود کو چھپائے رکھنے والی تحمل مزاج سی۔۔۔۔ جبکہ اُس کی نسبت عنائشہ تھوڑی بولڈ تھی۔۔۔ اور اُس سے کہیں زیادہ سٹائلش۔۔۔

کوئی بھی اُنہیں دیکھ کر اِس بات پر یقین نہیں کرسکتا تھا کہ یہ دونوں بیسٹ فرینڈز ہیں۔۔۔۔

عنائشہ ہائی سوسائٹی کی ایک ماڈرن فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔۔۔ جبکہ زرجان کا تعلق بلوچستان کے قبائلی علاقے سے تھا۔۔۔ اُن علاقے میں جہاں ابھی تک دقیانوسی سوچ کے مالک لوگ رہتے تھے۔۔۔ وہیں کچھ ایسے بھی تھے۔۔۔ جو گھر کی بیٹیوں کو بھی بیٹوں کے برابر اہمیت دیتے تھے۔۔۔۔

یہی وجہ تھی کہ زرجان اور اُس کی کزن رامین کو بھی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کوئٹہ بھیجا گیا تھا۔۔۔ وہ دونوں ہاسٹل میں مقیم تھیں۔۔۔۔ اور ہر دو مہینے بعد اپنے گھر جاتی تھیں۔۔۔۔

جہاں زرجان کی عنائشہ سے بہت دوستی تھی۔۔۔ وہیں رامین اور عنائشہ کی بالکل بھی نہیں بنتی تھی۔۔۔۔ رامین کو وہ یونی کی سب سے زیادہ مغرور اور موڈی لڑکی لگتی تھی۔۔۔ جسے اپنے حُسن پر بہت ناز ہو۔۔۔ عنائشہ بھی رامین سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔۔۔ اُس کی اب تک کی لائف میں پہلی دفعہ کوئی اچھی دوست بنی تھی اور وہ تھی زرجان۔۔۔۔ وہ زرجان کے علاوہ کسی اور لڑکی سے بھی زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔۔۔

اُس کے اِس مزاج کی وجہ سے یونی میں اُسے مختلف القابات سے نوازا جاتا تھا۔۔۔ مگر عنائشہ کو کسی کے کچھ بھی کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔

"تمہارا واقعی کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ "

زرجان نے اُس کی بات پر افسوس سے سرہلایا۔

جب اُسی لمحے اُنہیں ساتھ والے ٹیبل سے کچھ شوخ و شریر لڑکوں کے قہقے کی آواز آئی تھی۔۔۔ جہاں وہ ابھی اُن کے تھوڑی دیر بعد ہی آکر بیٹھے تھے۔۔۔

"اوہ تو اب سمجھی میں یہ اُلو کے پٹھے ہمارا پیچھا کررہے ہیں۔۔۔ زرجان سچ بتانا یہ وہیں لڑکے ہیں کیا؟"

عنائشہ اُن لڑکوں کو دیکھتے دانت پیس کر بولی۔۔

"ہاں وہی ہیں۔۔۔ مگر چھوڑو تم۔۔۔ خود ہی بکواس کرکے چپ ہوجائیں گے۔۔۔۔"

زرجان عنائشہ کے غصے سے واقف تھی۔۔۔ اِس لیے نارمل سے انداز میں بولی۔۔۔

یہ لڑکے پچھلے کئی دنوں سے اُسے تنگ کررہے تھے۔۔۔ اُس نے عنائشہ کو اِس بارے میں بتایا تھا۔۔۔ اور آج پہلی بار ہی تھا کہ وہ عنائشہ کے سامنے یہ سب کررہے تھے۔۔۔

"ہم لڑکیاں یہی کمزوری دکھا کر۔۔۔ اِن آوارہ چھچھوروں کو شے دے دیتی ہیں۔۔۔ اِنہیں خاموشی کی زبان بالکل سمجھ نہیں آتی۔۔۔ جتنا ڈرو گی یہ اُتنا شیر بنیں گے۔۔۔۔"

عنائشہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔ کیونکہ اب اُن لڑکوں نے آہستہ آواز میں زرجان کے نقاب پر فقرے کسنا شروع کردیا تھا۔۔۔

"کیا ہوا؟ پہلی بار چادر میں لڑکی دیکھی ہے۔۔۔ گھر میں ماں بہن چادریں نہیں اوڑھتیں۔۔۔ یا اُن کو بھی چادریّ اوڑھتے دیکھ ایسے ہی سیٹیاں مارتے ہو۔۔۔ بولو اب۔۔ بولتی کیوں بند ہوگئی؟ اُنہیں بھی ایسے ہی غلیظ نگاہوں سے گھورتے ہو؟… "

عنائشہ کا پارہ چڑھ چکا تھا۔۔۔

باقی سٹوڈنٹس بھی اُن کی جانب متوجہ ہوچکے تھے۔۔۔ زرجان نے اُسے روکنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر وہ اِس وقت سننے کو تیار نہیں تھی۔۔۔

"اے لڑکی زبان سنبھال کے بات کر۔۔۔"

اُن میں سے ایک لڑکا عنائشہ کی بات پر آگ بھگولا ہوتا اُنگلی اُٹھا کر عنائشہ کو مزید کچھ بولنے ہی والا تھا۔۔۔ جب عنائشہ نے سامنے پڑی اُسی کی گرم چائے اُٹھاتے اُس پر اُنڈیل دی تھی۔۔۔

"عنائشہ اعظم خان کہ سامنے آئندہ اُنگلی اُٹھا کر بات کرنے کی کوشش مت کرنا۔۔۔ آج تو صرف جلائی ہے اگلی بار توڑ دوں گی۔۔۔ اور اگر آئندہ میری دوست یا کسی لڑکی کو بھی تنگ کیا تو کسی کو شکل دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گی میں۔۔۔"

عنائشہ اُسے غضب ناک نگاہوں سے وارن کرتی زرجان کا ہاتھ پکڑتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔

پورے کیفے میں سناٹا چھا گیا تھا۔۔۔ عنائشہ اعظم خان کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی۔۔ اِس بات پر سب کو غصہ آتا تھا۔۔۔

مگر جب وہ کسی سے بات کرتی تھی تو دو پل میں ایسے ہی عزت اُتار کر رکھ دیتی تھی۔۔۔ اِس لیے اب سب خود ہی اُس سے دور رہتے تھے۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆

"میم ابھی آدھے گھنٹے بعد آپ کی بیرسٹر آفندی صاحب کے ساتھ میٹنگ ہے۔۔۔ یہ اُس کی فائل جو آپ نے منگوائی تھی۔۔"

مہناز بیگم کی سیکرٹری اُن کے پاس کھڑی اُنہیں ریمانڈ کرواتے بولی۔

"ہمم ٹھیک ہے۔۔۔ تم جاؤ۔۔۔"

مہناز بیگم اپنی پیشانی مسلتے اُسے وہاں سے جانے کا اشارہ کر گئی تھیں۔۔۔

اُس کے جاتے ہی اُنہوں نے موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کرتے کان سے لگایا تھا۔۔۔

تیسری بیل پر کال اٹینڈ کرلی گئی تھی۔۔۔

"سردار ذاکوان جتوئی سپیکنگ۔"

دوسری جانب سے اُبھرتی بھاری آواز مہناز بیگم جیسی خاتون کے ماتھے پر بھی پسینے کی بوندے چھوڑ گئی تھی۔۔۔

"میری بیٹی کو طلاق دینے کی کیا قیمت چاہتے ہیں آپ۔۔۔ میں بہت اچھے سے جانتی ہوں کہ آپ کو اُس میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔ ماضی میں کی گئی میری غلطیوں کی سزا اُسے مت دیں۔۔۔ وہ بہت معصوم اور نازک ہے آپ کی حویلی کا سخت دستور برادشت نہیں کرسکتی،،،"

مہناز بیگم آج پھر اُس قلعے سے سر پھوڑنے کا ارادہ کرچکی تھیں۔

مہناز بیگم کی بات کے جواب میں سردار ذاکوان کا جاندار قہقہ سپیکر پر اُبھرا تھا۔

"میری سابقہ چچی جان بہت اچھے سے جانتی ہیں آپ مجھے۔ یہ سچ ہے مجھے آپ کی بیٹی میں ایک پرسنٹ بھی دلچسپی نہیں ہے۔ مگر سردار ذاکوان کی جس شے پر مہر لگ جائے وہ اُسے کبھی اپنے نام سے جدا نہیں کرتا۔۔۔ مجھے کریم جتوئی سمجھنے کی بھول مت کیجئے گا۔ اور یہ سب وکیلوں کے چکر میں اُلجھ کر آپ اپنی بیٹی کے لیے مشکلات کھڑی کررہی ہیں۔۔۔ کیونکہ آنا تو ایک دن اُسے میری دسترس میں ہی ہے۔ چاہے اپنی مرضی سے آئے یا زبردستی۔۔۔ چوائس اُسی کے پاس رہے گی۔"

سردار ذاکوان اپنے مخصوص لہجے میں بولتا مہناز بیگم کو خاموش کروا گیا تھا۔

 

جاری ہے





COMMENTS

Name

After Marriage Based,1,Age Difference Based,1,Armed Forces Based,1,Article,7,complete,2,Complete Novel,611,Contract Marriage,1,Doctor’s Based,1,Ebooks,9,Episodic,277,Feudal System Based,1,Forced Marriage Based Novels,4,Funny Romantic Based,1,Gangster Based,2,HeeR Zadi,1,Hero Boss Based,1,Hero Driver Based,1,Hero Police Officer,1,Horror Novel,2,Hostel Based Romantic,1,Isha Gill,1,Khoon Bha Based,2,Poetry,13,Rayeha Maryam,1,Razia Ahmad,1,Revenge Based,1,Romantic Novel,22,Rude Hero Base,3,Second Marriage Based,1,Short Story,68,youtube,30,
ltr
item
Urdu Novel Links: Meri Rooh Me Basa Hai Tu By Mahnoor Sheikh Episode 1
Meri Rooh Me Basa Hai Tu By Mahnoor Sheikh Episode 1
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi2Sm2TqCXuJaOPD6TnWjAIG-gYIo5vdYT1V5-ktLYQn20dWgusYxCjo9C5qbxdxSeTCnr-Gc-E8ZTXs79eHcdDyh79T6r7Iy_tWP3ISfojEDG2N6ZAyQ25P87NwtkKBbKYcfbAGov09v0Boy-1IJOtJUJ66n1uDnkYlREi410PncRHBi9gSqcHaz3A/w400-h275/299015422_549290350283815_6861974735874726941_n.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi2Sm2TqCXuJaOPD6TnWjAIG-gYIo5vdYT1V5-ktLYQn20dWgusYxCjo9C5qbxdxSeTCnr-Gc-E8ZTXs79eHcdDyh79T6r7Iy_tWP3ISfojEDG2N6ZAyQ25P87NwtkKBbKYcfbAGov09v0Boy-1IJOtJUJ66n1uDnkYlREi410PncRHBi9gSqcHaz3A/s72-w400-c-h275/299015422_549290350283815_6861974735874726941_n.jpg
Urdu Novel Links
https://www.urdunovellinks.com/2022/08/meri-rooh-me-basa-hai-tu-by-mahnoor.html
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/2022/08/meri-rooh-me-basa-hai-tu-by-mahnoor.html
true
392429665364731745
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content