--> Haq E Dosti By Zara Shabir Short Story | Urdu Novel Links

Haq E Dosti By Zara Shabir Short Story

Haq E Dosti By Zara Shabir Short Story حقِ دوستی زارا شبیر " کیا بات ہے نور محمّد یہاں کیوں بیٹھے ہو سب خیر ہے نا گھر نہیں چلنا آج کیا۔...

Haq E Dosti By Zara Shabir Short Story



حقِ دوستی

زارا شبیر



"کیا بات ہے نور محمّد یہاں کیوں بیٹھے ہو سب خیر ہے نا گھر نہیں چلنا آج کیا۔ولی یار نے ایک نظر تپتے آسمان کو دیکھا جہاں سے سورج  آگ برسا رہا  تھا_

"کس سوچ میں ہے تو چل گھر چلیں دیکھ کتنی گرمی ہے ،ولی یار نے چپ بیٹھے نور محمّد سے کہا جو ولی یار کو دیکھ کر آنکھیں صاف کرنے لگا تھا۔

"تو رو رہا ہے !!!

"نور محمّد کو آنکھیں صاف کرتا دیکھ کر ولی یار نے کہا اور اس کے پاس چارپائی پر بیٹھ گیا۔

"نا۔۔۔نہیں رو نہیں رہا چل گھر چلیں ستارہ پتر انتظار کر رہی ہو گی  روٹی پر۔۔

"نور محمد تو مجھ سے کچھ چھپا رہا ہے،ولی یار نے نے محسوس کر لیا تھا اس کے یار کو کوئی پریشانی ہے جو اتنا پریشان ہے۔

"تجھے قسم ہے ہماری دوستی کی بتا کیا بات ہے،نور محمّد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھا جس سے مجبوراً نور محمّد کو بات بتانی پڑی ۔۔

"ولی یار خود بھی پریشان ہو گیا تھا لیکن اس نے نور محمّد پر ظاہر نا کیا اور اسے حوصلہ دیتے ہوئے گھر لے آیا جہاں ستارہ نور محمّد کی اکلوتی بیٹی کھانا لگائے باپ کا انتظار کر رہی تھی۔

"ابا کہاں رہ گئے تھے آج پورے ایک گھنٹہ لیٹ  آئیں ہیں کھانا بھی ٹھنڈا ہو گیا ہے،ستارہ نے منہ پھلا کر کہا اور جلدی جلدی باپ اور چچا کو ٹھنڈی لسی گلاسوں میں ڈال کر دینے لگی ۔

"بس میرا پتر تھوڑا زمین پر کام بڑھ گیا تھا اس لئے لیٹ ہو گئے تو بتا تو نے کھانا کھا لیا یا بھوکی بیٹھی رہی ہمارے انتظار میں۔۔نور محمد نے بیٹی کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا اور پوچھا!

"ابا ایسا ہوا ہے کبھی تیرے بغیر کھانا کھایا ہو،جب تک تیرے ہاتھ کا پہلا نوالہ میرے منہ میں نہیں جاتا تب تک مجھ سے کھایا نہیں جاتا ستارہ نے خفگی سے کہا_

" چل پتر معاف کر دے آئندہ ایسا نہیں ہو گا چل تو کھانا لگا ہم ہاتھ دھو کر آتے ہیں،نور محمّد نے پیار سے بیٹی کو ساتھ لگا کر کہا جس پر وہ مسکراتے ہوئے کھانا گرم کرنے چلی گئی۔

"مریم (بیوی) کی موت کے بعد میرے جینے کا سہارا ستارہ ہی ہے ولی یار،

"جانتا ہوں تو اپنی بیٹی سے کتنا پیار کرتا ہے اسی لئے اس کے لئے اتنا کر رہا ہے_

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

"تو کیا سوچا ہے تو نے نور محمّد کیسے کرے گا یہ سب،ولی یار نے اگلے دن کھیت میں پانی لگاتے نور محمّد سے پوچھا"

"کچھ نا کچھ ہو جائے گا انتظام یار بس ایک بار میری بیٹی کا گھر بس جائے مجھے بھی سکون آجائے گا_

"وہ تو تیری بات ٹھیک ہے لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں ہے آج تو ان کی ایک ڈیما نڈ پورے کرے گا کل کو وہ مزید کریں گا تو جانتا ہے ایسے لوگ لالچی ہوتے ہیں انہیں صرف مال سے پیار ہوتا ہے میں تو کہتا ہوں ایک بار اچھی طرح سوچ لے ستارہ بیٹی کی زندگی کا سوال ہے مجھے اس کی بہت فکر ہونے لگی ہے اب،کاش ہم رشتہ دینے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لیتے تو آج یہ دن دیکھنا نا پڑتا"ولی یار نے کہا

"اب کیا ہو سکتا ہے جو ہونا تھا ہو گیا اب ایسے موڑ پر اگر انہوں نے رشتہ توڑ دیا تو، شادی کی تیاری چل رہی ہے شادی میں دس دن رہ گئے ہیں میں لوگوں کو کیا کیا جواب دوں گا کیوں رشتہ ختم ہوا،اور سب سے بڑی بات ولی یار ستارہ کی خوشی اس رشتے میں شامل ہے زمان کو پسند کرتی ہے،میں اپنی بیٹی کی خوشیاں برباد نہیں کر سکتا اپنے ہاتھوں، میرا سب کچھ میری بیٹی کا ہی ہے اس لئے میں نے سوچ لیا ہے میں اپنی زمین بیچ کر اس کے سسرال والوں کو خوش کر دیتا ہوں۔

"نور محمّد کی بات پر ولی یار نے حیرت سے اسے دیکھا!

"یار ایسے نا دیکھ میں مجبور ہوں میرے پاس جتنے پیسے تھے وہ شادی کی تیاریوں میں لگ گئے کپڑا اور زیور بنانے میں، باقی پیسے بارات کے انتظامات کے لئے سمبھال لئے ہیں اب واحد یہی حل ہے زمین بیچ کر پیسے انہیں دے دوں ورنہ وہ رشتہ توڑنے کی بات کر رہے تھے،میری بیٹی کی عزت کا سوال ہے یار لوگ ہزار باتیں کریں گے ایک طرف ستارہ کی خوشی اور عزت کا سوال ہے تو دوسری طرف یہ زمین جو مجھے بیٹی طرح پیاری ہے۔

"نور محمّد بے بسی کی انتہا کو پہنچ چکا تھا_

"کاش نور محمد میرا کوئی بیٹا ہوتا تو،ولی یار نے دل سوچا اور نور محمد کو سینے سے لگا لیا۔

"اور شام کو اپنی جما پنجھی لے کر نور محمد کے پاس آگیا،

"ستارہ گھر پر نہیں تھی"

"یہ سب کیا ہے ولی یار۔۔۔۔

"سونے کا ایک سیٹ اور کچھ نقدی دیکھ کر نور محمّد نے پوچھا!

"یہ میری طرف سے ستارہ بیٹی کے لئے تحفہ ہے اس کے لئے لایا ہوں"

"لیکن اس سب کی ضرورت نہیں ہے انتظام ہو گیا ہے اور ویسے بھی یہ سب رانی بیٹی کا ہے ،نور محمد نے پیسے اور زیور واپس کرتے ہوئے کہا

"جانتا ہوں ضرورت ہے اسی لئے زمین بیچ رہا ہے انہیں پانچ لاکھ دینے کے لئے"۔

"ستارہ میری بھی بیٹی ہے بالکل رانی کی طرح ہے،جب رانی کی شادی ہوئی تب اور بن جائے گا ابھی تو یہ رکھ لے تو ستارہ بیٹی کی قسم ہے انکار نا کرنا،ولی یار نے اپنی منا کر سانس لیا_

"یہ دو لاکھ ہیں اور تین تولے کا سیٹ ہے اسے بیچ کر پیسے لے کر ستارہ کے سسرال والوں کو دے دینا۔

"لیکن یار!!!!!!

"نور محمّد نے ولی یار کو سینے سے لگا لیا اور رونے لگا"

"ولی یار نور محمد کا بچپن کا دوست تھا_

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

"اگلے ہی دن  نور محمد جا کر زیور بیچ آیا، جو کہ ساڑھے تین لاکھ میں بکا، اور باقی دو لاکھ ملا کر  پانچ لاکھ پورا کیا، اور ولی یار کے ساتھ جا کر ستارہ کے سسرال دے آیا۔

"نور محمد نے پچاس ہزار ولی یار کو واپس دینا چاہے لیکن اس نے لینے سے انکار کر دیا۔

"جس پر نور محمد نے وہ پیسے پاس ہی رکھ لئے اور شادی کی باقی انتظامات دیکھنے لگا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

"ستارہ مایوں بیٹھ چکی تھی،

"روز شام کو محلے کی عورتیں آتی اور گیت گاتی"

"ستارہ کی پھوپھی اور اس کی دونوں بیٹیاں جو کہ شادی شدہ تھی اور ایک بیٹا بھی شادی کے لئے ان کے گھر آگئے تھے اس کے علاوہ ستارہ کی ماسی جن کا گھر نزدیک ہی تھا روز شام کو آتی اور گیت گا کر چلی جاتی"

"ستارہ جتنی خوش تھی اس سے زیادہ اداس بھی تھی_

"باپ کو اکیلا چھوڑ کر جانے کی فکر بھی تھی تو دوسری طرف پسند کی شادی پر خوش بھی تھی"

"بار بار آنکھیں صاف کرتی اور پیار بھری نظروں سے باپ کو دیکھ رہی تھی جو ولی یار سے بات میں مصروف تھا۔

"ستارہ کی نظروں کا تپش پا کر نور محمد اس کے پاس آگیا اور سینے سے بیٹی کو لگا لیا،باپ کے سینے سے لگتے ہی ستارہ رونے لگی اور نور محمد کی خود کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھی"

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

"زمان ستارہ کی دوست صائمہ کا بھائی تھا،صائمہ اسکول کی دوست تھی ستارہ کی،زمان  اسکول سے لینے بہن کو لینے آیا کرتا تھا اس وقت ستارہ اور صائمہ نویں کلاس میں پڑھتی تھی۔

"وہیں زمان کی  ستارہ سے ملاقات ہوئی اور نظروں کا  تبادلہ ہوا"

"زمان ہر روز ستارہ کو دیکھنے کے لئے صائمہ کو چھوڑنے آتا"

"اور ستارہ سے ملاقات ہو جاتی،دونو ں کے میٹرک کرنے تک زمان  روز صبح بہن کو چھوڑنے آتا اور واپس لینے،صائمہ کی زبانی ستارہ کو علم ہوا زمان ستارہ کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہے اور اس سے ملنا چاہتا ہے_

"پہلے تو ستارہ ڈر گئی لیکن پھر صائمہ کے سمجھانے پر وہ ملنے پر راضی ہو گئی اس طرح آئستہ آئستہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے اور پھر اس طرح ستارہ کے ایف اے کرنے تک زمان اور ستارہ ایک دوسرے کے پیار میں گرفتار ہو چکے تھے۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

"زمان ایک لالچی قسم کا لڑکا تھا،وہ جانتا تھا ستارہ اپنے باپ کی اکلوتی اولاد ہے اور جو کچھ ہے سب ستارہ کا ہی ہے"

"صائمہ بھی بھائی کی باتوں میں آگئی تھی اور دوستی کا غلط استعمال کرنے لگی تھی"

"زمان اور صائمہ اپنی ماں کے ساتھ رہتے تھے باپ کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا_

"صائمہ نے بہانے بہانے سے ستارہ سے کہیں بار پیسے لئے،اور پھر ایک دن صائمہ اور اس کی ماں ستارہ کا رشتہ لے کر آگئی_

"صائمہ اور ستارہ کی دوستی اور دوسرا ستارہ کی خوشی کی خاطر نور محمّد نے اس رشتے کے لیے ہاں کر دی اور ایسے  ستارہ  اور زمان کا رشتہ پکا ہو گیا اور شادی کی تیاریاں شرو ع ہو گئی_

"زمان شہر میں کپڑے بنانے ولی  فیکٹری میں کام کرتا تھا،یہی بات بتا کر صائمہ اور سفیرہ بی بی نے نور محمد سے ستارہ کا رشتہ لیا تھا،لیکن حقیقت اس کے بالکل الٹ تھی۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

"آج ستارہ کی بارات تھی،نور محمد پاگلوں کی طرح ادر سے ادھر چکر لگا رہا تھا۔

"لڑکے والوں پہنچ چکے تھے نور محمد نے اپنی حثیت کے مطابق بارات کا استقبال کیا اور انہیں صحن میں لگے ٹینٹ کے نیچے بٹھایا جہاں پنکھے اور ایئر کولر سے لگا کر گرمی کی شدت کو کم کیا گیا تھا،قدرت خدا کی آج دھوپ بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہی تھی"

"ستارہ بھی کمرے میں تیار بیٹھی تھی اور دوستیں اسے تنگ کرنے میں لگی تھی اور وہ شرما رہی تھی_

اچانک باہر سے آنے والے شور نے کمرے میں خاموشی پیدا کر دی اور اس کے ساتھ ہی جو خبر باہر سے اسے پھوپھی کی بیٹی نے آ کر سنائی اسے سن کر وہ سن سی ہو گئی اور ہوش آنے پر باہر کی طرف بھاگی۔

"پہلے بات بند کمرے میں ہو رہی تھی لیکن جب نور محمد نے انکار کیا تو زمان باہر نکل آیا جوش میں اس کے ساتھ بہن اور ماں بھی موجود تھی۔

"خدا کا واسطہ ہی ایسا نا کرو میری بیٹی کی عزت کا سوال ہے ایسے دروازے پر آ کر بارات لوٹ گئی تو دوبارہ اس کی کبھی شادی نہیں ہو سکے گی،میں نے اپنا سب کچھ تم لوگوں کو دے دیا ہے اب میرے پاس مزید دینے کو کچھ نہیں بچا،نور محمد مجمے میں ہاتھ باندھے کھڑا منتیں کر رہا تھا_

"ستارہ کی آنکھیں حیرت کے باعث کھل گئی تھی۔

"ستارہ کے سسرال والے مزید پانچ لاکھ کی ڈیمانڈ کر رہے تھے_

"پانچ لاکھ نہیں ہیں تو زمین تو ہے نا وہی دے دو ادھر زمین نام کرو ادھر میں تمہاری بیٹی سے نکاح کر لیتا ہوں،شرط منظور ہے تو ٹھیک ورنہ بیٹھاؤ اپنی بیٹی اپنے گھر ہم واپس جا رہے ہیں"

"زمان نے مغرور لہجے میں کہا"

"ولی یار کی غصے سے حالت خراب ہو رہی تھے اور نور محمد کی بدنامی کی وجہ سے اس سے پہلے نور محمد کچھ کہہ پاتا ستارہ زمان کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی"

"تم ایک انتہائی لالچی قسم کے انسان ہو،بس بہت ہو  گیا تمہارا ڈرامہ اب مزید نہیں،تم کیا سمجھتے ہو تم میرے باپ کو بلیک میل کر کے ایسے لوٹتے رہو گے،شکر ہے تم  جیسے لالچی انسان کی فطرت میرے سامنے آگئی،تم کیا انکار کرو گے میں سب کے سامنے تم جیسے انسان پر تھوکتی ہوں نکل جاؤ میرے گھر سے دوبارہ کبھی اپنی شکل بھی نا دکھانا مجھے،زمان کے لئے یہ سب یک دم الٹا ثابت ہوا اس کا کھیل اسی پر الٹا ہو گیا تھا،وہ جو سمجھ رہا تھا زمیں اس کے نام ہو جائے گی اور ستارہ کو کچھ پتا بھی نہیں چلے گا۔

"نکل جاؤ میرے گھر سے ابھی اور اسی وقت ستارہ چیخ کر بولی جس پر سب باراتی کانوں کو ہاتھ لگاتے باہر کی جانب بڑھنے لگے،اور تم یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو نکلو یہاں سے،نور محمد نے ستارہ کو روکنا چاہا اور زمیں زمان کے نام کرنے کا کہا لیکن ستارہ نے صاف انکار کر دیا۔

"ستارہ میری دھی نا کر ایسا لوگ باتیں کریں گے جن لڑکیوں کی باراتیں گھر کے دروازے سے لوٹ جائیں ان کی دوبارہ شادیاں نہیں ہوتی،لوگ باتیں کرتے ہیں،نور محمد نے روتے ہوئے کہا!

"کس نے کہا دوبارہ شادیاں نہیں ہوتی میں کروں گا تمہاری بیٹی کی شادی اپنے بیٹے سے،اچانک ٹینٹ میں یک دم خاموشی چھا گئی"

"آواز کی سمت نور محمد نے مڑ کر دیکھا جہاں سفید مایا لگی شلوار قمیض پہنے انہی کی عمر کا مرد کھڑا تھا، ایک سیکنڈ لگا نور محمد کو  پہچاننے میں اور پھر نور محمد اس وجود کے گلے لگ گیا،یہ آواز کسی اور کی نہیں ولید خان کی تھی،جو کسی زمانے میں نور محمد کے اسکول کا دوست رہ چکا تھا۔

"گرفتار کر لو اسے اور لے چلو دیکھنا بھاگنے نا پائے،زمان بھاگنے کی کوشش میں تھا ٹینٹ میں داخل ہوتے پولیس یونیفارم میں موجود نوجوان نے باقی ساتھیوں سے کہا"

"اگلے دو  منٹ بعد زمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا_

"یہ انتہائی درجے کا ڈاکو ہے اس پر بہت سے بینک لوٹنے کے ثبوت موجود ہیں،کافی دنوں سے اسے پکڑنے کی کوشش میں تھے آج ہی خبر ملی یہ یہاں پر موجود ہے،معذرت کے ساتھ آپ کی بیٹی کی شادی ہے اس کے ساتھ لیکن اس شادی سے زیادہ ضروری اس کی گرفتاری تھی،کہنے کے ساتھ ہی حسن نے نوجوانوں کو اشارہ کیا اور وہ زمان کو لے کر چلے گئے۔

"یہ ہے میرا بیٹا اے_ایس_پی حسن ولید خان بیٹا سلام کرو یہ میرے بچپن کا دوست ہے نور محمد جس کی میں اکثر تم سے باتیں کیا کرتا تھا۔

"باپ کے کہنے پر حسن نے جھک کر نور محمد کو سلام کیا_

"نور محمد بتاؤ تمہیں میرا بیٹا اپنی فرزندی میں قبول ہے،نور محمد کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور دھیرے سے سر ہلا دیا،اگلے دس منٹ بعد ستارہ اور حسن کا نکاح پڑھا دیا گیا_

"یار تیرا احسان میں کبھی نہیں بھولوں گا تم نے جو کچھ میری بچی کے لئے کیا_

"اس میں احسان والی کون سی بات ہے،

برسوں پہلے جو تم نے مجھ پر احسان کیا تھا یہ تو اس کے مقابلے میں کچھ نہیں یار،اگر اس وقت تو نا ہوتا تو آج میں اس مقام پر نا ہوتا،ولید خان نے برسوں کیا گیا نور محمد کا احسان اسے یاد کروایا جس میں ولید خان کو پیسوں کی سخت ضرورت تھی میٹرک کا داخلہ بھیجنے کے لئے  پاس پیسے نہیں تھے،ایسے میں جب نور محمد کو پتا چلا ان کے دوست کے پاس پیسے نہیں داخلہ بھیجنے کے لیے انہوں نے اپنی فیس کے پیسے انہیں دے دیئے اور خود میٹرک کے امتحان میں شامل نا ہوئے،اور ولید خان میٹرک میں اچھے نمبروں سے پاس ہونے کی وجہ سے اسکولر شپ پر پڑھنے کے لئے باہر چلے گئے_

"اور باقی تعلیم وہیں مکمل کرنے کے بعد جاب کرنے لگے اور وہیں شادی کر لی،کافی عرصہ وہیں رہے اور پھر چار سال پہلے پاکستان واپس لوٹ آئے اور نور محمد کو ڈھونڈنے لگے ،ان کے آبائی گاؤں بھی گئے لیکن لوگوں سے پتا چلا یہاں سے سب بیچ کر وہ لوگ کہیں اور چلے گئے ہیں،اور پھر آخر تیرا پتا مجھے مل ہی گیا جس روز تو شہر آیا تھا زیور بیچنے کے لئے اس روز تجھے دیکھا اور پھر ولی یار سے ملنے کے بعد اس نے مجھے سب بتا دیا بس پھر میں تجھے ملنے کے لئے آگیا اور تیری بیٹی کی شادی پر شرکت کرنے کے لئے،

"برسوں پہلے تو نے جو دوستی کا حق نبھایا تھا خود تعلیم ادھوری چھوڑ دی میرے لئے،تیرا وہ احسان میں کبھی نہیں بھول سکتا یار آج میں اور میری اولاد جو کچھ ہیں تیری وجہ سے ہیں،تو نے دوستی کا حق ادا کر دیا تھا میرا حق ادا کرنا باقی تھا_

"آج پھر تو نے میرے بیٹے کو اپنی فرزندی میں قبول کر کے دوستی کا حق ادا کر دیا تو نے مجھے پھر سے خرید لیا ہے نور محمد،کہنے کے ساتھ ہی ولید خان نے نور محمد کو سینے کے ساتھ لگا لیا۔

"ستارہ نے اپنے ساتھ کھڑے حسن ولید کو دیکھا جو باپ کا اپنے دوست کے لئے اتنا پیار اور احترام دیکھ کر خوش ہو رہا تھا"

"کھانا کھلانے کے بعد ستارہ کو حسن کے سنگ رخصت کر دیا گیا جبکہ ولید خان وہیں نور محمد کے پاس رک گئے اور گئے دنوں کی یادیں تازہ کرنے لگے۔۔

ختم شد۔۔

 



COMMENTS

Name

After Marriage Based,1,Age Difference Based,1,Armed Forces Based,1,Article,7,complete,2,Complete Novel,611,Contract Marriage,1,Doctor’s Based,1,Ebooks,9,Episodic,277,Feudal System Based,1,Forced Marriage Based Novels,4,Funny Romantic Based,1,Gangster Based,2,HeeR Zadi,1,Hero Boss Based,1,Hero Driver Based,1,Hero Police Officer,1,Horror Novel,2,Hostel Based Romantic,1,Isha Gill,1,Khoon Bha Based,2,Poetry,13,Rayeha Maryam,1,Razia Ahmad,1,Revenge Based,1,Romantic Novel,22,Rude Hero Base,3,Second Marriage Based,1,Short Story,68,youtube,30,
ltr
item
Urdu Novel Links: Haq E Dosti By Zara Shabir Short Story
Haq E Dosti By Zara Shabir Short Story
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgNR4fNq4N0RDtFVbQFLBM1uyIlK9OmfmAwt0mOB94SvppyxIPHUEeH6Hexxgld8LFJmlaS6xFGXZJrOvYLv2wnX793hBgf6rdLs7azUwzmZFTPnI357aUd-6ZTWpeebhYKsM5hZIMxSrlrFf4BBCHRb2Xg48Dy0eI4rqUmvRfXGKgFhp3sGPovTk_S/w400-h400/299128927_549971220215728_8318689352159141169_n.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgNR4fNq4N0RDtFVbQFLBM1uyIlK9OmfmAwt0mOB94SvppyxIPHUEeH6Hexxgld8LFJmlaS6xFGXZJrOvYLv2wnX793hBgf6rdLs7azUwzmZFTPnI357aUd-6ZTWpeebhYKsM5hZIMxSrlrFf4BBCHRb2Xg48Dy0eI4rqUmvRfXGKgFhp3sGPovTk_S/s72-w400-c-h400/299128927_549971220215728_8318689352159141169_n.jpg
Urdu Novel Links
https://www.urdunovellinks.com/2022/08/haq-e-dosti-by-zara-shabir-short-story.html
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/2022/08/haq-e-dosti-by-zara-shabir-short-story.html
true
392429665364731745
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content