--> Jeheiz By Bint E Shah Jahan Ali Short Story | Urdu Novel Links

Jeheiz By Bint E Shah Jahan Ali Short Story

 Jeheiz By Bint E Shah Jahan Ali جہیز بنت شاہ جہان علی کمرے میں بیٹھی لال جوڑے میں موٹی سی اور سانولے رنگ کی عائشہ آج اپنے رب کا شکر ادا کرت...

 Jeheiz By Bint E Shah Jahan Ali


جہیز

بنت شاہ جہان علی



کمرے میں بیٹھی لال جوڑے میں موٹی سی اور سانولے رنگ کی عائشہ آج اپنے رب کا شکر ادا کرتے نہیں تھک رہی تھی۔۔

کیونکہ آج اسکا ایک طرفہ پیار جو اسے حاصل ہوگیا تھا۔۔

عائشہ کب سے اپنے شوہر عارف خان کا انتظار کررہی تھی جب وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔

کالے رنگ کی شیروانی پہنے جس پر سنہری موتیوں کا کام ہوا تھا۔۔

گورا رنگ جس کے آگے عائشہ جیسی سانولی لڑکیاں میلی لگتی۔۔

بڑی بڑی آنکھیں جس کی پلکیں لمبی اور گھنی لمبا دراز قد اچھی خاصی باڈی دکھنے میں عام شکل و صورت کا بلکل نہیں لگتا تھا عارف خان۔۔

عارف خان نے آتے ساتھ ہی سب سے پہلے اسنے سلام کیا۔۔

اور اپنے سر میں پہنی پگڑی جو گولڈن رنگ کی تھی اسے اٹھا کر صوفے پر پھینکا۔۔

'وعلیکم السلام' عائشہ سلام کا جواب دیتے ہوۓ مسکرا کر بولی۔۔

جبکہ اب عارف خان اپنی خوبصورت آنکھوں سے کمرے میں رکھا فرنیچر دیکھنے لگا جو نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ اتنی حثیت ہی نہ تھی عائشہ اور اسکے گھر والوں کی جو وہ اسے لاکھوں کا فرنیچر دیتے۔۔

حال احوال پوچھنے کے بعد عارف کمرے سے باہر نکل گیا.. اور عارف کا بنا ہوا خراب موڈ دیکھ کر عائشہ تھوڑی پریشان ہو گئی کیونکہ آج اسکی شادی کا پہلا دن تھا اور عارف کا ایسا برتاؤ۔۔

"اگلے روز"

دو چارپائیاں آمنے سامنے پڑی عائشہ اُن پر بیٹھی ناشتہ کررہی تھی اپنی ساس اور شوہر کے ساتھ۔۔

عائشہ تیرے پاپا نے تو فرنیچر دیا ہی نہیں عارف کی ماں منہ بنا کر پہلی صبح ہی طعنہ دے بیٹھی جبکہ عائشہ کا ناشتہ کرتا ہوا ہاتھ رُک گیا۔

نہیں آنٹی پاپا نے بیڈ ' صوفہ اور الماری؛ دی ہے اور میرے خیال سے یہی فرنیچر ہوتا ہے عائشہ مصنوعی سا مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔

کیونکہ یہ بھی جہیز تھا اور ویسے بھی عارف کے گھر والے کہاں جانتے تھے کہ اتنا جہیز کرنا بھی کسی غریب کے لیۓ کتنا مشکل ہوتا ہے۔۔

"اور دوسری بات جو عائشہ دل میں بولی"

 جہیز مانگتے ہوۓ سسرالی کتنے بُرے لگتے ہیں۔۔

خیر عائشہ کو بھی افسوس ہوا کہ اسکے لیے عارف نے کچھ نہیں کہا۔۔

ویسے عارف۔۔

شرما جی کی بہو دنیا کا جہیز لے کر آئی ہے اپنے سسرال میری تو آنکھیں پھٹ کر رہ گئی تھی اتنا سامان دیکھ کر عارف کی اماں منہ پھاڑ انداز میں بول رہی تھی جب عارف کھڑا ہوگیا۔۔

سفید رنگ کا کُرتا پہنے آنکھوں میں گول گول چشمے لگاۓ جو یقیناً نظروں کو ہی تھے۔۔

"اُن چشموں اور کُرتے میں عارف بہت خوبصورت لگ رہا تھا"

اب ہمارے ایسے نصیب کدھر اماں عارف دکھ بھرے انداز میں عائشہ کو دیکھتے ہوئے بولا جو سب کو نظر انداز کیۓ بیٹھی تھی جبکہ سُن سب کچھ رہی تھی وہ بھی بہت اچھے سے۔۔

خیر اماں اب میری واپسی رات میں ہی ہوگی اسلیۓ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں عارف اپنی اماں کو بتا کر باہر نکل گیا... جس پر عارف کی ماں راضی ہوگئی۔۔

جبکہ عائشہ پریشان سی ہو گئی کیونکہ پہلے دن ہی اسے سب نظر انداز کیۓ بیٹھے تھے لیکن یہ نظر انداز کرنے کی اصل وجہ عائشہ نہیں جانتی تھی۔۔

دن با دن گزرتے چلے گۓ اور پتہ بھی نہ چلا کب عائشہ کی شادی کو دو سال بیت گۓ ان دو سالوں میں عائشہ کی زندگی بلکل بدل کر رہ گئی تھی۔۔

آۓ دن ساس اور شوہر کے طعنے سننا لڑائی جھگڑے فسادوں سے عائشہ مینٹلی ڈسٹرب ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔۔

ابھی عائشہ اپنے کمرے میں بیٹھی نماز ادا کررہی تھی

 جب عارف کالی جینز اور کالے رنگ کی ہی ٹی شرٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیۓ اچھا پرفیوم لگاۓ کال پر بات کرتے ہوۓ کمرے میں داخل ہوا۔۔

کالا رنگ عارف کے گورے رنگ پر بہت زیادہ خوبصورت لگتا تھا اسلیۓ وہ زیادہ تر اپنے کپڑے کالے ہی بناتا تھا۔۔۔

عائشہ کو نماز پڑھتا دیکھ کر عارف پاس پڑی کرسی کو کھینچ کر وہی بیٹھ گیا۔۔۔

عائشہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو عارف کو دیکھ کر مسکرانے لگی کیونکہ آج اسکے عارف کا موڈ کافی اچھا تھا جو وہ محسوس کر چکی تھی۔۔

عارف آپ کو کوئی کام ہے عائشہ عارف کو دیکھتے ہوۓ مسکرا کر بولی جب وہ اسکے سامنے آیا۔۔

اپنے پاپا سے کہو کے مجھے تیس ہزار روپے بھیجے ضرورت ہے عارف اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوۓ حکم دے کر بولا..

 جبکہ عائشہ کے چہرے کی خوشی سیکنڈوں میں غائب ہوگئی۔۔

عارف پاپا اتنے پیسے کہاں سے لائیں گے عائشہ پیلے زرد چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ پریشانی سے بولی۔۔

جہیز تو تمہارے باپ نے دینے کی زحمت نہیں کی بس بے شرموں کی طرح بیٹی اٹھا کر میرے متھے لگا دی ہے اب تیس ہزار بھی نہیں دے سکتا کیا تیرا باپ عارف نہایت ہی بدتمیزی والا لہجہ اپناتے ہوئے بولا۔۔

عائشہ دل و جان سے عارف سے محبت کرتی تھی اسلیۓ اسنے عارف کی یہ بات برداشت کرلی۔۔

آپ ٹینشن نہ لیں میں پاپا سے بات کرتی ہوں عائشہ عارف کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولی جب وہ غصے سے باہر نکل گیا۔۔

ایک ڈھابے میں کام کرنے والا شخص کیسے کسی کو ایک دن تیس ہزار روپیہ دے سکتا ہے عائشہ اپنے پاپا لیاقت علی صاحب کو کال کرتے ہوئے دل میں بولی۔۔

ہاں سونو بیٹا کیا حال ہے لیاقت علی صاحب عائشہ کو پیار سے سونو کہا کرتے تھے۔۔

پاپا میں ٹھیک ہوں..

 آپ کیسے ہیں؟؟

 عائشہ مسکرا کر بولی۔۔

میں بھی ٹھیک بیٹا تو بتا گھر کے حالات ٹھیک تو ہے نہ لیاقت علی صاحب نے گھر کے حالات کا پوچھا۔۔

جی پاپا بس ایک کام تھا آپ سے عائشہ ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔

بول بیٹا کیا ہوا؟؟ لیاقت علی صاحب کندھے سے رومال ہٹا کر اپنا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولے کیونکہ گرمی بہت زیادہ تھی۔۔

پاپا عارف کو تیس ہزار روپیہ چاہیۓ تھے اگر آپ دے دیتے تو عائشہ نے بات کی۔۔

تیس ہزار روپیہ لیاقت علی صاحب سوچنے لگے۔۔

جبکہ عائشہ دل میں دعا کرنے لگی کہ اللہ کرے پاپا کہی نہ کہی سے پیسے دے دے۔۔

ٹھیک ہے میں بھیجوا دوں گا مونٹو کے ہاتھ لیاقت علی صاحب اپنے چھوٹے بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے بولے۔۔

جبکہ عائشہ شکریہ شکریہ کرتے نہ تھک رہی تھی۔۔

رات کے بارا بج چکے تھے لیکن عارف گھر نہیں آیا تھا۔۔

پیسے عائشہ کو مونٹوں دے کر چلا گیا تھا اسلیۓ عائشہ ابھی تک اپنے عارف کا ویٹ کررہی تھی۔۔

پورے راجھستان میں سناٹا چھا گیا تھا جب عارف فون پر کسی کو ہنستے ہوئے باۓ بول کر کمرے میں داخل ہوا۔۔

عارف کے کمرے میں آتے ہی عائشہ کھڑی ہوگئی کیونکہ جتنی وہ محبت کرتی تھی عارف سے اس سے کہی زیادہ عزت بھی کرتی تھی۔۔

کھانا لاؤں عائشہ عارف کو دیکھتے ہوئے بولی جب اسنے اپنا سوال کیا۔۔

پیسے دیۓ تیرے پاپا نے عارف سنجیدگی سے بولا۔۔

جی شام میں پیسے لے آیا تھا مونٹو عائشہ مسکرا کر بولی کیونکہ عارف خان کے چہرے پر بھی بہت گہری مسکراہٹ آئی تھی جسے دیکھ کر عائشہ خوشی سے سماۓ نہیں جارہی تھی۔۔

تو لے آؤ پیسے عارف ہاتھ عائشہ کے آگے پھیلاتے ہوۓ بولا۔۔

جب عائشہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں رکھی لکڑی کی الماری کی طرف گئی اور اسے کھول کر پیسے نکالنے لگی۔۔

عارف کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کیونکہ اسکی بہت بڑی پریشانی حل ہوگئی تھی۔۔

عائشہ نے "نۓ ' نۓ" نوٹ نکال کر عارف کو دیۓ صاف لگ رہا تھا کہ یہ بنک سے نکالے گۓ نوٹ ہے۔۔

عارف پیسے لیتے ساتھ ہی لیٹ گیا اور اسنے عائشہ کے والدین  کے  بارے میں پوچھنا تک گوارہ ہی نہیں کیا۔۔

عائشہ بہت اداس ہوگئی تھی عارف کی اس حرکت پر۔۔

∆∆∆∆

ابھی تیس ہزار لیۓ ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ عارف خان نے پھر سے پیسوں کا مطالبہ کیا۔۔

اور اس بار کی رقم کے بارے میں تو عائشہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔۔

عارف "ایک لاکھ روپے" پاپا کہاں سے دیں گے عائشہ عارف کو دیکھتے ہوئے غصے اور پریشانی سے بولی۔۔

جہاں سے پہلے دیۓ تھے وہی سے پھر دے دیں عارف بے شرموں کی طرح ڈھٹائی سے بولا۔۔

"عارف کی پرسنیلٹی دیکھ کر ایسا نہیں لگاتے تھا کہ وہ ایسا گھٹیا مرد ہوگا"

آپ جانتے بھی ہیں پہلے والے پیسے پاپا نے بنک سے ادھار لے کر دیۓ تھے..

 لیکن اب وہ مزید ادھار نہیں لے سکتے عارف عائشہ عارف کو سمجھاتے ہوئے بولی جب عارف نے عائشہ کو منہ سے دبوچا۔۔

دو ٹکے کا جہیز تو تیرے باپ نے دیا نہیں اور میرے آگے ٹر ٹر کیۓ جارہی ہے تو عارف الٹے ہاتھ سے عائشہ کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے بولا جب اسکی آنکھوں میں آنسوں آگۓ۔۔

کھڑے کھڑے طلاق دے کر تجھے تیرے گھر چلتا کر دوں گا سمجھ رہی ہے نہ تو۔۔

پھر پورے راجھستان میں تجھے اور تیرے گھر والوں کو کہی کا نہیں چھوڑوں گا پھر تجھے پتہ چل جاۓ گا کہ عارف خان ہے کیا چیز۔۔

 عارف عائشہ کو بالوں سے پکڑتے ہوئے سختی سے بول رہا تھا۔۔

عارف خدا کے لیۓ طلاق کا نام نہ لیں اپنی زبان سے عائشہ ہاتھ جوڑتے ہوئے منت بھرے انداز میں بولی۔۔

دیکھ جہیز لائی نہیں تو ایسا ہی ہے نہ..

 عارف عائشہ کے بالوں کو آزاد کرتے ہوئے نرم لہجے میں بولا۔۔

جب عائشہ نے روتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔۔

اب جو جہیز کا دس بارہ لاکھ بنتا ہے اپنے پاپا سے بول بھیج دے۔۔

اگر وہ نہیں بھیجتا اتنے پیسے۔۔

 تو تجھے میں اس گھر میں نہیں رکھوں گا عارف بول کر باہر کی طرف نکل گیا جبکہ عائشہ منہ پر ہاتھ رکھے چیختے ہوۓ رونے لگ گئی کیونکہ عارف اسے اپنی زندگی سے نکالنے کی بات کررہا تھا جسے سُن کر عائشہ کو اپنی جان جاتی محسوس ہورہی تھی۔۔

"یہ کیسی محبت تھی جو اتنا ظلم اور بُرا برتاؤ کرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہورہی تھی"

اب جو بھی تھا عائشہ کو جہیز کے بدلے پیسے تو چاہیۓ ہی تھے اپنے پاپا سے۔

اسلیۓ اُس نے فون اٹھایا اپنے پاپا کو سب سے پریشانی والی خبر سنانے کے لیۓ۔۔

∆∆∆∆

عارف کچھ پریشان لگ رہا ہے تو عارف کا دوست عارف کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولا۔۔

یار روبا سے وعدہ کیا تھا اسے راجھستان کی مشہور مشہور جگہوں پر گھمانے کا۔۔

لیکن ختم ہوگۓ ہیں وہ تیس ہزار عارف اپنی پیشانی رگڑتے ہوئے بولا کیونکہ اسنے پہلے والے پیسے بھی اپنی گرل فرینڈ روبا پر ہی خرچ کیۓ تھے۔۔

تو کوئی مسئلہ نہیں ہے بھابھی سے کہ کر منگوا پیسے کیونکہ اسنے بھی میری بیوی کی طرح اپنے گھر سے کچھ نہیں لایا یش ہنستے ہوئے بولا کیونکہ وہ بھی کافی پیسے بٹور چکا تھا اپنی بیوی کے گھر والوں سے۔۔

مانگے تو ہے لیکن اس دفعہ کوئی چھوٹی رقم نہیں مانگی عارف دانت نکالتے ہوئے بولا۔۔

کیوں بڑا ہاتھ مارا ہے یش سوالیہ انداز میں بولا۔۔

ہاں اس دفعہ میں نے بارہ لاکھ مانگا ہے جیسے یہ رقم یا پھر اس سے کم رقم مل گئی تو فوراً ہی عائشہ کو اس کے گھر رخصت کر کے اپنی روبا کو دھوم دھام سے لے آؤں گا.. پھر جو پیسا اور جہیز وہ لاۓ گی پھر اسکے ساتھ نیا بزنس شروع کر دوں گا عارف ہنستے ہوئے بولا کیونکہ اسنے سب کچھ سوچ رکھا تھا عائشہ کے بارے میں جبکہ عائشہ بیواقوف بنی بیٹھی تھی۔۔

∆∆∆∆

عائشہ تو دس لاکھ کی بات کررہی ہے اس ٹائیم تیرے پاپا کی جیب میں دس روپیہ بھی نہیں ہے عائشہ کی امی غصے سے بولی کیونکہ بیٹیوں کے دل میں اپنے والدین کے لیے خود احساس ہوتا ہے لیکن یہاں تو عائشہ کی امی سمجھ رہی تھی کہ عائشہ میں کوئی احساس نہیں ہے۔۔

امی اگر عارف کو پیسے نہ دیۓ تو وہ مجھے طلاق دے دے گا جو میں قطعاً برداشت نہیں کر سکتی عائشہ روتے ہوئے بولی لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ عائشہ کے گھر والے بھی مجبور تھے۔۔

دیکھ عائشہ عارف تیرا شوہر ہے اسے سمجھا کہ اگر اتنے پیسے ہوتے تو تجھے جہیز دے کر ہی رخصت کرتے اب نہیں ہے ہمارے پاس اتنی رقم تو کیا کریں۔۔

عارف کو سمجھا کہ تو مرد ہے..

اسلیے تجھے تنگ کرنا چھوڑ دے اور ہم سے پیسا مانگنا بند کر دے۔۔

عائشہ کی امی نے عائشہ کو سمجھا کر کال کاٹ دی۔۔

عائشہ کا دل بہت گھبرا رہا تھا کیونکہ گھر والوں کی طرف سے تو صاف انکار ہوگیا تھا۔۔

کافی دیر بعد عارف گھر میں داخل ہوا جب اسکا سامنا اسکی اماں سے ہوا۔۔

کدھر ہے عائشہ عارف سنجیدگی سے بولا۔۔۔

رو رہی ہے وہ جا دیکھ لے اماں بول کر اپنے چھوٹے سے کمرے میں چلی گئی۔۔

جبکہ عارف اپنے کمرے کی طرف گیا کیونکہ آج اسنے فیصلہ کرنا ہی تھا۔۔

کیا ہوا پیسوں کا عارف سنجیدگی سے بولا۔۔

عارف آپ میری بات سنیں عائشہ کھڑے ہوتے ہوئے اپنے آنسوں صاف کر کے بولی۔۔

جب عارف ہاتھ باندھتے سیدھا کھڑا ہوا..

دیکھیں میں نے "ایم اے" کیا ہے میں کوئی اچھی جاب ڈھونڈ کر عائشہ بول ہی رہی تھی

"جب عارف بول پڑا"

پیسے ملے گیں یا نہیں؟؟

عارف....

 عائشہ آنکھوں میں آنسوں لیۓ روتے ہوئے بولی۔۔

مطلب پیسے نہیں ملے عارف عائشہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے غصے سے بولا۔۔

عارف میں جاب کر کے بہت اچھا کماؤں گی اور قسم لے لیں سارے پیسے آپ کے ہاتھ میں رکھوں گی مجھے گھر سے مت نکالے میں مر جاؤں گی عائشہ اپنی کلائی چھڑاتے ہوئے بول رہی تھی جو عارف نے بہت کس کر پکڑی تھی۔۔

بہت ہوگیا جب مرو گی تو ویڈیو بنا کر بھیج دینا تاکہ میرے لیۓ کوئی مسئلہ نہ بنے۔۔

اور میں مزید اپنی زندگی تیرے ساتھ برباد نہیں کرسکتا عارف گھر کا ٹیم نما دروازا زور سے پٹخ کر کھولتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی عائشہ کو گھر سے نکال دیا۔۔

وہ لڑکی جس کے بال آج تک اسکے محرموں کے علاؤہ کسی نے نہیں دیکھے تھے آج رات کے اندھیرے میں کچھ لڑکے جو گلی کی نوکر میں کھڑے عائشہ کو دیکھ رہے تھے بنا ڈوپٹے کے۔۔

عارف آپ کو "اللہ کا واسطہ" دروازا کھولیں عائشہ دروازے کو زور زور سے مارتے ہوئے بول رہی تھی اور ساتھ ہی خود کے الجھے ہوئے بالوں کو ہاتھوں سے پیچھے کررہی تھی۔۔

بلکل نہیں لگ رہا تھا کہ عائشہ "ایم اے" پاس لڑکی ہے۔۔

"کیونکہ ایک خودمختار لڑکی ایسے مرد کے ساتھ رہنا بلکل پسند نہیں کرتی"

تین گھنٹے تک دروازا مارنے کے بعد بھی کوئی باہر نہ نکلا تو عائشہ کو اسکی قریبی پڑوسن ساتھ لے گئی کیونکہ راجھستان میں رات کے وقت لڑکی کا اکیلے باہر ہونا بلکل مناسب نہیں تھا۔۔۔

عائشہ کو جیسے پڑوسن گھر لائی تو اسنے عائشہ سے نمبر لے کر اسکے گھر کال ملائی اور انھیں جلد از جلد آنے کو کہا۔۔

عائشہ بِیٹیا دیکھ وہ منحوس تیرے قابل نہیں ہے تو کیوں  اپنی زندگی خراب کررہی ہے۔۔

علیحدگی لے اور اپنی زندگی کی نئی شروعات کر پڑوسن پیار سے عائشہ کے بالوں کو سیٹ کرتے ہوۓ اسے سمجھا رہی تھی جبکہ عائشہ کے کان بند تھے اسکے کانوں میں صرف عارف کی آواز گونج رہی تھی۔۔

"میں مزید اپنی زندگی تمہارے ساتھ برباد نہیں کرسکتا"

عائشہ کی آنکھوں سے آنسوں بہتے جارہے تھے دل کسی اندھیری جگہ پر ڈوبتا جا رہا تھا۔۔

جبکہ پڑوسن بس عائشہ کو سمجھانے میں لگی ہوئی تھی جبکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ عائشہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے۔۔

∆∆∆∆

نکال  دیا ہے تو نے اسے گھر سے اماں عارف کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی۔

ہاں نکال دیا ہے اب بس تو میری دوسری شادی کی تیاری کر عارف ہنستے ہوئے بولا۔۔

کیونکہ دوسری شادی کر کے عارف کو دوسری بیوی نہیں بلکہ "اے ٹی ایم" کی مشین جو ملنے والی تھی جس سے عارف کی زندگی کے دن بدلنے والے تھے۔۔

عارف میرے خیال سے تو عائشہ کو رکھ لے کیونکہ نوکری کر کے جو پیسے آئیں گے وہ میں رکھ لیا کروں گی باقی تو اپنی دوسری بیوی کے پیسوں پر عیاشی کر لی اماں سوچتے ہوئے چلاکی سے بولی۔۔

مطلب عائشہ کی منتیں ' عائشہ کا رونا ' سسکنا' سب عارف کی ماں کی نظروں کے سامنے تھا لیکن انھوں نے اپنے بیٹے کو کچھ نہیں کہا کیونکہ وہ خود جہیز کی بھوکی عورت تھی۔۔

اماں اگر میں عائشہ کو رکھوں گا تو آپ کو کیا لگتا ہے روبا مجھ سے شادی کر لے گی عارف غصے سے بولا کیونکہ عائشہ کو اب رکھنا بلکل ممکن نہیں تھا۔۔

اچھا چل دفعہ کر عائشہ کو..

ویسے بھی پچھلے کئی سالوں سے مجھے کونسا اس سے سُکھ ملا ہے جو میں اسے رکھوں.

اماں غصے سے بولی

"جبکہ عائشہ کو نوکروں کی طرح استعمال کرنے کے بعد بھی ان کو سُکھ نہیں ملا تھا کافی حیرانگی کی بات ہے"

∆∆∆∆

عائشہ کو اسکے گھر والے گھر تو لے آۓ تھے۔۔

رات بہت ہوگئی تھی اسلیۓ اسے زبردستی کھانا اور دوا کھلا کر سُلا دیا تھا۔۔

کیونکہ لیاقت علی صاحب کو عائشہ کا چہرہ دیکھ کر بات کرنا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔۔

لیاقت صاحب کیا ہوگا میری بیٹی کے ساتھ عائشہ کی امی پریشانی سے بولی جب وہ چارپائی پر لیٹ گۓ اور آسمان میں چمکتے تاروں کو دیکھتے ہوئے بولے۔۔

بیٹی کا تو پتہ نہیں لیکن عارف خان مجھ سے نہیں بچے گا۔۔

غریب ہوں لیکن بیغیرت نہیں جو اپنی بچی کے حق کے لیۓ لڑ نہ کر سکوں لیاقت علی صاحب غصے سے بولے۔۔

'کیونکہ اب بات بہت بگڑ چکی تھی'

∆∆∆∆

صبح ہوتے ہی لیاقت علی صاحب نے گُم سُم بیٹھی عائشہ سے ساری باتیں پوچھی جو اسنے سچ سچ بتادی سواۓ عارف کے مارنے والی بات کے۔۔

ساری باتیں سچ بتانے کا اہم مقصد یہ بھی تھا تاکہ لیاقت علی صاحب پیسوں کا کچھ کرے۔۔

سونو وہ تیرے قابل ہے ہی نہیں۔۔

میری بچی تو چھوڑ دے اسے لیاقت علی صاحب عائشہ کو دیکھتے ہوئے دھیرے سے بولے جس کی آنکھوں میں ایکدم سے آنسوں آگۓ تھے۔۔

کیونکہ عائشہ کے لیٔے مرنا آسان تھا لیکن عارف سے طلاق لینا آسان نہیں تھا۔۔

پاپا آپ نے مجھے عارف کے گھر واپس چھوڑنا ہے چاہے کچھ بھی ہو جاۓ۔۔

کیونکہ وہی میرا گھر ہے خدارا ایسی کوئی بات مت کریں جس سے میرا گھر خراب ہو عائشہ اپنے ماں باپ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی اور ساتھ ہی اپنی آنکھوں سے آنسوں صاف کیۓ۔۔

پاپا عارف کا فون ہے مونٹو لیاقت علی صاحب کو فون پکڑاتے ہوئے بولا۔۔

جبکہ عائشہ بھاگ کر اپنے پاپا کے کندھے کے پاس کھڑی ہوگئی اور دھڑکتے دل سے عارف کی بات سننے کا انتظار کرنے لگی۔۔

عارف خان یہ کونسا طریقہ اختیار کیا تم نے میری بچی کے ساتھ لیاقت علی صاحب سنجیدگی سے بولے۔

کونسا طریقہ اختیار کر لیا میں نے آپ کی بیٹی کے ساتھ عارف تنزیہ انداز میں ہنستے ہوئے بولا۔۔

کیوں نکالا تم نے آدھی رات کو اپنی بیوی کو گھر سے۔۔

شرم نہیں آئی تھی تمھیں ایسی حرکت کرتے ہوئے۔۔

مجھے تو لگتا ہے تمہارے میں غیرت نام کی چیز ہی ختم ہوگئی ہے لیاقت علی صاحب چیختے ہوۓ غصے سے بولے کیونکہ عارف کا بات کرنے کا انداز ہی ٹھیک نہیں تھا۔۔

لیاقت علی صاحب کے ایسا بولنے پر عائشہ نے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالا تاکہ وہ عارف کے ساتھ اس انداز میں بات نہ کرے۔۔

نہیں ہے عائشہ میری غیرت۔۔

اور بڈھے آج تو نے آخری دفعہ اس انداز میں مجھ سے بات کی آئیندہ سے میں موقع ہی نہیں دوں گا تجھے۔۔۔

کیونکہ بہت جلد میں تیری بیٹی کو طلاق دے کر فارغ کرنے والا ہوں۔۔

ایک تو کسی کام کا جہیز نہیں دیا اور اوپر سے بیٹی بھی ایسی دی ہے کہ جس کی شکل دیکھنے کی نہیں ہے۔۔

ارے میرے کو تو شرم آتی ہے عائشہ کو اپنے ساتھ کہی بھی لے کر جاتے ہوئے۔۔

عارف نے فون پر چلاتے ہوئے بول کر کال کاٹ دی۔۔

عائشہ کو صدمہ لگا تو تھا لیکن اس بات کا نہیں کہ اسکی صورت اچھی نہیں ہے بلکہ اس بات کا کہ اسکا عارف بہت جلد ہی اسے چھوڑنے والا ہے۔۔

وہ ہاتھ جو عائشہ نے کندھے پر زور کا رکھا تھا اچانک ڈھیلا ہوا اور عائشہ زمین پر گر گئی۔۔

عائشہ کے بےہوش ہوتے ہی سب کی اونچی آوازیں نکلنا شروع ہوگئی جبکہ مونٹو اور لیاقت علی صاحب نے مل کر عائشہ کو چارپائی پر لٹایا۔۔

اور پانی کے چھڑکاؤ عائشہ کے چہرے پر کیۓ۔۔

جس سے عائشہ ہوش میں آگئی۔۔

کیوں میری سونو ٹیشن لیتی ہے"

اور ہمیں بھی ٹینشن میں ڈالتی ہے لیاقت علی صاحب افسوس سے بولے جبکہ عائشہ خاموشی سے کمرے میں چلی گئی۔۔

عائشہ کے جاتے ہی لیاقت علی صاحب کو انکے کام والی جگہ سے کال آگئی اسلیۓ انھیں جانا پڑا کیونکہ اگر وہ کام پر نہ جاتے تو روٹی کیسے کھاتے۔۔۔

∆∆∆∆

عارف تو نے طلاق دے کر رخصت کیوں نہیں کیا اسے عارف کی ماں غصے سے بولی جبکہ عارف مسکرا رہا تھا۔۔

اماں ایک بار پیسہ ہاتھ آجاۓ تو میں روبا کے ساتھ منگنی کر لوں اسکے بعد انشاللہ عائشہ کو طلاق دے دوں گا۔۔

مجھے تیری فلم کی کچھ سمجھ نہیں آرہی اماں غصے سے بولی۔۔

دیکھ اماں روبا سے شادی تب ہی کروں گا نہ جب ہاتھ میں بڑی رقم آۓ گی۔۔

اگر نہ آئی تو پھر کچھ عرصے تک مجھے عائشہ کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہوگی اسلیۓ سمجھا کر نہ۔۔

عارف نے اپنی اماں کو تفصیل سے سمجھایا تب جاکر وہ کچھ سمجھی تھی۔۔

∆∆∆∆

کہاں ہے عائشہ لیاقت علی صاحب نے گھر آتے ساتھ ہی سب سے پہلا سوال کیا۔۔

کیونکہ عصر کا وقت ہوگیا تھا۔۔

وہ مجھے بنا بتاۓ ہی چلی گئی بس اتنا کہا کے تھوڑی دیر تک آجاؤں گی عائشہ کی امی سنجیدگی سے بولی۔۔

تمھیں اسے اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیۓ تھا کیوں جانے دیا اکیلے لیاقت علی صاحب غصے سے بول کر ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھے جس کا بازو ٹوٹا ہوا تھا۔۔

∆∆∆∆

برقعہ اور کالا ڈوپٹہ اوڑھے عائشہ "سابر متی" دریا کے پاس کھڑی آگے پیچھے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔۔

سب ہنستے مسکراتے دکھائی دے رہے تھے لیکن انھیں دیکھ کر عائشہ نے اپنے رب سے کوئی گِلہ شکوہ نہیں کیا۔۔

کیونکہ اب وہ ٹوٹ چکی تھی۔۔

 تھک چکی تھی۔۔

 بیزار ہو چکی تھی۔۔

 اسلیۓ اُس نے ایک ایسا فیصلہ کیا تھا جسے اب کو سکون پہنچنے والا تھا۔۔

عائشہ نے فون اٹھایا اور ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کی۔۔۔

∆∆∆∆

'اماں میں جارہا ہوں'

 میرے دوست کہ شادی ہے عارف 'سوٹ ' بوٹ' پہنے تیار کھڑا اپنی اماں کو بتا رہا تھا۔۔

جو سبزی کاٹنے میں مصروف تھی۔۔

جا بیٹا لیکن وقت پر آجانا۔۔

ٹھیک ہے..

 عارف بول کر نکل گیا گھر سے جہاں اسکے دوست اسکا انتظار کررہے تھے۔۔

∆∆∆∆

اسلام علیکم! میرا نام عائشہ عارف خان ہے۔۔

میں جو بھی کرنے جارہی ہوں اپنی مرضی سے کرنے جارہی ہوں..

 اس میں کسی کا کوئی زور یا دباؤ نہیں ہے۔۔

کیا کہیں عائشہ سانس لیتے ہوۓ بولی اور ساتھ ہی آگے پیچھے دیکھنے لگی۔۔

بس یہ سمجھ لی جیۓ کہ خدا کی طرف سے اتنی ہی زندگی ہے۔۔

اور مجھے اتنی ہی زندگی بہت سکون والی ملی ہے۔۔

عائشہ پُرسکون انداز میں بات کررہی تھی..

اور ڈئیر ڈیڈ کب تک لڑو گے اپنوں سے۔۔

وِیٹ ڈرول کر لو یار۔۔

عائشہ لڑائیوں کے لیۓ نہیں بنی عائشہ موبائل کی سکرین دیکھتے ہوئے بولی جہاں ویڈیو ریکارڈ ہورہی تھی۔۔

پیار کرتے ہیں عارف سے اسے پریشان تھوڑی نہ کریں گیں۔۔

اگر اسے آزادی چاہیۓ تو ٹھیک ہے وہ آزاد رہے۔۔

چلو اپنی زندگی تو یہی تک ہے۔۔

"میں خوش ہوں کیونکہ اب میں اپنے اللہ سے ملنے والی ہوں"

یہ بات کرتے ہوۓ عائشہ کو بہت رونا آرہا تھا۔۔۔

"انھیں کہوں گی کہ میرے سے غلطی کہاں رہ گئی۔۔

ماں باپ بہت اچھے ملے ' دوست بھی بہت اچھے ملے۔۔

بس شاید کہی کمی رہ گئی تھی مجھ میں یا تقدیر میں۔۔

سکون سے جانا چاہتی ہوں اور اللہ سے دعا کروں گی کہ اب انسانوں کی شکل نہ دکھاۓ عائشہ ٹوٹے ہوئے الفاظوں میں بولی۔۔۔

ایک چیز تو ضرور سیکھ چکی ہوں کہ محبت کرنی ہے تو دو طرفہ کرو۔۔

 ایک طرفہ محبت سے کچھ حاصل نہیں۔۔

کچھ محبتیں تو نکاح کے بعد بھی ادھوری رہ جاتی ہیں عائشہ درد بھری مسکراہٹ سے بولی۔۔

پرے (pray) کرتی ہوں یہ پیاری سی ندی مجھے خود میں سما لے عائشہ مسکرا کر بولی۔۔

پلیز میرے جانے کے بعد زیادہ بھکیڑا مت کرنا۔

"میں پانی کی طرح ہوں بس بہنا چاہتی ہوں کسی کے لیۓ بھی رُکنا نہیں مجھے"

میں خوش ہوں آج کے دن..

مجھے جتنے سوالوں کے جواب چاہیۓ تھے وہ مل گۓ۔۔

اور مجھے جس کو جو بتانا تھا وہ بتا چکی ہوں سچائی بس کافی ہے تھینکیو۔۔

"اور دعاؤں میں ضرور یاد رکھنا کیا پتہ جنت ملے یا نہ ملے" عائشہ زور سے آنکھیں بند کرتے ہوئے پھیکی اور درد بھری مسکراہٹ سے بولی۔۔

چلو الوداع عائشہ نے ریکارڈنگ بند کی اور ساتھ ہی پوری ویڈیو کو عارف خان کو بھیجی اور ساتھ ہی انٹرنیٹ پر بھی ڈال دی جو بہت تیزی کے ساتھ گردش ہونے لگی۔۔

∆∆∆∆

عائشہ کو کال کرو ابھی تک آئی کیوں نہیں وہ۔۔

لیاقت علی صاحب مونٹو سے بولے جو خود بھی بہت پریشان تھا۔۔

ایک منٹ پاپا مونٹو عائشہ کو کال کرنے لگا۔۔

یہ لیں پاپا مونٹو نے فون لیاقت علی صاحب کو دیا۔۔

ہاں بیٹا کہاں ہے لیاقت علی صاحب عائشہ سے بولے۔۔

بس آرہی ہوں میں عائشہ سنجیدگی سے بولی۔۔

کہاں ہے تو جگہ کا نام بتا۔۔

عائشہ کے امی ابو دونوں ایک ساتھ غصے سے بولے۔۔

لیور فرنٹ پر ہوں عائشہ منہ بنا کر بولی۔۔۔

بیٹا تو لیور فرنٹ کی کونسی جگہ پر ہے ٹھیک سے بتا تاکہ  مونٹو کو بھیجوں۔۔

لیاقت علی صاحب بولے۔۔

لیکن عائشہ خاموش رہی۔۔

ہیلو سونو میری بات سُن بیٹا لیاقت علی صاحب پیار سے بولے۔۔

مجھے کچھ نہیں سننا پاپا عائشہ روتے ہوئے بولی۔۔

دیکھ بیٹا' غلط بات نہ کر لے امی سے بات کر لیاقت علی صاحب فون عائشہ کی امی کو دیتے ہوئے بولے۔۔

مجھے پانی میں کودنے دو مرنے دو عائشہ بھاری اور ہلکی آواز میں روتے ہوئے بول رہی تھی جب اسکی امی بول پڑی۔۔

دیکھ سونو اگر تو نے ایسا کام کیا تو سب کہیں گے کہ تو خراب تھی غلط تھی تبھی تو نے ایسا قدم اٹھایا ہے۔۔

عائشہ کی امی پیار سے بولی, کیونکہ وہ جانتی تھی عائشہ ایک بار جو طے کر لے وہی کرتی ہے۔۔

جو بولتا ہے بولنے دو امی؛ عائشہ تھکے ہوۓ انداز میں بولی۔۔

سونو تو نے ایسا کوئی کام نہیں کرنا سمجھ گئی نہ اب کی بار وہ حکمانا انداز میں بولی

"اب بس ہوا نہ امی' عائشہ رو کر بولی۔۔

دیکھ بیٹا تجھے تیرے پاپا کی قسم ایسا کام مت کرنا۔۔

نہیں امی اسے آزادی چاہیۓ نہ تو ٹھیک ہے نہ میں آزادی دے رہی ہوں کہ اور ویسے بھی امی میں نہیں دیکھ سکتی یہ لڑائی جھگڑے عائشہ اپنی امی کو سمجھانے لگی۔۔

سونو کچھ بھی نہیں ہوا..

 تو بس گھر آجا ابھی وہ بول ہی رہی تھی جب لیاقت علی صاحب نے فون مانگا۔۔

میں نے کسی سے بات نہیں کرنی عائشہ اپنے پاپا سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے بولی۔۔

عائشہ میری بچی ایسی باتیں کر کے کیوں میرا کلیجہ چیرتی ہے تو۔

جانتی ہے نہ تیرے پاپا تجھ سے کتنی محبت کرتا ہے____

 لیاقت علی صاحب روتے ہوئے بولے کیونکہ انکی بیٹی ان سے بات کرنے سے انکار کررہی تھی۔۔

تھک گئی ہوں پاپا میں اپنی زندگی سے ڈیڈ (dead) ہوگئی ہوں میں۔۔

اور ویسے بھی عارف کہ رہا تھا جب مرو گی تو ویڈیو بنا کر بھیجنا تاکہ میرے اوپر کوئی کیس نہ ہو۔۔

اور میں نے اسے ویڈیو بھی بنا کر بھیج دی ہے۔۔

عائشہ ہچکیوں سے روتے ہوئے بول رہی تھی اس سے بولے بھی نہیں جارہا تھا۔۔

|دیکھ عائشہ میری بچی کل میں جاؤں گا عارف سے بات کرنے|

اور اسے اپنے ساتھ لے کر بھی آؤں گا۔۔

لیاقت علی صاحب بول ہی رہے تھے جب عائشہ بول پڑی۔۔

میری میت پر لے آنا اسے پاپا عائشہ اوپر کی طرف اُڑتی  ریت پر بیٹھتے ہوئے گھٹنے پر سر رکھ کر ہلکی آواز میں بلکتے ہوئے رو کر بولی۔۔

دیکھ عائشہ "اماں عائشہ" کا مبارک نام ہے تیرا بیٹا اسکی لاج رکھ لے۔۔

لیاقت علی صاحب ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے اپنی بیٹی کو منانے لگے۔۔

'اُن کی طرح نام مبارک ہے پاپا نصیب مبارک نہیں ہے میرا' عائشہ خود پر افسوس کرتے ہوئے بولی۔۔

اور ہاں پاپا اگر میں بچ گئی تو لے جانا مجھے گھر۔۔

اور اگر نہ بچی تو دفنا دینا عائشہ سنجیدگی سے بول کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی۔۔

کیونکہ مزید باتیں کرنے کی اُس میں ختم ہوگئی تھی۔۔

سونو تیرے مرنے سے عارف کا کیا حال ہوگا۔۔

وہ جیل چلا جاۓ گا۔۔

کیا تو چاہتی ہے تیرے عارف پر تکلیف آۓ۔۔

لیاقت علی صاحب عائشہ کو اب جذباتی تور پر سمجھانے لگے۔۔

عارف کو کچھ نہیں ہوگا پاپا میں نے ویڈیو بنا کر ڈال دی ہے عائشہ رسانیت سے بولی۔۔

"سونو تیری امی رورہی ہے"

 بچے سابرمتی کی صیح جگہ کا نام بتا میں اور مونٹو تجھے لینے آتے ہیں لیاقت علی صاحب قدرے نرم لہجے میں بولے۔۔

نہیں پتہ صیح جگہ کا نام عائشہ ناگوار لہجے میں بولی۔۔

دیکھ عائشہ اگر تو آرام سے گھر نہ آئی تو میں گھر کے "سبھی افراد کو مار دوں گا اور خود بھی آتما حتیا کر لوں گا" پھر تجھے سکون مل جاۓ گا صیح ہے نہ لیاقت علی صاحب بھرپور غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولے۔۔

جب عائشہ سنجیدگی سے بولی ٹھیک ہے۔

'پتہ' بتا بیٹا لیاقت علی صاحب مسکرا کر بولے کیونکہ انکی بیٹی سمجھ چکی تھی اُن کی بات عائشہ نے پتہ بتا دیا تھا اسلیۓ لیاقت علی صاحب اور ان کے بیٹے نکل گۓ تھے عائشہ کو لینے۔۔

∆∆∆∆

سابرمتی کے پاس انسانوں کی حددرجہ بھیڑ دیکھ کر لیاقت علی صاحب تو گھٹنوں کے بل ریت پر گر گۓ۔۔

جبکہ مونٹو بھاگتے ہوئے لوگوں کو دھکہ دے کر سائیڈ پر کرتا خود پانی کی طرف گیا۔۔

جہاں رسیاں پانی میں ڈالی ہوئی تھی اسکے علاؤہ کافی پولیس بھی موجود تھی۔۔

جبکہ لوگ آپس میں پولیسوں  کو یہی بتا رہے تھے کے کالا برقعہ پہنے ایک عورت نے خود کشی کی ہے۔۔

پانی کی رفتار دیکھ کر ہر کوئی آرام سے کہ سکتا تھا کہ یہاں پر خودکشی کرنے والا کوئی انسان نہیں بچ سکتا۔۔

لیاقت علی صاحب نے تو وہی رونا شروع کردیا تھا کیونکہ انکی بیٹی انھیں چھوڑ کر ہمیشہ کے لیۓ چلی گئی تھی۔۔

عائشہ کی طرف سے یک طرفہ محبت اور والدین کی طرف سے جہیز عائشہ کو اس دنیا سے فنا کر چکا تھا۔۔

"یہ وہی راجستھان کی عائشہ ہے جو جہیز لڑائی جھگڑوں اور یکطرفہ محبت سے تنگ آکر خودکشی کر بیٹھی ہے۔۔

یہ خود سے بنائی گئی کہانی نہیں کے بلکہ دو ماہ پرانی حقیقی کہانی ہے"

∆∆∆∆

اس تمام واقعے کے بعد پولیس نے عارف کو گرفتار کرلیا تھا۔۔

اور اسکے موبائل سے سارا ڈیٹا نکلوایا۔

جس میں لاسٹ کال عائشہ کی تھی اور وہ بلک بلک عارف کی منتیں کررہی تھی۔۔

کہ مجھے لے جاؤ۔۔

لیکن عارف نے تو اسے روبا کی تصویر بھی بھیجی تھی کہ میں اس سے شادی کروں گا اسلیۓ تمھیں ساتھ رکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں۔۔

یعنی عائشہ نے جاتے جاتے بھی بہت کوشش کی تھی عارف کو منانے کی لیکن عارف نہیں مانا۔۔

"حقیقت میں تو جہیز کا مطلب تیاری کرنا ہے"

اور یہ تیاری شادی پر کرنا جائز ہے۔۔

لیکن یہ تیاری مرد کے ذمے ہے نہ کہ عورت کے اور اسکے گھر والوں کے۔۔

نیشنل کرائم ریکارڈ کے مطابق سات ہزار لڑکیاں خودکشی کرتی ہیں صرف جہیز کی وجہ سے۔۔۔

پریس کانفرنس میں شرکت کی ہوئی تھی لیاقت علی صاحب نے۔۔

"عائشہ چلی گئی ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ ہمیں چھوڑ کر" لیاقت علی صاحب رومال سے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے بولے ۔۔

اب عارف کو پھانسی ہوجاۓ یا پھر کچھ بھی ہوجاۓ میری عائشہ نے واپس نہیں آنا۔۔

اب میری ایک ہی التجاء ہے آپ سب سے میری باقی جتنی بھی عائشہ ہیں اُن سب کو بچا لو۔۔۔

آپ لوگ کسی بھی دھرم سے ہو۔۔

(مسلمان ہو) ٫ (ہندو ہو) ٫ (کرسٹن ہو) کچھ بھی ہو خدا کے لیۓ جہیز کا خاتمہ کرو۔۔

کیونکہ کتنے ایسے ماں باپ لاچار ہیں جو جہیز کی وجہ سے خود بھی زلیل وخوار ہورہے ہیں اور اُن کی بیٹیاں بھی۔۔

اسلیۓ سب سے میں منت بھرے انداز میں کہ رہا ہوں کہ خاتمہ کرو جہیز کا۔

لیاقت علی صاحب نے بول کر مائک کو پیچھے کردیا اور خود کھڑے ہوگۓ۔۔

ختم شد....



COMMENTS

Name

After Marriage Based,1,Age Difference Based,1,Armed Forces Based,1,Article,7,complete,2,Complete Novel,611,Contract Marriage,1,Doctor’s Based,1,Ebooks,9,Episodic,277,Feudal System Based,1,Forced Marriage Based Novels,4,Funny Romantic Based,1,Gangster Based,2,HeeR Zadi,1,Hero Boss Based,1,Hero Driver Based,1,Hero Police Officer,1,Horror Novel,2,Hostel Based Romantic,1,Isha Gill,1,Khoon Bha Based,2,Poetry,13,Rayeha Maryam,1,Razia Ahmad,1,Revenge Based,1,Romantic Novel,22,Rude Hero Base,3,Second Marriage Based,1,Short Story,68,youtube,30,
ltr
item
Urdu Novel Links: Jeheiz By Bint E Shah Jahan Ali Short Story
Jeheiz By Bint E Shah Jahan Ali Short Story
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhMS3eQYWDin_E7iT_GNLmLn0QCCJeyDvl5B4yp6yN2kqnzOGTlYQRNOaCBTHWfLz64Jmy3cs5lZFJ8fjgWeFfolj9uCPoGjJlNoYh5Y0FDHKeWFCTuWXq55XqKJPPJr41pJfgLVZ2aLdRfvTE2q6D7YSEsHl5jzBZdou85fNjD04AEbs4R1MthB7fD/w400-h271/288356859_515099560369561_3771970741584090237_n.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhMS3eQYWDin_E7iT_GNLmLn0QCCJeyDvl5B4yp6yN2kqnzOGTlYQRNOaCBTHWfLz64Jmy3cs5lZFJ8fjgWeFfolj9uCPoGjJlNoYh5Y0FDHKeWFCTuWXq55XqKJPPJr41pJfgLVZ2aLdRfvTE2q6D7YSEsHl5jzBZdou85fNjD04AEbs4R1MthB7fD/s72-w400-c-h271/288356859_515099560369561_3771970741584090237_n.jpg
Urdu Novel Links
https://www.urdunovellinks.com/2022/06/jeheiz-by-bint-e-shah-jahan-ali-short.html
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/2022/06/jeheiz-by-bint-e-shah-jahan-ali-short.html
true
392429665364731745
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content