--> Sitam By Zoe Rajpoot Short Story | Urdu Novel Links

Sitam By Zoe Rajpoot Short Story

 Sitam By Zoe Rajpoot Short Story Novel Name :  Sitam Author Name:  Zoe Rajpoot Category :   Novel status :  Short Story Novel description :...

 Sitam By Zoe Rajpoot Short Story

Novel Name : Sitam
Author Name: Zoe Rajpoot
Category : 

Novel status : Short Story

Novel description :

Assalam o Alaikum
Here is an awesome opportunity for all social media writers. If anyone is interested and want to publish their writings on our web then He / She can approach us through Email or our social media page.
knofficial9@gmail.com

whatsapp _ 0335 7500595

ستم

زوئی راجپوت


کیا ستم ہے کہ اب تری صورت

غور کرنے پہ یاد آتی ہے ۔۔


(جون ایلیا)


***


کیوں لکھتے ہو تم یہ دکھی شاعری ۔۔۔


کھنکتی آواز اس کے پہلو سے ابھری ۔ سگریٹ کو دبائے ہونٹ مسکرائے تھے ۔۔


تم کیا جانو یہ شاعروں کی باتیں یہ محبت کے مارے لوگ الفاظوں سے دکھ بانٹتے ہیں ۔۔۔


وہ لکڑی کی کرسی کی پشت سے سر ٹکائے ہر بار کا جواب پھر دے گیا ۔۔


 ہنہ دکھ بھی کوئی بانٹتا ہے بھلا ؟؟


آج بھی اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے پارس ۔۔۔


آنکھیں کھولی اور وہ تنہا تھا ہاتھ میں قلم  زمین پر پڑے جلتے بجھتے سگریٹ کا دھواں اور سامنے رکھے کورے کاغذ ۔۔۔


تمہیں یاد ہے پارس تم کہتی تھی شاعر مردہ دل ہوتے ہیں ۔۔۔

میں تمہاری بات پر ہنس پڑتا تھا کاش کے سمجھ جاتا کہ تم کیوں کہتی تھی ۔۔۔


آنکھ سے موتی بے مول ہوا آج اسے بچھڑے دس سال ہو گئے تھے پر وہ ابھی تک وہی تھا اس پل میں اٹکا ۔۔۔


شازم۔۔۔


مصطفی ۔۔۔


 مصطفی کو دیکھ شازم کرسی سے اٹھا اور قلم کو کاغذ پر رکھ اک خاموش نظر اسے دیکھ پلٹ گیا


کیسے ہو ؟؟

مصطفی نے پوچھا


شاعروں سے ان کا حال نہیں پوچھتے پگلے ۔۔۔

وہ اس کے بغلگیر ہوتے ہوئے بولا ۔۔


 ہمم صحیح کہا میں یہ بتانے آیا تھا کہ مجھے اس گاؤں جانا ہے جہاں تمہارا پرانا گھر تھا وہاں کچھ زمینیں ہیں ہماری اور ان کا کچھ مسلہ ہے کچھ دن لگ جائے گے مجھے کیا تم پرانے گھر میں رہنے کی اجازت دے سکتے ہو؟؟؟


مصطفی جانتا تھا تمہید فضول ہے اس لیے وہ سیدھا مدعے کی بات کر گیا ۔۔۔

 

مصطفی کی بات سن کچھ پرانی یادیں شازم کے ذہن کے پردے پر روشن ہوئی ۔۔۔


ہاہاہا شازم اگر تم شاعر نہ بنو نا تو یقیناً تم مزاح نگار ہوتے ۔۔۔


وہ جھولے پر بیٹھی  سنہری گنگھریالے  بالوں کو کھولا چھوڑے ہوا کے سنگ اڑتی تتلی سی لگتی تھی ۔۔۔


"کچھ خبر ہے تمہیں اس پھول پر کیا گزری

جس کو تم پھینک گئے زُلف سے جُدا کر کے"


شازم ۔۔


وہ جو ماضی کے خیالوں میں گم تھا مصطفی کی اواز سے ہوش میں آیا ۔۔۔


میں کچھ پوچھا ہے کیا اجازت دے دو گے ۔۔۔


ہا۔ہاں پر میں ساتھ جاؤ گا کافی عرصہ ہو گیا اس گھر میں قیام کیے ۔۔۔


وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولا ۔۔۔


ہم ٹھیک ہے میں کل آؤ گا ساتھ چلیں گے میرے دن بھی گزر جائیں گے۔۔۔


مصطفی کو بھی یہ بات مناسب لگی تبھی فوراً مان گیا ۔۔۔۔


مصطفی کے جانے کے بعد ایک دفعہ پھر وہ واپس اپنے ہجرے  آیا میں جہاں صرف ایک پلنگ ایک کرسی میز جو عین کھڑکی کے سامنے تھا اور ایک چھوٹی سی الماری تھی ۔۔۔


شازم ایک نظر کمرے میں دیکھ  اپنے قدم الماری کی طرف بڑھائے۔۔۔


ایک پٹ کھول کر ایک لفافے کو ہاتھ میں پکڑے وہ کرسی تک آیا لفافہ میز پر رکھتے اس کے چہرے پر شادابی تھی مانو جیسے اس کے ہاتھ میں  خزانے کا نقشہ  ہو ۔۔۔۔


وہ نظریں لفافے پر جمائے ایک سگریٹ سلگا گیا ۔۔۔۔


تمہیں پتہ ہے میں نے خود سے کچھ لکھا ہے  تمہیں سنانا چاہتا ہوں تم کہتی تھی نا کے میں دوسروں کی شاعری پر زندگی کو روگ لگا چکا ہوں ہاں تم سچ کہتی تھی تمہارے جانے کے بعد احساس ہوا کے تم سچ کہتی تھی آج میں چاہ کر بھی اپنے الفاظ نہیں سنا پا رہا پر میں جانتا ہوں تم سن سکتی ہو میری ہر بات تم تک حرف بہ حرف پہنچ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔


وہ سانس لینے کو روکا نظریں ہنوز لفافے پر تھی ۔۔۔۔


آج میں سنانا چاہتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔


 سنو گی نا؟؟


 عرض کیا ہے ۔۔۔


محبت ہماری ٹوٹی پھوٹی

دو پہیوں کی سائیکل جیسی ۔۔۔


محبت ہماری روٹھی روٹھی

آگ میں دہکتے کوئلے جیسی


محبت ہماری زخمی بھی ہے

بن پانی کے پیاسے جیسی


محبت ہماری پیاری بھی ہے  ۔

صبحِ کوئل کی کوکو جیسی ۔


سوچا تھا کہ کبھی ختم نہ ہو گی

امرہے خضرِ حیات جیسی ۔۔۔


پر ستم ہے یہ کے فنا ہو جائے گی

نہیں قسمت ہے اس کی نواب جیسی ۔۔۔۔


✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧


پتہ ہے پتہ ہے تم ہنس رہی ہو میری شاعری ہمیشہ بکواس لگتی ہے تمہیں پر یقین جانو یہ میری ہے کسی کے الفاظ نہیں یہ ۔۔۔


وہ لفافے کو ہاتھ میں پکڑے ہنسا تھا پر کھوکھلی ہنسی تھی یہ اس کی ۔۔۔


اخر ہمت کر اس نے لفافہ کھول لیا ۔۔۔


جانتی ہو دس سال پہلے جب تم یہ دے کر گئی تھی میں تب کچھ سمجھ نہیں پایا تھا میں نے اسے اپنی الماری میں رکھ دیا آج دس سال بعد اسے کھول رہا ہوں جب سب سمجھ گیا ہوں ۔۔۔


ہاتھ کانپے تھے لب پھڑپھڑائے تھے اس لفافے میں اک کانچ کے ٹوٹی چوڑی ایک قلم اور ایک خط تھا ۔۔۔


یہ وہ ہی چوڑی تھی جو گاؤں کے میلے پر ضد کر لے لی تھی اس نے اور قلم یہ وہ قلم تھا جو ناکارہ  ہو چکا تھا اور شازم  نے پھینک دیا تھا ۔۔۔


اس نے خط کھولا تو کاغذ میں چھپی تصویر اس کی گود میں گری ۔۔۔


یہ پارس اور شازم کی تصویر تھی جس میں وہ دونوں سب سے بے خبر قہقہے لگانے میں مصروف تھے شازم کا رخ پارس کی جانب تھا جبکہ پارس آسمان کی طرف منہ کیا قہقہ لگا رہی تھی۔۔۔

 

کسی قیمتی خزانے جیسے اس نے اس تصویر کو سینے سے لگایا اور خط پڑھنا شروع کیا۔۔۔


"  اسلام و علیکم!


امید ہے جب یہ خط تم پڑھو گے تب میں تمہارے پاس نہیں ہونگی ۔۔۔


میں جانتی ہوں تم میرے جذبات سے آشنا نہیں ہو ۔۔


پر کیا کرو یہ میرے اختیار میں نہیں۔

میں نے ہر ممکن کوشش کی تم سے دور جانے کی پر میں ناکام رہی ۔۔۔


لیکن شاید ہمارا ساتھ خدا کو منظور نہیں تھا اس لیے مجھے اسی بیماری میں مبتلا کر دیا کے میں چاہ کر بھی تمہارے ساتھ نہ رہ سکوں۔۔۔


جانتی ہوں جب یہ خط تم پڑھوں گے تو تمہارا دل چاہے گا کے میرا قتل کر دو پر ہاں یہ سچ ہے میری شادی نہیں ہو رہی بلکہ مجھے اس گاؤں سے بے دخل کیا جا رہا ہے تا کہ یہ بیماری دوسری لڑکیوں کو نہ ہو جائے ۔۔۔۔


تمہیں اس لیے نہیں بتایا گیا کہ تم  سب سے میری خاطر لڑ پڑو گے ۔۔۔۔


مصطفی بھائی بہت اچھے ہیں وہ میرا جھوٹا نکاح کروا کر مجھے باہر کے ملک بھیج دے گے علاج کے لیے اور پتہ ہے وہاں یہ بیماری اتنی اہم نہیں جتنی ہمارے گاؤں میں بتائی گئی ہے ۔۔۔


آج تمہیں یہ خط میرے جانے کے بعد ملے گا نہیں جانتی جب واپس آؤ گی تمہیں سامنے پاؤ گی بھی کہ نہیں کیا پتہ کسی اور کے ہو گئے ہو پر میں تمہارا انتظار کروں گی اسی کچے مکان میں جہاں ہمارا بچپن گزرا ۔۔۔


تمہاری فقط تمہاری یتیم پارس۔۔۔۔"


شازم بے یقین تھا یا حیران کہنا مشکل تھا ۔۔۔۔


اس کاغذ کے نیچے ایک ریپوٹ بھی تھی جو ادھوری تھی یا شاید ادھوری دی گئی تھی جو صرف بیماری کے نام کو واضح کرتی تھی


" فبڑوئڈ "(رحم کی عضلاتی رسولی ) ۔۔۔۔


اسے اچھی طرح یاد تھا پارس کا اکثر تکلیف سے کراہنا جسے وہ معدے کے خرابی کہہ کر ٹال دیتا ۔۔۔۔


آج وہ خاموش تھا  اس نے سچ جانے کے لیے دس سال لگا دیے ۔۔۔


اور وہ باولی اس کے انتظار میں تھی۔۔۔۔


وہ اپنی حالتِ زار پر خودی ہنس پڑا ۔۔۔


"عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے"


آگ دونوں طرفہ تھی ایک بچپن سے تھی تو دوسری ہجر کی سولی لٹکنے کے بعد لگی ۔۔۔


شازم لفافے کے ہاتھ میں پکڑ کئی گھنٹے بیٹھا رہا سگریٹ ہاتھ جلا کر زمین بوس بھی ہوئی تو اسے خبر نہ ہوئی ۔۔۔


اس خط کی آخری سطر جیسے شازم کے مردہ دل کو زندہ کر گئی وہ جھٹکے سے اٹھا اور اپنے سامان کو سمیٹا ۔۔۔


اگلے دن وہ اور مصطفی اسی کچے مکان کے سامنے تھے جو اینٹوں اور غارے سے بنا تھا ۔۔۔


"میں تمہارا انتظار کروں گی اسی کچے مکان میں جہاں ہمارا بچپن گزرا ۔۔۔


تمہاری فقط تمہاری یتیم پارس۔۔۔۔"


اس گھر کو دیکھ شازم کا دل دھڑکا ۔۔۔


کیا وہ یہاں ہو گئی ؟؟؟


کیا دس سال کسی کے انتظار میں کوئی کاٹتا ہے ؟؟


کیا وہ تھک کے قدم واپس لے چکی ہے؟؟؟


بہت سے سوال ذہن میں گردش کر رہے تھے پر جواب ندارد۔۔۔


مصطفیٰ اس کی حالت سمجھ رہا تھا اس لیے خود ہی اگے بھر کے دروازے کو کھولا سالوں سے بند پڑے مکان سے دھول مٹی کے سوا کچھ نہ ملا شازم کو ۔۔۔


ایک سرد سانس ہوا کے سپرد کی اور گھر میں داخل ہوا ۔۔۔۔


بچپن یتیمی کا بچپن جس کی ساتھی تنہا اپنی لڑائی لڑتی رہی اور وہ محض شاعروں کی دکھی شاعری کا روگ پالے سب گنواتا گیا ۔۔۔۔


مصطفی وہ واحد بندہ تھا جو شازم اور پارس کے بارے میں سب جانتا تھا اسی نے ہی پارس کے علاج کے لیے اسے باہر کے ملک بھیجا تھا  جہاں اس کی بہن رہتی تھی ۔۔۔


شازم سر جھٹکتا مصطفی کے ساتھ گھر کی صفائی کروانے لگ گیا اس نے ایک بار بھی مصطفی سے نہیں پوچھا تھا کہ کیوں نہ بتایا اس کو پوچھتا بھی کیسے جواب جانتا تھا


دیری اس نے خود کی تھی جواب تو مصظفی دس سال پہلے بھی دے سکتا تھا ۔۔۔۔


وہ کاموں سے فارغ ہوئے ہی تھے کے گھر کے باہر ایک چمکتی کالے رنگ کی گاڑی روکی ۔۔۔


شازم اور مصطفی دونوں اس گاڑی کو دیکھنے باہر آئے کے یہ کون ہیں جو ہمارے گھر آئے ہیں ۔۔۔


اسی وقت گاڑی کا دروازہ کھولا اور امبرین مصطفی کی بہن جو بیرونِ ملک رہتی تھی باہر آئی ۔۔۔


شازم حیران تھا کہ یہ کیوں آئی وہ بھی اسی گھر اس وقت جب ہمیں آئے ایک دن بھی نہ گزرا  تب ایک دفعہ پھر گاڑی کا  دروازہ کھولنے کی آواز آئی  سنہری گنگھریالے بالوں کی وہ آبشار اب حجاب و نقاب میں چھپ گئی تھی ساحل سی گہری آنکھیں جھکی تھی عبایے میں چھپا پاوں گاڑی سے باہر نکلا اور ادھر شازم کا دل اس کے پسلیوں کو توڑنے پر کر باہر آنے کو تھا وہ ساکت تھا جامد تھا جیسے پتھر ہو ہوش تو مصطفی کی آواز سے آیا


دیکھ بھائی میری شادی پر میں تجھے چھوارے بھر بھر کے دیے تھے اب تیرے نکاح پر مجھے تجھ سے دعوت چاہیے ۔۔۔


نکاح۔۔۔


سرگوشی کی صورت الفاظ ادا ہوئے ۔۔۔


پارس ۔۔۔


ہاں وہ سامنے تھی اس کے اس کے انتظار میں بیٹھی اس کی پارس ۔۔۔


وہ خوش تھا یا دکھی کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا وہ ۔۔۔


آنکھوں سے لڑیوں کی صورت آنسوں بہہ رہے تھے ایک کی نظریں جھکی تھی تو دوسری طرف خود کو یقین دھانی کرائی جا رہی تھی۔۔۔


 امبرین اگے بڑھ کر پارس کو لیے اندر ائی اتنے میں مصطفی بھی گاؤں کے امام مسجد اور چند لوگوں کو لے آیا شازم حیران و پریشاں تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ابھی اسے یقین تو ہوا نہیں تھا کہ دس سال کا ہجر اختتام کو پہنچا ابھی تو دیدارِ یار کرنا تھا جو پردے کے پیچھے چھپ گیا تھا پر مصطفی نے اسے کسی سوال کی اجازت نہ دیتے ہوئے اس کا نکاح پارس سے کروا دیا۔۔۔۔


محبوب جب آپ کے نام ہو جائے تو دنیا فتح کرنے جتنی خوشی ہوتی ہے ۔۔۔


کچھ ایسی خوشی شازم اور پارس کو بھی ہوئی۔۔۔۔

نکاح کے بعد پارس شازم کو پیغام بھیجواتی ہے ملاقات کا ۔۔۔


وہ چھت پر بنے کمرے کی ٹوٹی کھڑکی میں کھڑی باہر شام ڈھلنے کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔


پارس۔۔۔


دس سال بعد آج اسے اپنا نام خوبصورت لگا تھا ۔۔۔


شاعر صاحب آپ نے بہت انتظار کروا دیا ۔۔۔

شکوہ تھا جو دس سال سے دل میں لیے بیٹھی تھی ۔۔۔


مجھے معاف ۔


انہہہ نہ معافی مت مانگیں یہ تو طے تھا ہماری قسمت میں تھا بس شکوہ ہے تو صرف اتنا کہ بہت وقت گزر گیا ۔۔۔


میں ازالہ کروں گا اب کبھی بھی رخِ منفی کی طرف نہیں جاؤ گا شاعری بھی چھوڑ دوں گا اب صرف میں اپنی دنیا میں جیؤ گا جس میں صرف ہم اور خوشیاں ہونگی ۔۔


وہ پارس کا ہاتھ پکڑے ایک عزم سے بولا ۔۔


جانتے ہیں میں نے پردہ شروع کر لیا جب میں بیمار تھی تو لوگوں نے میرے کردار کو نشانہ بنایا حالانکہ میں بلکل شفاف تھی ۔۔۔


پر نہیں یہ دنیا  سنی سنائی کو سچ اور حق مانتی ہے یہ نہیں کہتی کہ یہ اللّٰہ کی طرف سے تھی اور وہ ہی شفا دینے والا ہے ۔۔


جب جب میں تمہیں خود کو الفاظوں کے روگ میں رولتے دیکھتی میرا دل جلتا پھر جب میں شفایاب ہوئی تب پہلی دعا تمہارے روگ کے خاتمے کی تھی ہاں میرے رب کے گھر دیر ہے پر اندھیر نہیں اور اس نے میری سن لی میں آج مکمل ہوئی ۔۔۔

پارس کی آنکھیں نم تھی پر ہونٹ مسلسل مسکرا رہے تھے۔۔۔

میں وعدہ کرتا ہوں میں تمہادی ہر سرد و گرم سے حفاظت کرو گا ۔۔۔۔

اور ہر اس شے سے توبہ کرتا ہوں جو مجھے اپنے اصل سے دور کرے ۔۔۔


 اللّٰہ تمہاری توبہ قبول کرے ۔


آمین ثم آمین ۔۔۔


ختم شد ۔۔۔



COMMENTS

Name

After Marriage Based,1,Age Difference Based,1,Armed Forces Based,1,Article,7,complete,2,Complete Novel,611,Contract Marriage,1,Doctor’s Based,1,Ebooks,9,Episodic,277,Feudal System Based,1,Forced Marriage Based Novels,4,Funny Romantic Based,1,Gangster Based,2,HeeR Zadi,1,Hero Boss Based,1,Hero Driver Based,1,Hero Police Officer,1,Horror Novel,2,Hostel Based Romantic,1,Isha Gill,1,Khoon Bha Based,2,Poetry,13,Rayeha Maryam,1,Razia Ahmad,1,Revenge Based,1,Romantic Novel,22,Rude Hero Base,3,Second Marriage Based,1,Short Story,68,youtube,30,
ltr
item
Urdu Novel Links: Sitam By Zoe Rajpoot Short Story
Sitam By Zoe Rajpoot Short Story
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEggNkV9Zue3yy2ZdUjiOl_hpJieZaf3ekpYaxIXYpu0PJDjiD1010Q1HHxc6u3YQ49ZddO4WRJz-awVgMz96JY_vjo5Z5pyLy5GUyDDTyPfQ2fD5yriI73Rn_vpBLAry4P4a-LQiMdr0ENgQaYJ4BP30dwssO1sVgRkPEbtxcLjAEJkLg9-PN5qUUx7uQ/w400-h400/305565604_204674511902338_6793070094218824813_n.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEggNkV9Zue3yy2ZdUjiOl_hpJieZaf3ekpYaxIXYpu0PJDjiD1010Q1HHxc6u3YQ49ZddO4WRJz-awVgMz96JY_vjo5Z5pyLy5GUyDDTyPfQ2fD5yriI73Rn_vpBLAry4P4a-LQiMdr0ENgQaYJ4BP30dwssO1sVgRkPEbtxcLjAEJkLg9-PN5qUUx7uQ/s72-w400-c-h400/305565604_204674511902338_6793070094218824813_n.jpg
Urdu Novel Links
https://www.urdunovellinks.com/2022/09/sitam-by-zoe-rajpoot-short-story.html
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/2022/09/sitam-by-zoe-rajpoot-short-story.html
true
392429665364731745
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content