--> Main Kon By Zoe Rajpoot Short Story | Urdu Novel Links

Main Kon By Zoe Rajpoot Short Story

 Main Kon By Zoe Rajpoot Short Story Novel Name :  Main Kon Author Name:  Zoe Rajpoot Category :   Novel status :  Short Story Novel descrip...

 Main Kon By Zoe Rajpoot Short Story


Novel Name : Main Kon
Author Name: Zoe Rajpoot
Category : 

Novel status : Short Story

Novel description :

Assalam o Alaikum
Here is an awesome opportunity for all social media writers. If anyone is interested and want to publish their writings on our web then He / She can approach us through Email or our social media page.
knofficial9@gmail.com

whatsapp _ 0335 7500595

میں کون

زوئی راجپوت


نی نچناں میں ساری رات نچناں

کوئی نہ روکے میں آج ساری رات نچناں


بے ڈھنگ سے قہقہے، بے سروپا موسیقی، شور و غل کا سماں تھا ہر طرف ۔ مردانہ جسامت کی عورتیں (ٹرانسجینڈرز) کوئی کسی بات پے قہقہے لگا رہی تھی تو کوئی اپنے پیروں میں گھونگھروں  پہنے رقص کی مشق کر رہی تھی پر ان سب میں میرا کیا کام میں یہاں کیوں ہوں میرے آبا تو مجھے یہ کہہ کر گئے تھے کے یہاں رکو کچھ دیر میں آتا ہوں آج ہفتہ ہو چکا ہے وہ نہیں آئے ۔۔۔


 چنبیلی ری او چنبیلی یہ نا چھٹکی کو تیار کر آج وہ مارے ساتھ جاوے گئی اری او اسے بھی تو پتہ ہوئے نہ کے ہم یہی کام کرتے ہیں جا جلدی  ۔۔۔


شبعانہ اپنے نقلی بالوں کو سہی کرتی آنکھوں میں ویرانی لیے آج ایک معصوم ذہن درندوں کی دنیا کی نزر کرنے جا رہی تھی شاید اس لیے اداس تھی پر کیوں تھی ۔۔۔


چھٹکی چل دھی رانی یہ گرارا پہن لے بڑا سوہنا لگے گا تجھ پے  ۔۔۔


خالہ میں عثمان ہوں چھٹکی نہیں میں یہ نہیں  کر سکتا ۔۔۔۔۔


میں پھر ہر دفعہ کا کہا دہرا گیا پر جانتا تھا کہ اگے سن کے بھی ان سنا کیا جائے گا اور لے جایا جائے گا پھر کسی محفل میں جہاں میری بولیاں لگتی اور میرے بڑے ہونے کا انتظار ہوتا ۔۔۔


خیر مجھے شوق تھا لڑکیوں کی طرح کپڑے پہننے کا ان کی طرح چوڑیاں چھنکانے کا پر میں  نے یہ سب نہیں چاہا تھا


 سات سال کا  تھا جب ابا مجھے یہاں چھوڑ گئے جسے ہجڑوں کی کوٹھی کہتے ہیں ایک خستہ حال دس مرلے کے مکان کو کوٹھی کہا گیا ۔۔۔


میرے ابا مجھے اکثر کئی محفلوں میں نظر آئے پر ملنے نہ دیا گیا یہ کہا گیا کہ عثمان کا وجود ختم ہو چکا ہے یہ چھٹکی ہے جس کا ہمارے سوا کوئی نہیں ۔۔۔


میں ڈر گیا یا گئی خیر فرق نہیں پڑتا کیوں کہ کسی کو ہم سے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔


میں اکٹر سوچتا ہوں کہ میرے گھر والے کیوں چھوڑ گئے مجھے حالانکہ لاڈلا تھا سب پیار کرتے تھے پھر کیوں چھوڑ گئے ؟۔


پر جواب  ندارد ۔


اللّٰہ کی بنائی گئی بہت سی چیزیں انسان کی عقل و شعور سے بالاتر ہیں وہ ان تک رسائی کی تمنا ضرور کرتا ہے رسائی حاصل نہیں کر پاتا ۔۔۔


مجھے اکثر ابا کہتے تھے بیٹا دنیا ایک جیسی نہیں اور میں

میں معصوم کچھ سمجھ نہ پایا ۔۔


میں اکثر سوچتا تھا کے یہ کیوں ہے ایسے ان کو اللّٰہ نے بنایا ہے تو یہ اس کی راہ پر چلیں خود کی  بولیاں لگوانا خود کی عزتِ نفس خود ہی کے پیروں تلے روندنا صرف کس لیے پیسوں کے لیے ۔۔۔


پر جب خود اس دلدل میں گرا تو پتہ چلا پیٹ کی آگ کمبخت ظالم ہے جو کوئی عزت کوئی رتبہ نہیں دیکھتی ۔۔

 

مجھے آج بھی یاد ہیں شبعانہ خالہ کی باتیں جب وہ اپنی آخری سانسوں پر تھی ۔۔۔


سردیوں کی ٹھڑٹھرا دینے والی ایک کالی رات جسے رات کی دھند نے ہر طرف سے گھیرا ہوا تھا ہمارے پہنے کے لیے وہی پتلے ریشمی سوٹ محفلوں سے کمائی جانے والی روزی بھی تب نہ کے برابر تھی کیونکہ کوئی بلاتا نہیں تھا میں تب  کمسن جوان اپنے غیر معمولی حسن کا مالک عثمان عرف چھٹکی بھی کسی کام کا نہ رہا ہمارے کنبے کے کچھ ہجڑے اپنی ناشکری اور دولت کی لت میں غرق قومِ لوط کی یاد تازہ کرتے رہے ۔۔۔


میں شبعانہ خالہ کے سرہانے بیٹھا تھا جب ان کی ہنسی کی آواز آئی


میں حیرت سے ان کے چہرے کو دیکھا کہ وہ کیوں ہنس رہی ہیں ۔۔۔


مارے پاس تمہیں بتانے کو کچھ ہے پر وعدہ کر تو" ہم" نہیں بنے گا ۔۔


میں کیا کہتا میں تو "میں "بھی نہیں تھا ۔۔۔


خیر میں نے ہامی بھر لی ۔۔۔


پھر شبعانہ خالہ نے مجھے ساتھ لیٹا لیا اور میرے کندھے تک آتے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی ۔۔۔


جب میں جنی تھی نہ تو ماری دائی ماں بولی تھی یہ لڑکی ہے ۔۔۔


مارا باپو بڑا خوش ہوے ہم سات بھائیوں بعد آئے ہیں ۔۔۔


پر باپو کی یہ خوشی نا دو پل کی تھی جب وہی دائی کہتی ہے کہ نہ نہ یہ تو لڑکا ہوے  ماری  ماں بھی بڑا پریشان تھی کہ ای کیا بات ہوے کبھی لڑکا کبھی لڑکی یہ تو مارے کو گھن چکر بناوے باپو بڑا غصے میں ہم کو  اس کی گود سے لیا اور ہم سے کپڑا اٹھا کے دیکھا کہ ہم لڑکا ہیں کے لڑکی پر ہم تو دونوں نہیں تھے ہم تو تھے کھسرے۔  (ہجڑے)


ہمارا باپو بڑا پریشان ہوے کہ ای کی ۔۔


وہ ہم کو لے گیا بہت بڑے ہسپتال وہاں کی ڈاکٹر نے ان کو مواں انگریجی میں کچھ بولی ٹرانسپوٹیٹر  ۔۔۔


خالہ ٹرانسجینڈر ۔۔۔


خالہ کی بدولت ہی میں ایف اے کی تیاری کر رہا تھا سو ان کے بولنے کی مشکل میں نے  آسان کر دی  ۔۔۔


ہاں ہاں وہی وہی پھر مارا باپو لال ٹماٹر ہوا اور ہم کو وہی پھینک گیا ۔۔۔


کچھ پل خالہ خاموش رہی ان کی نظریں چھت پر تھی اور میری غیر مرئی نقطے پر کتنا کچھ تبدیل تھا میری کہانی میں میں اکلوتی بہن کا بہن نما بھائی  اپنی بہن کے پیدائش کے دس سال بعد منت و مرادوں سے منگا بچہ جسے سات سال تک ایک لڑکے کی حیثیت دی گئی پر جب دنیا کو اس کی چال میں فرق نظر آیا تو کتنی خاموشی سے نکال باہر کیا زندگی سے دودھ سے مکھی بھی اتنی جلدی نہیں نکلتی جتنی جلدی میں اپنوں کی زندگی سے نکلا۔۔۔۔


میں خود میں مگن تھا جب خالہ کی آواز آئی ۔۔۔


مارے کو کوڑے میں پھینک دیا تھا ظالموں نے کون گھر لے جاتا کوئی نہ پر کہتے ہیں نہ ہر کوئی برا نہیں ہوتا وہاں بھی ایک اماں تھیں بھلی چنگی صاف دل روشن چہرہ میرے لیے تو فرشتہ تھی وہ مجھے اس کوڑے سے اٹھا کے لے آئی وہ اکیلی تھی کوئی نہیں تھا اس کا وہ ہسپتالوں میں سکولوں میں صفائیاں کر کے روٹی کھاتی تھی ۔۔۔


 میں بڑی ہوئی تو اماں مجھے مدرسے ڈال دیا میں حافظ یا حافظہ جو کہہ لو وہ بنی آج بھی ایک ایک سورت ترجمے ساتھ یاد ہے مارے کو ۔۔۔۔


یہ وہ مقام تھا جہاں وہ مصرا حقیقت لگا مجھے "حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹنا"


خالہ خاموش ہوئی اور میری غیر معمولی کھولی آنکھوں کو دیکھ ہنس پڑی۔۔۔


میں جتنی حیرت پے قابو پانے کے کوشش کرتا ناکام تھی کئی سوال ذہن میں تھے کئی باتیں ادھوری تھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہے ؟ کون  ہیں ہم ؟ اللّٰہ کی بنائی ہوئی مخلوق جسے انسان کہتے ہیں ؟ تو دنیا کیوں نہیں مانتی ۔  کیا ہم ان کی حوس کی تسکین کے لیے بنائے گئے ہیں ؟ تو قرآن ہمیں یہ سب کیوں نہیں کہتا کہ سہی ہے ؟


ہم اللّٰہ کی راہ پر چلنے کے لیے بنے ہیں؟  تو یہ دنیا ہمیں کیوں نچواتی ہے ؟؟

 بہت سی گرہیں الجھ کر رہ گئی تھی پر اتنا سمجھ آ چکا تھا اللّٰہ کی اس زمین اس کی اشرف المخلوقات میں مرد و عورت کی دنیا میں  ہم حقیر مخلوق ہے ۔


چند پل کی خاموشی کو خالہ کی بھیگی آواز نے توڑا  ۔۔


ہم جب پندرہ سال کی تھی نہ تب اماں ہم کو چھوڑ چلا گیا ہم بڑا روئے ماں سے زیادہ پیار کیا تھا انہوں نے ہم سے ۔۔۔


ان کی اواز بھیگی سی پر اس میں بلا کی عزت تھی جیسے اس ہستی کے سامنے آ جانے سے وہ ان کے پاؤں چوم لیں گی ۔۔۔


ہم اکیلے رہ گئے اماں نے ہم کو لڑکی بنایا تھا اور وہ جس ہسپتال میں کام کرتی تھی وہاں کی ڈاکٹرنی نے بھی کہا ایک آپریشن ہو گا مارا جس سے ہم پورا لڑکی بن جاوے گا  اماں بڑی محنت کیا کے پیسہ ملے اور ہم لڑکی بن جائے ۔۔۔


پر اماں کماتے کماتے یہ خواب لیے چلی گئی ۔۔۔


جاتے جاتے اپنی جمع پونجی کا وارث مجھے بنا گئی جو ایک گھر ایک قرآن پاک اور اپنے پیسوں کا گتھلا  ۔۔۔


جب تک گتھلی میں پیسہ تھا سب سہی تھا پر جب پیسہ ختم تو اچھائی کا تماشا بھی ختم کوئی سنتا نہیں تھا ۔۔


حاجی نمازی ایسے بھاگتے جیسے مجھے چھوت کی بیماری ہو ۔


خیر پھر ایک وقت ایسا آیا کے میں در در بھیک مانگتی کے کچھ کھانے کو دے دیو بھوک سے مر جاؤں گی  ۔۔


کون کمبخت کہتا مرنا آسان ہوے جب موت انکھ کے سامنے اوے نہ تو انسان زندگی کا بھیکاری بن جاوے ہے موت نہ چاوے ۔۔۔


خالہ کی بات دل کو لگی تھی مرنا آسان ہوتا تو لوگ سکون کی جگہ موت مانگتے ۔۔۔


پھر مارے محلے کا ایک اوباش لڑکا رات کو مارے گھر گھس گیا


اور مارے  کو کھانا دیا میں  اسے بڑی دعائیں دی میں نے کہا ہم کو نوکری ملے گی  تو میں  تم کو اس کا پیسہ لوٹا  دوں گی کیونکہ اماں والی جگہ پر مارے کو نہیں رکھا گیا تھا   پر اس نے منع کر دیا اور کہا کہ مجھ کو پیسہ نہیں آج رات کے لیے تم چاہئے ۔۔۔


تم مجھ کو خوش رکھوں میں تمہیں ہر روز کھانا بھی دوں گا کپڑا بھی ۔۔۔


میں سوچ میں پڑ گئی پھر مجھے اپنا اللّٰہ یاد آیا جو کہتا ہے  ﴿اعوذباللہ من الشیطان الرجیم ﴾  میں وہ کھانے کی ٹرے اس کی سر میں مار دی وہ تو روتا روتا چلا گیا پیچھے کچھ دیر بعد ایک  ہٹی کٹی عورت کو اپنے ساتھ لے آیا جو یقیناً اس کی ماں تھی وہ ہم کو  گالی دے رہی تھی  پتہ نہیں کیا کیا اول فول بک رہی تھی مارے ہاتھ میں ابھی بھی وہی ٹرے تھی سٹیل کی جو ہم نے اس چھوکڑے کے سر ماری تھی وہی اس بڈھی کے سر  مار کر دونوں کا سر کھول دیا اللّٰہ اللّٰہ خیر سلا ۔۔۔


خالہ کے ہنسنے پر مجھے یقین ہو گیا کچھ دیر پہلے خالہ اسی بات پے ہنس رہی تھی ۔۔۔


پھر چھٹکی اگلے دن مارے کو ہجڑے لے گئے اپنے ساتھ وہ مجھے مارتے اور کہتے کے ناچ میں کہتی میں حافظ ہوں تو اور مارتے کہتے تو گند ہے اور پھر میں سچ کا گند بنا دیا  ماری دیدی  مارے کو مار کر خود روتی اور کہتی اگر یہاں دس تجھے خوش نظر آوے تو سو روتی ہوئے ملیں گی ۔۔۔


میں سمجھ گئی کے اب میں یہی کی ہوں سو نا چاہتے ہوئے بھی پیٹ کی دوزخ کو ایندھن دیتے رہی پر ہر رات اپنے اللّٰہ سامنے روئی کے کیوں ایسا بنایا پھر یاد آتا شکوہ گناہ ہے پر کہتی تو کس سے کہوں اپنے سارے دن کی تکلیفیں اس کہہ کر سو جاتی اب بھی سونے لگی ہوں مارے کو نہ اٹھانا میں نہیں اٹھنا ۔۔۔


خالہ خاموش ہو گئی اور ان کے سینے پر رکھا ہوا میرا سر ان کی دھڑکنوں کی خاموشی سن چکا تھا خالہ خود تو چلی گئی پر مجھے ایک منزل دیکھا گئی اب راستہ مجھے تلاش کرنا تھا ۔۔۔


 خالہ کے جانے کے بعد ایک ہفتہ لگا مجھے خود کو تیار کرنے میں کے میں کر سکتا ہوں۔۔۔۔


میں اس ہجڑوں کی کوٹھی سے رات کے اندھیرے میں بھاگ گیا  نہیں پتہ تھا کہاں جانا ہے کہاں نہیں لیکن بھاگتے بھاگتے میں ریلوے اسٹیشن پہنچا اور وہاں چھپ گیا نہ پاس پیسہ تھا نہ اور کچھ پر منزل پانی تھی اور پھر میری منزل کی طرف جاتی ٹرین بھی چل پڑی ۔۔۔۔


آخری سٹیشن پر پہنچ کر جب بھوک اور پیاس نے ہڈیوں تک کو جھنجھوڑا تب ٹرین سے نکل ادھر ادھر نگاہ دوڑائی دور ایک مسجد دیکھی دل سے اللّٰہ کو آواز دی اور کہا کے بہت بار ٹھکرایا گیا ہوں اس بار مت ٹھکرانا پر کبھی اللّٰہ نے بھی بندوں کو ٹھکرایا ہے۔۔۔


میں مسجد میں گیا تو سامنے پانی کا کولر تھا مجھے ایسا لگا صحرا میں بھٹکے پیاسے کو پانی کا دریا مل گیا ہو ۔۔۔


اپنی پیاس بجائی جب سر پر ہاتھ محسوس ہوا ۔۔۔


وہ وہاں کا امام تھا مجھے لگا اب میں گیا پر اس  کے برعکس ہوا سب ۔۔۔۔


بیٹا پانی بیٹھ کے تین سانسوں میں پیتے ہیں اور میرے بچے جتنا دل چاہے پیو کوئی روک ٹوک نہیں ۔۔۔۔


اس مہربان کی بات سن بے ساختہ آنکھوں سے آنسوں روا ہوئے  تب انہوں نے گلے سے لگایا اور وجہ پوچھی  میں خود بخود سب بتاتا چلا گیا جب نظر اٹھا کے دیکھی تو حیران تھا کے وہ بھی رو رہے تھے ۔۔۔


انہوں نے پھر مجھے قرآن سیکھایا وہاں مسجد میں ہی رہنے کی جگہ دی میری پڑھائی کا بھی انتظام کیا اور آج میں دنیا کے بھیڑیوں اور درندوں کے بیچ سر اٹھا کر چل رہا ہوں آج میں آپ سب کو بحیثیت ایک استاد علم سیکھا رہا ہوں اور مجھے خود پر فخر ہے جو میں ہوں کیونکہ بنانے والا اللّٰہ ہے جس کی بنائی ہر چیز حسین ہے ۔۔۔۔


کمرہ جماعت میں دیر تلک تالیوں کی گونج رہی جن میں تماشے کا عنصر نہیں تھا بلکہ عزت تھی وہ جو ہر انسان کا حق ہے ۔۔۔


ختم شد۔

 



COMMENTS

Name

After Marriage Based,1,Age Difference Based,1,Armed Forces Based,1,Article,7,complete,2,Complete Novel,610,Contract Marriage,1,Doctor’s Based,1,Ebooks,9,Episodic,275,Feudal System Based,1,Forced Marriage Based Novels,4,Funny Romantic Based,1,Gangster Based,2,HeeR Zadi,1,Hero Boss Based,1,Hero Driver Based,1,Hero Police Officer,1,Horror Novel,2,Hostel Based Romantic,1,Isha Gill,1,Khoon Bha Based,2,Poetry,13,Rayeha Maryam,1,Razia Ahmad,1,Revenge Based,1,Romantic Novel,22,Rude Hero Base,3,Second Marriage Based,1,Short Story,68,youtube,30,
ltr
item
Urdu Novel Links: Main Kon By Zoe Rajpoot Short Story
Main Kon By Zoe Rajpoot Short Story
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjotY2t2md-8sqLhu2B58hinEkl9XA9haX_nJ2LnwPmdBorqwHHlyYD96BH9qKwxdAJtfGYwtgtaxyNkXuXHiqKq-0g71CaTE6wMdfK7eD60YBT_ia9UUsEce0iSbSYSO4H9LpXjLuHb2TwnjHgD11NXCGhqYPznjgjCmuFd6eEjHFjw-F1DfA2olAl5A/w400-h400/305660191_204674895235633_7725797891543833359_n.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjotY2t2md-8sqLhu2B58hinEkl9XA9haX_nJ2LnwPmdBorqwHHlyYD96BH9qKwxdAJtfGYwtgtaxyNkXuXHiqKq-0g71CaTE6wMdfK7eD60YBT_ia9UUsEce0iSbSYSO4H9LpXjLuHb2TwnjHgD11NXCGhqYPznjgjCmuFd6eEjHFjw-F1DfA2olAl5A/s72-w400-c-h400/305660191_204674895235633_7725797891543833359_n.jpg
Urdu Novel Links
https://www.urdunovellinks.com/2022/09/main-kon-by-zoe-rajpoot-short-story.html
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/2022/09/main-kon-by-zoe-rajpoot-short-story.html
true
392429665364731745
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content