--> mann mane na novel by qanita khadija episode 1 read online | Urdu Novel Links

mann mane na novel by qanita khadija episode 1 read online

 mann mane na novel by qanita khadija episode 1 read online من مانے نہ قانتہ خدیجہ قسط نمبر 1   " میری می حائقہ۔۔۔ " بینچ پر ب...

 mann mane na novel by qanita khadija episode 1 read online



من مانے نہ

قانتہ خدیجہ

قسط نمبر 1

 

"میری می حائقہ۔۔۔"

بینچ پر بیٹھی حائقہ کے بالکل سامنے گھٹنے پر بیٹھے اس نے انگوٹھی اس کی جانب بڑھائی تھی۔

خوشی سے حائقہ کی آنکھیں جھلملا اٹھی۔۔۔ اپنے فراک کو دونوں مٹھیوں میں زور سے جکڑے ، لب چبائے اس نے ذولقرنین کو دیکھا۔

"پلیز سے یس۔۔۔" ذولقرنین کی آنکھوں میں اپنے لیے موجود محبت دیکھ اس کا دل باغ باغ ہوا۔

"مجھے چھوڑو گے تو نہیں؟۔۔" سوال ہوا

"کبھی نہیں۔۔"

"دوسری شادی؟۔۔"

"اس کے بارے میں تو سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔" جھرجھری لیے وہ ہنس دیا۔

"تمام عمر کے لیے میرا جنون، میرا پاگل پن سہے پاؤ گے؟۔۔"

"مرتے دم تک۔۔۔"

"یس!" بایاں ہاتھ آگے بڑھائے اس نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔

"میں تمہیں کہی نہیں جانے دو گی ۔۔۔۔ تم نے وعدہ کیا تھا ۔۔۔ تم مجھے ایسے نہیں چھوڑ سکتے، مجھے دھوکہ نہیں دے سکتے ذولقرنین!" اپنے بھرے وجود کی پرواہ کیے بنا اس نے ذولقرنین کا کوٹ دونوں ہاتھوں سے سختی سے تھاما تھا۔

"لیوو مائی وے حائقہ۔۔۔" ذولقرنین نے بھی اس کی پرواہ کیے بنا اسے خود سے دور جھٹکا۔

"نہیں ذولقرنین۔۔۔ مت جاؤ۔۔۔ تم نے وعدہ کیا تھا۔۔۔ تم کیسے کسی اور کے ہوسکتے ہو۔۔۔ تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔۔۔ میں تمہیں یہ شادی ہرگز نہیں کرنے دوں گی۔۔۔" حائقہ چلاتی ہوئی اسی کے پیچھے سیڑھیوں تک چلی آئی تھی۔

چلانے سے اس کا سانس پھول چکا تھا۔

"میں جارہا ہوں یہاں سے۔۔۔ اور مزید تم جیسی پاگل عورت کے ساتھ نہیں رہ سکتا میں۔۔۔بہت جلد طلاق دے دوں گا تمہیں میں۔۔۔" وہ بھی دوبدو چلایا۔

"میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں ذولقرنین۔۔۔" حائقہ نے آخری حربہ آزمایا۔

"یہ بچہ تمہیں ہی مبارک ہو۔۔۔ میں مزید تم جیسا کوئی دوسرا برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔"

غصے سے بولتا وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتا گھر کی دہلیز پار کرگیا تھا۔

"ذولقرنین۔۔۔ ذولقرنین۔۔۔۔ آہ۔۔۔" تیزی سے اس کے پیچھے سیڑھیوں سے نیچے اترتی وہ منہ کے بل زمین پر گری تھی۔

اس کی چیخوں سے پورا گھر دہل اٹھا تھا۔۔۔

جسم لہوں لہان ہوگیا تھا۔

تمام ملازمین اس کی جانب بھاگے تھے جس کی نگاہ اس دروازے پر ٹکی تھی جہاں سے وہ بےوفا جاچکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔

"ایم سوری ہم آپ کے بےبی کو نہیں بچا سکے۔۔۔ بےبی کی اتنی گروتھ بھی نہیں تھی اور پھر وقت سے پہلے سی-سیکشن۔۔۔ رئیلی سوری۔۔۔" ذولقرنین کا کندھا تھپتھپائے ڈاکٹر وہاں سے جاچکی تھی۔

"تم ۔۔۔ جاہل، منحوس، شکی عورت۔۔۔ میرا بچہ، میری اولاد کھا گئی۔۔۔ میں قتل کردوں گا تمہارا!"

ڈاکٹر کے روم سے نکلتے ہی ذولقرنین نے دونوں ہاتھوں سے حائقہ کا گلا دبانے کی کوشش کی تھی جو اپنی اولاد کی موت کا سن کر پتھرائی نگاہوں سے چھت کو گھورے جارہی تھی۔

"کیا پاگل ہوگئے ہو۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔" ذولقرنین کے باپ نے اسے پیچھے دھکیلا۔

"ہاں ہوگیا ہوں میں پاگل پہلے میری زندگی عذاب بنا ڈالی۔۔۔ اوپر سے میرا بچہ بھی مار دیا۔۔۔یہ عورت نہ تو اچھی بیٹی بن سکی، نہ اچھی بیوی اور نہ ہی اچھی ماں۔۔۔ڈائن ہے یہ۔۔۔اپنی ہی اولاد کو کھا گئی۔۔۔ اب مزید اس شکی عورت کو اپنی ندگی میں برداشت نہیں کرسکتا ۔۔۔میں ذولقرنین اپنے پورے ہوش وحواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں حائقہ، طلاق دیتا ہوں۔۔۔ مرو تم۔۔۔" اس کے بیڈ کو زور سے لات مارتا وہ وہاں سے جاچکا تھا۔

"چلو جی خس کم جہاں پاک۔۔۔ شکر ہے جلدی جان چھوٹ گئی اس چڑیل سے۔۔۔" اپنے دونوں ہاتھوں کو جھاڑتی ذولقرنین کی ماں لبوں پر مسکراہٹ سجائے بولتی وہاں سے جاچکی تھی۔

بستر پر موجود وہ بےجان وجود سسک اٹھا تھا۔

ترحم بھری نگاہ اس پر ڈالے وہ بھی بیوی اور بیٹے کی تقلید میں کمرے سے باہر چلے گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔

سات سال بعد:

"۔۔۔یہ عورت نہ تو اچھی بیٹی بن سکی، نہ اچھی بیوی اور نہ ہی اچھی ماں۔۔۔ڈائن ہے یہ۔۔۔اپنی ہی اولاد کو کھا گئی۔۔۔ اب مزید اس منحوس کو اپنی ندگی میں برداشت نہیں کرسکتا ۔۔۔"

ذہن میں گونجتے ان لفظوں کے ساتھ دور کہی سے موبائل کی رنگ ٹون بھی سنائی دی تھی۔۔۔ دکھتے بھاری سر کو تھامے ، سسکے اس نے مشکل سے دونوں آنکھیں کھولی تھی۔۔۔۔ سر درد سے بھاری ہوا جارہا تھا جبکہ آنکھیں رات جگے کی چغلی کیے لال انگارہ ہوچکی تھی۔۔۔ پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔ بیڈ کے پاس موجود ٹیبل پر خالی ہوئی سیگریٹ کا ایک پیک، اور ایشٹرے میں موجود ادھ جلے سیگریٹس۔۔

ایک بار پھر موبائل کی چنگھاڑتی آواز اس کی بند ہوتی آنکھوں کو کھولنے میں کامیاب ٹھہری تھی۔

ہاتھ دونوں جانب مارے آخر کار اس نے موبائل اٹھا ہی لیا تھا۔

"ہیلو۔۔۔" وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھ چکی تھی۔

"میم کہاں ہے آپ؟۔۔۔ نو بج چکے ہیں۔۔ آج ایک بہت بڑی پاڑتی آرگنائز کرنی ہے ہمیں۔۔۔میں کب سے آپ کو کالز کرنے کی کوشش کررہی ہوں۔۔۔ بٹ یو وار ناٹ آنسرنگ۔۔"

دوسری جانب سے اس کی سیکریٹری نے شکر کا سانس ادا کیا تھا اس کی آواز سن کر۔۔۔

"ڈیم اٹ۔۔۔" بند مٹھی کو اپنے سر پر مارے خود کو ہوش میں لانے کی کوشش کی تھی۔

"لسن ایم کمنگ۔۔۔ گھنٹے تک پہنچ جاؤں گی۔۔۔ تم باقی کا انتظام دیکھ لینا اوکے؟"

"بٹ میم۔۔۔اٹس آلریڈی لیٹ۔۔۔"

"شٹ اپ!" اس کی بات کاٹتی وہ درشتگی سے بولتی کال رکھ چکی تھی۔

سر کی تکلیف بڑھتی چلی جارہی تھی۔۔۔ مشکل سے کمرے کی لائٹس آن کیے وہ اپنا آپ سنبھالتی واشروم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔

پندرہ منٹ میں فریش ہوکر وہ واشروم سے باہر نکلی۔۔۔ گیلے بالوں کو ڈرائیر کی مدد سے سکھائے ، اس نے ڈریسنگ مرر کے سامنے اپنی شکل دیکھی تھی۔

آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ ہلکے، سیگریٹ پینے کی وجہ سے کالے ہونٹ، پیلا زرد چہرہ اور سر پر موجود ہلکے بال جن میں کئی سفید بال بھی اگ آئے تھے۔۔۔ڈریسنگ پر موجود میک اپ کو دیکھ گہری سانس خارج کیے اس نے اپنے چہرے پر میک اپ کی تہہ سجانا شروع کی تھی۔

پینسل ہیل پہنے وہ کمرے سے باہر نکلتے ہی ڈائنگ ہال میں داخل ہوئی تھی جہاں موجود ان تینوں چہروں کو دیکھ اس کا چہرہ خودبخود پتھریلا ہوگیا تھا۔

"نسرین۔۔۔ نسرین۔۔۔ دو پیناڈول لاکر دو جلدی سے۔۔۔ سر درد سے پھٹا جارہا ہے۔۔۔" نوکرانی کو آواز لگائے وہ آخر میں خود سے بولتی اپنی مخسوس چئیر کو کھینچ اس پر بیٹھ چکی تھی۔

اس کے آتے ہی تینوں وجود جو کچھ دیر پہلے ہنسی مزاق کررہے تھے اب تینوں خاموش ہوچکے تھے۔

"بیٹا ناشتے سے پہلے پیناڈول لینا ٹھیک نہیں ہے پہلے کچھ کھا لو۔۔۔" طاہرہ بیگم کے لہجے میں پریشانی در آئی تھی۔

ایک اچٹتی نگاہ ان پر ڈالتی وہ آنکھیں گھمائے ان کی بات کو اگنور کیے نسرین کے ہاتھ سے دونوں گولیاں تھامتی ایک ہی سانس میں نگل چکی تھی۔

"ناشتہ لے کر آؤ فوراً میرا۔۔۔ "اگلی ہدایت جاری ہوئی۔

پانچ منٹ میں ایک کپ بلیک کافی، ایک ہاف فرائی انڈا اور ایک ٹوس اس کے سامنے حاضر تھا۔

"اس ناشتے کو یہ نگلتی کیسے ہیں؟" میسم نے پاس بیٹھی سارہ کے کان میں سوال کیا جس نے خود کندھے اچکا دیے تھے۔

"میرے کمرے کی صفائی کردو۔۔۔ مجھے نکلنا ہے۔۔۔" اگلا حکم دیا گیا۔

"وہ بی بی جی۔۔۔وہ میں بعد میں کردوں؟۔۔۔ دراصل بڑی بی بی کے کچھ مہمانوں نے آنا ہے اور کچن میں کام بھی بہت۔۔۔"

"کیا تم مجھے انکار کررہی ہو؟" ناشتے سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے تھے اس نے۔

بنا نسرین کو دیکھے اس نے سوال کیا۔

نسرین کی سانسیں اٹکی، سر تیزی سے نفی میں ہلا۔

"نن۔۔۔نہیں بی بی جی۔۔۔" سر زور وشور سے نفی میں ہل رہا تھا اس کا۔

" صرف دس منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔ دس منٹ کا مطلب دس منٹ۔۔۔" اس نے کافی کا کپ لبوں کو لگایا۔

نسرین نے بےچارگی سے طاہرہ بیگم کو دیکھا جنہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں پہلے اس کا کام کرنے کو بولا تھا۔

میسم اور سارہ تو اس کے اس انداز پر عش عش کر اٹھے تھے۔

صفائی کی نیت سے کمرے میں داخل ہوئی نسرین کو کھانسی کا دورہ پڑا تھا۔

نگاہیں فوراً بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر گئی جہاں موجود ایش ٹرے دیکھ اس کی آنکھیں پھیلی تھی۔

مگر سر جھٹکتی وہ کمرے کی صفائی شروع کرچکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔

"واپسی کب تک ہے تمہاری؟" انہوں نے نہایت دھیمی آواز میں سوال کیا۔

"معلوم نہیں۔۔۔" اس نے کندھے اچکائے۔

"آج اگر جلدی آجاؤ تو؟۔۔" وہ کہہ کر رکی

"سمتھنگ اسپیشل؟" موبائل پر اپنی سیکریٹری کی آئی مزید پانچ مسڈ کالز کو دیکھ اس نے پوچھا۔

"ارسم کا برتھڈے۔۔۔"

"کام بہت زیادہ ہے۔۔۔ آج لیٹ آؤں گی۔۔۔" ان کی بات بیچ میں کاٹے حائقہ نے جواب دیا تھا۔

لہجے میں یکایک سختی در آئی تھی۔

"بی بی جی صفائی کردی ہے میں نے۔۔۔ اور یہ چابی۔۔۔" نسرین نے آکر کمرے کی چابی اس کے حوالے کی۔

"ٹھیک سے لاک کیا ہے؟" نسرین نے جھٹ سر اثبات میں ہلایا۔

چابی تھامے وہ اپنی جگہ سے اٹھتی وہاں سے جاچکی تھی۔

"تالا تو ایسے لگاتی ہے جیسے معلوم نہیں قارون کا کون سا خزانہ ہو اس محترمہ کے کمرے میں۔۔۔"سارہ کی آواز باخوبی اس کے کانوں تک پہنچی مگر اس نے اگنور کیا تھا۔

"سارہ!۔۔۔ بڑی بہن ہے تمہاری، تمیز سے۔۔۔" طاہرہ بیگم نے اسے ٹوکا۔

"بہن نہیں سوتیلی بہن۔۔۔ وہ بھی کسی قسم کا عذاب ہی ہے۔۔۔" میسم نے ان کی بات کی تصیح کی۔

"زیادہ زبان نہیں چلنے لگ گئی تم دونوں کی؟۔۔۔ آخر وہ کیا کہتی ہے تم لوگوں کو جو یوں اس سے اتنی خار کھاتے رہتے ہو ہروقت۔۔۔" طاہرہ بیگم کو اپنے بچوں کے الفاظ کچھ خاص پسند نہیں آئے تھے۔

"مام آپ ہماری مام ہے یا اس کی؟۔۔۔ جب دیکھے اسے فیور کرتی رہتی ہے۔۔۔اینڈ بائے دا وے اسے کچھ کہنے کی ضرورت بھی نہیں۔۔۔ اس کی موجودگی ہی گھر کا ماحول خراب کرنے کو بہتر ہے۔۔۔اتنا روڈ ایٹیٹیوڈ ہے اس کا۔۔۔" سارہ نے سر جھٹکا۔

"شی از ٹوٹلی رائٹ مام۔۔۔ وائے یو آلویز فیور ہر؟۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ نہیں بلکہ ہم آپ کی سوتیلی اولاد ہے۔۔۔سارہ نے بلکل ٹھیک کہاں اتنی روڈ ہے بٹ سٹیل یوں پریفر ہر۔۔۔" میسم نے بھی حامی بھری تھی۔

"کیونکہ تمہاری مام کو کھرے اور کھوٹے دونوں میں واضع فرق کرنا آتا ہے۔۔۔" اس کی آواز سن دونوں بہن بھائی کی سانسیں تھمی تھیں۔

"گاڑی کی چابی۔۔۔" ٹیبل سے چابی اٹھائے وہ سب کو دکھاتی وہاں سے نکل گئی تھی۔

"مجھے لگا موت میرے قریب ہے۔۔۔" اس کے جانے کا یقین کیے سب سے پہلے سارہ کے لب ہلے۔

"سیم سارہ سیم۔۔۔" میسم نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔

"اوکے مام ہم چلتے ہیں بائے۔۔۔" دونوں ماں کا گال چومے وہاں سے جاچکے تھے۔

"ٹائم سے گھر آجانا۔۔۔" انہوں نے پیچھے سے نصیحت کی تھی۔

"کیا بات ہے نسرین کچھ بتانا ہے؟۔۔۔" ا ب وہ نسرین کی جانب متوجہ ہوئی جو تب سے ہاتھ ملے جارہی تھی۔

"بی بی جی وہ۔۔۔ وہ جی چھوٹی بی بی جی کے کمرے میں۔۔۔ لگتا ہے پوری رات جاگتی رہی ہے۔۔۔ دو ڈبیاں خالی پڑی ہے جی۔۔۔" نسرین کے بتانے پر انہوں نے گہری سانس خارج کی تھی۔

"اچھا میں دیکھتی ہوں۔۔۔ تم ایسا کرو موبائل لاکر دو میرا جبران کو کال کروں۔۔" نسرین نے جلدی سے انہیں ان کا موبائل لاکر دیا تھا۔

"کال کیوں نہیں اٹھا رہا یہ لڑکا؟" جب دو تین بار کال کرنے پر بھی نہ اٹھائی تو انہوں نے لینڈ لائن ڈائل کیا تھا۔

"ہیلو؟۔۔۔" ایک معصوم ، جانی پہچانی مگر روندوں آواز ان کے کانوں سے ٹکڑائی تھی۔

۔۔۔۔۔۔

"ڈیم اٹ۔۔۔ اس گاڑی کو بھی آج ہی خراب ہونا تھا۔۔۔ دن ہی منحوس ہے۔۔۔" آدھے گھنٹے سے وہ بیچ راہ بند پڑی گاڑی کو چلانے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جارہی تھی مگر ناکام رہی۔۔۔ ایک تو ٹیکسی کی ہڑتال اوپر سے آس پاس کوئی میکینک بھی اسے نظر نہیں آیا تھا۔

"کیب لینا ہوگی۔۔۔" گاڑی کو لاک کرتی وہ روڈ کراس کیے دوسری جانب چل دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔

اے۔سی کی کھنکی میں شرٹ لیس وہ پیٹ کے بل ہلکے ہلکے خراٹے مارتا پرسکون نیند سویا ہوا تھا جب موبائل پر آنے والی کال نے اس کی نیند ڈسٹرب کی۔۔۔ آنکھوں میں نیند کی خماری لیے اس نے ہاتھ بڑھائے کال اٹھائے موبائل کان کو لگایا۔

"ہیلو؟۔۔" نیند میں ڈوبی اس کی آواز نجانے دوسری جانب سے کیا کہاں گیا کہ آنکھو ں میں موجود نیند پل بھر میں اوجھل ہوگئی تھی۔

"او شٹ۔۔۔" وہ اچھل کر بیٹھا۔

وال کلاک پر اس نے نگاہ ڈالی جہاں وقت دیکھ وہ فوراً دروازہ کھول ے وہ کمرے سے باہر نکلا تھا۔

پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا ماسوائے اس کمرے کے جہاں سے دو الگ الگ وجودوں کی رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔

بلکہ ایک کی ہلکی ہلکی سسکیاں جب کہ دوسرے کی چیخنے چلانے اورر رونے کی آواز آرہی تھی۔

"آدم بابا معیز بابا کو چھوڑدے۔۔۔" بوڑھے شفیق چاچا نے دیڑھ سالا آدم کو معیز سے دور کرنے کی پھر سے ناکام کوشش کی تھی جو معیز کے بالوں کو سختی سے دونوں مٹھیوں میں بھینچے مزید کھینچ چکا تھا۔

معیز خود کو چھڑوانے کی بجائے بس روئے جارہا تھا۔

"یا وحشت۔۔۔" اندر کا حال دیکھ کر جبران فوراً آگے بڑھا اور آدم کو معیز سے الگ کیا۔

جبران کو سامنے پاکر معیز اونچی آواز میں روتا اس کی ٹانگ سے لپٹے آدم کی شکایت لگانا شروع کرچکا تھا۔

"شکر ہے صاحب آپ اٹھ گئے۔۔۔" شفیق چاچا نے شکر ادا کیا۔

جبران کا دماغ تو کمرے کا حال دیکھ کر گھوم گیا تھا۔

اس نے بامشکل اپنے چھوٹے شیر کو سنبھالا جو ایک بار پھر معیز پر جھپٹنے کو تیار تھا۔

"یہ سب کیا ہے۔۔۔۔"

"بابا۔۔۔ آدم اچھا بےبی نہیں ہے۔۔۔ اس نے مجھےمارا۔۔۔ معیز نے دودھ بھی بنا کردیا۔۔۔ معیز کو چوٹ لگ گئی مگر آدم نے سارا دودھ میرے یونیفارم پر پھینک کر خراب کردیا۔۔۔ ہی از ناٹ آ گڈ برادر۔۔۔ اسے واپس چھوڑ آئے۔۔۔" رونے کی وجہ سے معیز کا پورا چہرہ لال ہوگیا تھا۔۔

اپنی معصوم شکایت لگائے اس نے باپ کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی مگر بھلا اور آدم صاحب کا جنہوں نے پیدا ہونے سے ہی بڑا زبردست قسم کا دماغ پایا تھا۔

جبران کے کچھ بھی بولنے سے پہلے وہ معیز کے بال دوبارہ اپنی مٹھی میں لیے انہیں کھینچنا شروع ہوچکا تھا۔۔۔ یہ اس کے بھائی کی سزا تھی اس کے خلاف کچھ بھی بولنے کی۔۔۔

"اوئے یار چھوڑ اسے۔۔۔ بڑا بھائی ہے تیرا۔۔۔ عقل کو ہاتھ مار جانی۔۔۔" جبران کا انداز نہایت فرینک تھا۔

ان دونوں باپ بیٹا پر احسان جتانے والا انداز اپنائے وہ معیز کے بال چھوڑ چکا تھا جو ایک بار پھر جبران کی ٹانگوں سے لپٹ کر رونا شروع ہوچکا تھا۔

"اور یہ فیڈر پھینکنے والی کیا حرکت تھی؟۔۔۔ اس کا یونیفارم خراب ہوگیا ہے۔۔۔" جس پرآدم نے یوں بنایا جیسے کہنا چاہتا ہو کہ وہ "دودھ پھینکنے قابل ہی تھا"

"شفیق چا چا یہ سب کیا ہے اور معیز ابھی تک سکول کیوں نہیں گیا؟" اس نے ٹائم دیکھا جہاں پونے دس بج چکے تھے۔

"اور آدم کی نینی بھی ابھی تک نہیں آئی۔۔۔ اور معیز کی وین؟۔۔۔ہوکیا رہا ہے آج؟"

"صاحب؟۔۔ آپ بھول گئے کیا؟۔۔۔ آدم بابا کی نینی کو آپ کل ہی فائر کرچکے ہیں اور معیز بابا کے وین ڈرائیور نے بتایا تھا کہ وہ آج آف پر ہے۔۔۔ اور آپ ہی نے رات کو کہاں تھا کہ آپ بابا کو صبح سکول چھوڑ کر آئے گے۔۔۔ اور میں تو خود ابھی آیا ہوں کیونکہ دس بجے تک ائیرپورٹ پہنچنا ہے ہمیں۔۔۔ وہ تو بچوں کی رونے کی آواز سن اندر چلا آیا۔۔۔" ان کے بتاتے ہی جبران نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا تھا۔

رات دیر گئے تک وہ ایک بزنس میٹنگ میں رہا تھا اور پھر گھر آتے ہی ایسی نیند آئی کہ اسے کسی چیز کا ہوش نہ رہا۔۔

"تو کک ابھی تک کیوں نہیں آیا؟۔۔۔ کم از کم بچے ناشتہ ہی کرلیتے۔۔۔" وہ جھنجھلا اٹھا۔

"وہ۔۔آپ اسے بھی کل فائر کرچکے ہیں۔۔۔" شفیق چاچا کے بتانے پر جبران نے گہری سانس خارج کی۔

"جاؤ چیمپ یونیفارم چینج کر آؤ۔۔۔" معیز کو اشارہ دیا۔

"مگر سکول کا ٹائم نکل چکا ہے بابا۔۔۔" معیز نے افسوس سے سر جھکایا۔

"ارے یار ٹینشن نہ لے کرلوں گا بات تمہاری میم سے۔۔۔ تم بس یونیفارم چینج کر آؤ۔۔" جبران کے بولتے ہی وہ سر ہلاتا واشروم میں جاگھسا تھا۔

آدم کو باہوں میں تھامے وہ دروازے کی جانب مڑا جب دروازے کے ساتھ موجود ٹیبل سے پیر کی چھوٹی انگلی ٹکڑائی۔۔۔

"آہ۔۔۔آج کا صبح ہی خراب ہے۔۔۔ کیا اس سے برا بھی کچھ ہوسکتا ہے؟۔۔" کہنے کی دیر تھی کی آدم صاحب پورا منہ کھولے اپنے چھوٹے سے پیٹ میں گیا تمام مال اگل چکے تھے۔

اپنی گندی ٹی-شرٹ کو دیکھتے جبران کی آنکھیں جھلملا اٹھی۔۔

"بابا دوسرا یونیفارم دھونے والا ہے۔۔۔" اندر سے معیز رو دیا تھا۔

"آہ۔۔۔۔" وہ ایک بار پھر سے چلا اٹھا۔

آدم کی ہنسی، معیز کا رونا اور جبران کی چیخ۔۔۔ شفیق چاچا نے کانوں پر ہاتھ رکھے افسوس سے ان باپ بیٹوں کی جوڑی کو دیکھا تھا۔

"یار آدم کتنا بار بولا ہے جو بھی مال نکالنا ہو یہاں نیچے سے نکالتے ہیں۔۔۔ تجھے ہر کام الٹ ہی کیوں کرنا ہوتا ہے؟۔۔۔" اس کے ڈائیپر پر ہاتھ رکھے جبران نے اسے سمجھانے کی ناکام سی کوشش کی تھی۔

"جبران۔۔۔ جبران۔۔۔" باہر سے آتی مانوس آواز پر اس کی آنکھیں خوشی کے مارے بھیگ گئی تھی۔

"خالہ امی۔۔۔" وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا

معیز بھی گندی یونیفارم ہاتھ میں تھامے اس کے پیچھے باہر آیا تھا۔

"جبران!۔۔ یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے ا پنا؟" طاہرہ بیگم اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی۔

تھوڑ ی ہی دیر پہلے انہوں نے جب لینڈ لائن پر کال کی تو کال معیز نے اٹھائی تھی جو آدم کے لیے کچن سے فیڈر لینے گیا تھا۔

کال اٹھائے اس نے رو رو کر انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔طاہرہ بیگم اسی وقت ڈرائیور کے سنگ اس کے گھر چل آئی تھی۔

طاہرہ اور زاہدہ دو ہی بہنیں تھی۔۔۔ زاہدہ ان کی بڑی بہن تھی جن کا ایک ہی بیٹا جبران تھا۔۔۔ جبران زاہدہ سے زیادہ طاہرہ کے پاس رہا کرتا تھا۔۔۔ اسی بنا پر وہ انہیں 'خالہ امی' بلاتا۔۔۔ جبران کے ابو اس کے بچپن میں ہی گزر گئےتھے جبکہ آٹھ سالے پہلے ہی وہ اپنی ماں کو بھی کھوچکا تھا تب اپنی کلاس فیلو انیلہ سے محبت کی شادی کیے وہ باہر چلا گیا تھا۔۔۔

معیز ان کی بڑی اولاد تھی جو ماں کے بہت زیادہ قریب تھا۔۔۔ معیز کی پیدائیش کے ساڈھے چار سال بعد انیلہ ایک بار پھر ممتا کے عہدے پر فائز ہوئی تھی مگر اس بار کچھ مسائل کی بنا پر آدم کی پیدائش کے فوراً بعد ہی وہ وفات پاگئی۔

اس کے بعد جبران دونوں چھوٹے بچوں کو لیے واپس پاکستان آبسا تھا۔۔

"آپ انہیں سنبھالے آکر تفصیلاً بات کرتا ہوں۔۔۔" وہ آدم کو ان کے حوالے کیے اپنے کمرے کی جانب دوڑا تھا۔

تھوڑی ہی دیر میں فریش اور نکھرا نکھرا سا وہ واپس ان کے پاس آیا تھا تب تک وہ تمام روداد معیز کی زبانی سن چکی تھی۔

"اسی لیے میں کہتی ہوں کہ کرلو دوسری شادی۔۔۔ تمہیں میڈ اور نینی سے زیادہ ایک بیوی کی ضرورت ہے جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو سنبھال سکے۔۔۔" طاہرہ بیگم نے ایک بار پھر اپنی بات دوہرائی تھی۔

"ناٹ اگین خالہ امی۔۔۔ہم ٹھیک ہیں ایسے ہی بلکہ بہت زیادہ خوش ہیں کیوں نوجوانوں؟۔۔۔" جبران نے اپنے دونوں بچوں کی رائے چاہی۔۔۔

جہاں معیز کا سر نفی میں ہلا وہی آدم چہکا تھا۔

"دیکھا بس ایک تو ہی میرا سگا ہے۔۔۔" آدم کو خود میں بھینچا تھا جبران نے جو ایک بار پھر اس کے کپڑوں پر تھوڑا سا اپنا مال اگل چکا تھا۔

"یا رررر آدم۔۔۔۔" جبران نے لب بھینچے۔

"کیا ناٹ اگین۔۔۔ تمہیں بھلے ضرورت نہ ہوبیوی کی مگر تمہارے بچے۔۔۔ ان کے بارے میں ہی کچھ سوچ لو۔۔۔انہیں ایک ماں کی اشد ضرورت ہے۔۔۔ جو انہیں سنبھال سکے"

"خالہ امی میری اولاد ہے میں سنبھال لوں گا انہیں۔۔۔"

"ہاں نظر آرہا ہے مجھے تمہارا سنبھالنا۔۔۔" انہوں نے طنز کیا۔

"اچھا اب کیا چاہتی ہیں آپ؟" آخر کار اس نے ہار مانی۔

"تمہاری شادی۔۔۔" دوبدو جواب دیا انہوں نے۔

"شادی کے لیے ایک عدد لڑکی جوکہ میرے کیس میں عورت ہے۔۔۔وہ بھی درکار ہوتی ہیں۔۔ اور کون سی ایسی محترمہ اس دنیا میں ہوگئ جو پرائی اولاد کو گلے سے لگا لے؟۔۔۔ ارے کنواری تو دور کی بات آج کے دور میں تو کوئی بیوہ یا طلاق یافتہ بھی اتنی اچھی نہیں ہوتی کے پرائی اولاد کو سینے سے لگا لے۔۔۔" اس نے سر جھٹکا۔

"میں ایک ایسی طلاق یافتہ لڑکی ، تمہارے کیس میں عورت کو جانتی ہوں جو نہ صرف تمہارے بچوں کو سینے سے لگائے گی بلکہ انہیں بہترطریقے سے سنبھال بھی لے گی۔۔۔"

"لڑکی میرا مطلب عورت ڈھونڈ رکھی ہے آپ نے تبھی اتنا زور ڈالا جارہا ہے مجھ پر۔۔۔"

"میں نے تو کب سے ڈھونڈ رکھی ہے بس ایک تم ہی ماننے کو تیار نہیں تھے۔۔۔" سر جھٹکے انہوں نے آدم کا گندہ چہرہ صاف کیا جبکہ جبران وائپس سے اپنی شرٹ صاف کررہا تھا۔

"اور کون ہے وہ محترمہ جنہیں بدذاتِ خود آپ نے میرے اور میرے شیر اور پانڈے کے لیے چنا ہے؟"

"بہت پیاری اور سلجھی ہوئی بچی ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے ہی خاندان کی ہے۔۔۔" وہ کھل کر مسکرائی۔

"ہمارا خاندان تو آپ اور ماما پر آ کر رک جاتا ہے کیا کسی کزن کی بیٹی ہے؟" اس نے اچھنبے سے سوال کیا۔

"ارے تھوڑا قریب اور پاس میں دیکھو ۔۔۔ تمہاری بہت کلوز ریلیٹیوو ہے وہ۔۔۔ " جبران کے دماغ کے گھوڑے دوڑنا شروع ہوئے اور جہاں آکر وہ رکے اس کی آنکھیں پھیلی۔

"یاوحشت !۔۔۔ خالہ امی آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں۔۔۔ مطلب کہ میں اور سارہ۔۔۔ چھوٹی بہن ہے وہ میری۔۔۔" اس کے لہجے میں افسوس در آیا۔

"ایک منٹ یہ سارہ کی شادی کب ہوئی اور اسے ڈائیورس کب ہوا؟۔۔۔ میں کہاں تھا؟" اس نے آنکھیں جھپکے سوال کیا۔

"ڈفر سارہ کی بات نہیں کررہی ہوں میں۔۔" اس کے سر پر ہلکے سے تھپڑا مارا انہوں نے۔

"تو کون؟" اس کے ماتھے پر بل در آئے

"ارسم کی بیٹی۔۔۔"

"خالہ امی ارسم خالو کی بیٹی تو سارہ ہے نہ۔۔۔"

"ان کی پہلی بیوی کی بیٹی۔۔۔ حائقہ!۔۔۔ اس بچی کی بات کررہی ہوں میں۔۔۔"

ان کے جواب پر اس نے سکون کی سانس خارج کی۔

"اوہ!۔۔۔ خیر وہ تیس بتیس سال کی عورت بچی تو نہیں ہے۔۔۔" ان کے بچی کہنے پر اس نے آنکھیں گھمائی۔

"تمہیں ایک بار اس سے ملنا چاہیے بہت پیاری ہے وہ ، تمہارے گھر کو جنت بنادے گی وہ۔۔۔" انہوں نے تعریفوں کے پل باندھنا شروع کیے۔

"وہ اس گھر کو گھر بنادے تو بھی بڑی مہربانی ہوگی ان محترمہ کی۔۔۔ ابے یار سکون ہے بیٹھ جا کیوں ناچے جارہا ہے۔۔۔" اپنی گود میں کب سے پھدکتے آدم کو اس نے ڈپٹا جو بار بار معیز تک پہنچنے کی کوشش میں تھا مگر معیز بیچارہ اس کے ڈر سے طاہرہ بیگم میں مزید چھپے جارہا تھا۔

"آج رات گھر پر ارسم کی برتھڈے پارٹی ہے کہو تو تمہاری ملاقات ارینج کروا دوں اس سے؟" انہوں نے سوال کیا۔

"میں نے مل کر کیا کرنا ہے؟"

"ایک بار مل لینے میں حرج بھی کوئی نہیں۔۔۔"

"ٹھیک ہے مل لوں گا مگر اس شادی کے حوالے سے کچھ شرائط ہیں میری۔۔۔ وہ صرف میرے بچوں کی ماں ہوگی۔۔۔ میری بیوی بننے کی کوشش کی تو بہت برے سے پیش آؤں گا۔۔۔ میرے غصے سے واقف تو ہیں ہی آپ اچھے سے۔۔۔"

"ہاں مگر تم اس سے ابھی تک واقف نہیں۔۔۔" وہ بڑبڑائی۔

"کچھ کہاں؟"

"نہیں!۔۔ تو آج رات کا ڈن کرے پھر؟"

"آج رات مشکل ہے۔۔۔ ایک بزنس پارٹی ہے میری۔۔۔ کل شام کی چائے؟" اس نے تجویز پیش کی۔

"تو ٹھیک ہے کل شام ڈن!۔۔۔ دونوں بچوں کو میں اپنے ساتھ لے جاتی ہوں۔۔۔ آج رات میرے پاس رکے گے یہ۔۔۔" انہوں نے آدم کو اس سے پکڑا جس کی آنکھیں معیز کو قریب پاکر چمک اٹھی تھی۔

"اس احسان کا شکریہ۔۔۔" اس نے سکون کی سانس خارج کی

"بدتمز۔۔۔" وہ ہنس دی تھی۔

تھوڑی ہی دیر میں جبران ائیرپورٹ نکلنے کو تیار تھا جب طاہرہ بیگم بھی بچوں کا بیگ پیک کیے ان کے روم سے نکلی تھی۔

"ڈرائیور اوویل ایبل نہیں ہے تم شفیق چاچا سے کہوں وہ مجھے اور بچوں کو چھوڑ آئے۔۔۔" طاہرہ بیگم کی بات پر سر ہلائے اس نے شفیق چاچا کو اشارہ کیا اور خود اپنی دوسری گاڑی نکالے وہ ائیرپورٹ کی جانب نکل چکا تھا۔

تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی اسے نکلے جب گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا تھا اور ایکسٹرا ٹائر ڈگی میں موجود نہ تھا۔

"واٹ آ فنٹییسٹک ڈے۔۔۔" زور سے ڈگی بند کیے وہ گاڑی لاک کرتا ٹیکسی سٹاپ پر آ کھڑا ہوا تھا۔۔

پانچ منٹ گزر گئے تھے مگر کوئی ٹیکسی اسے نظر نہیں آئی تھی جب وہاں بیزار سی شکل لیے ایک لڑکی اس کے برابر آکھڑی ہوئی تھی جو بار بار اپنا پیر زمین پر ہلکے سے مار رہی تھی جیسے اسے بہت تیزی ہو۔

ایک تو پہلے ہی ہڑتال اوپر سے پاس کھڑی لڑکی اگر کوئی ٹیکسی والا آ بھی جاتا تو اسے ہی لفٹ دیتا جبران جیسے ہٹے کٹے مرد کو کون پوچھتا۔

یہ ملک اور یہاں ہونے والی مردوں کے ساتھ نہ انصافیاں۔۔

کچھ سوچتے ہوئے اس نے پاس موجود لڑکی کو مخاطب کیا۔

"ایکسکیوز می میم!۔۔۔" نہایت مدھم انداز

"جی؟" روکھا انداز

"وہ !۔۔۔ پہلے میں آیا تھا۔۔۔" بتانا چاہا کہ پہلے وہ آیا تھا تو ٹیکسی پر بھی پہلا حق تھا۔

"کانگریچولیشنز۔۔۔۔" حائقہ رخ موڑ چکی تھی۔

"ہاؤ روڈ۔۔۔" جبران نے بھی رخ موڑا تھا۔

 

جاری ہے


COMMENTS

Name

After Marriage Based,1,Age Difference Based,1,Armed Forces Based,1,Article,7,complete,2,Complete Novel,611,Contract Marriage,1,Doctor’s Based,1,Ebooks,9,Episodic,276,Feudal System Based,1,Forced Marriage Based Novels,4,Funny Romantic Based,1,Gangster Based,2,HeeR Zadi,1,Hero Boss Based,1,Hero Driver Based,1,Hero Police Officer,1,Horror Novel,2,Hostel Based Romantic,1,Isha Gill,1,Khoon Bha Based,2,Poetry,13,Rayeha Maryam,1,Razia Ahmad,1,Revenge Based,1,Romantic Novel,22,Rude Hero Base,3,Second Marriage Based,1,Short Story,68,youtube,30,
ltr
item
Urdu Novel Links: mann mane na novel by qanita khadija episode 1 read online
mann mane na novel by qanita khadija episode 1 read online
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgmXZqRhQC2v3SbIbsorxmQ5q58-eqvLHn8HnT2ew9DvZkrDhMpvVBjIReBTf2ZfSG322cU6T3j96xEuVBMw3qyg06flcESMCTh2VAeA0mvkpA0xCX1W1na2eMIhT7DfYdWHu1VXSVZ6sdC-T9TDkWtwJpjoSMVJjti5PLrtMPZ1D_3twQcuKBgs6AU/w400-h275/Mann%20Mane%20Na%20By%20Qanita%20Khadija.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgmXZqRhQC2v3SbIbsorxmQ5q58-eqvLHn8HnT2ew9DvZkrDhMpvVBjIReBTf2ZfSG322cU6T3j96xEuVBMw3qyg06flcESMCTh2VAeA0mvkpA0xCX1W1na2eMIhT7DfYdWHu1VXSVZ6sdC-T9TDkWtwJpjoSMVJjti5PLrtMPZ1D_3twQcuKBgs6AU/s72-w400-c-h275/Mann%20Mane%20Na%20By%20Qanita%20Khadija.jpg
Urdu Novel Links
https://www.urdunovellinks.com/2022/08/mann-mane-na-novel-by-qanita-khadija.html
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/2022/08/mann-mane-na-novel-by-qanita-khadija.html
true
392429665364731745
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content