--> Teri Yaad Ky Zamanay By Eshal Chaudhary Short Story | Urdu Novel Links

Teri Yaad Ky Zamanay By Eshal Chaudhary Short Story

 Teri Yaad Ky Zamane By Eshal Chaudhary Short Story تیری یاد کےزمانے ایشال چودھری آسمان پر آج وقت سے پہلے ہی روشن چادر ہٹا دی گئی تھی اچانک ...

 Teri Yaad Ky Zamane By Eshal Chaudhary Short Story


تیری یاد کےزمانے

ایشال چودھری


آسمان پر آج وقت سے پہلے ہی روشن چادر ہٹا دی گئی تھی اچانک ہر طرف اندھیرا پھیلنے لگا تھا آج اس کی ہر ادا کچھ الگ ہی تھی ٹھنڈی میٹھی لیکن اداس دیکھتے ہی دیکھتے بادل جھرمٹ بنانے لگے تھے جیسے ایک دوسرے سے اہم سرگوشیاں کرنے لگے ہوں اور پھر یک دم گرج چمک شروع ہو گئی تھی جیسے کسی کو ان کی سرگوشیوں سے بہت تکلیف ہوئی ہو آہستہ آہستہ آسمان سے قطرے گرنے لگے تھے جیسے اب تکلیف برداشت سے باہر ہو گئی ہو جیسے کوئی اپنا بہت دکھ میں ہو وقت کے ساتھ ساتھ بارش میں تیزی آ رہی تھی جیسے پوری شدت سے کسی کے لئے دعا گو ہو...

لاہور کی اس لمبی سڑک پر چلتے نا جانے کتنا وقت سرک چکا تھا مسلسل برستی بارش اور تیز ہوا جیسے اسے چھوئے بغیر ہی گزر رہی تھی یا وہ ان سے بےنیاز ہو چکی تھی وہ بارشوں کی زبان سمجھنے والی وہ بادلوں کے دکھ سننے والی ہواؤں کے سر بننے والی آج ناجانے کس کی تلاش میں تھی جو آس پاس برستی بارش کے دلاسے بادلوں میں چھپی امید اور ہواؤں کے گیت بالکل فراموش کئے ہوئے تھی جیسے کچھ سن ہی نا رہی ہو کچھ محسوس ہی نا کر رہی ہو


شانوں پہ کس کے اشک بہایا کریں گی آپ

روٹھے گا کون، کس کو منایا کریں گی آپ...


کسی نے بالکل اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی اور یہ آواز تو بالکل اس کی آواز کے جیسے ہی تھی اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا وہ تو ساری زندگی اس آواز کا سامنا نہیں کر سکتی تھی وہ اس آواز کی مجرم جو تھی


وہ جا رہا ہے صبحِ محبت کا کارواں

اب شام کو کہیں بھی نہ جایا کریں گی آپ...


آواز پھر سے گونجی تھی اس نے چلنے کی رفتار بڑھا دی تھی وہ اس آواز سے دور بھاگنا چاہتی تھی لیکن وہ ناجانے کب سے چل رہی تھی جو اس کے قدم اب اٹھنے سے انکاری تھے لیکن وہ رکی نہیں تھی اسے ہر حال میں اس جگہ پہنچنا تھا جس جگہ کی بے حرمتی وہ کر کے آ رہی تھی 


 اب کون ”خود پرست“ ستائے گا آپ کو

کِس ”بے وفا“ کے ناز اٹھایا کریں گی آپ...


وہ بھیگی سڑکوں کو بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی اب اسے اپنے پاؤں تلے ریت محسوس ہو رہی تھی جو آج سے پہلے کسی مرہم کا کام کرتی رہی آج جلا رہی تھی اس سے چلنا مشکل ہو گیا تھا سمندر کی آواز جو پہلے کانوں میں رس گھول دیا کرتی تھی آج زخمی کر رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو بےوفاؤں کا یہاں کوئی کام نہیں چلی جاؤ یہاں سے


پہروں شبِ فراق میں تاروں کو دیکھ کر

شکلیں مِٹا مِٹا کے بنایا کریں گی آپ...


وہ نظریں جھکائے چل رہی تھی نظریں اٹھاتی بھی تو کیسے بہت سے وعدے تھے جو اس سمندر کو گواہ بنا کر کئے تھے مگر آج وہ ان وعدوں پر چلتی ہوئی آ رہی تھی تو کیسے سامنا کرتی اب تو ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے ان دیکھی دیوار کھڑی کر دی ہو سامنے جو وہ آگے چل نہیں پا رہی تھی ریت جیسے زخموں پر نمک کا کام کر رہی تھی اسے لگا تھا اگر وہ مزید چلی تو جان نکال جائے گی مگر یہ جان بھی تو نہیں نکلتی تھی اسے جو لگتا تھا وہ نا ملا تو زندگی ہار جائے گی آج سب لٹانے کے بعد بھی زندہ تھی


گمنام الجھنوں میں گزاریں گی رات دن

بے کار اپنے جی کو جلایا کریں گی آپ...


آواز بڑھنے لگی تھی اسے وہ اور قریب سے سنائی دینے لگی تھی اس نے شدت سے آنکھیں میچ لیں تھیں کاش کہ یہ سب ایک خواب ہوتا کاش وہ آج بھی اس کی ہوتی آج بھی اپنے وعدوں پر قائم ہوتی خاموش آنکھوں سے پانی کی لکیریں بہنے لگی تھیں وہ بے قصور تھی لیکن بےوفا تھی اور بےوفا بھلا کب بےقصور ہوا کرتا ہے


اب ”لذتِ سماعتِ رہرو“ کے واسطے

اونچے سُروں میں گیت نہ گایا کریں گی آپ...


وہ سمندر سے قریب ہوتی جا رہی تھی آواز لہروں کے شور سے کچھ مدھم ہوئی تھی دل ہی دل میں اپنی بےگناہی کی دعویلیں اکھٹی کرتی وہ بمشکل قدم اٹھا رہی تھی لیکن آج تو ادھر کی ہوائیں بھی اس کے اندر سلگتے دل کو قرار نہیں بخش رہی تھیں


 ہم جولیوں کو اپنی بسوزِ تصورات

ماضی کے واقعات سنایا کریں گی آپ...


اس نے آواز سے بچنے کے لئے کانوں پر ہاتھ جما لئے تھے ادھر اس جگہ درختوں کر پار کس قدر حسین یادیں تھیں وہ زیادہ دیر ضبط نہیں کر سکی تھی اور پہلی بار نظر اٹھا کر اس طرف دیکھا تھا لیکن یہ جگہ آج بالکل ویران تھی بالکل اس کے دل کی طرح تو گویا سمندر نے اس کی یادیں بھی مٹا ڈالی تھیں وہ تلخی سے مسکرائی تھی


اب وہ شرارتوں کے زمانے گزر گئے

چونکے گا کون، کِس کو ڈرایا کریں گی آپ


اچانک کوئی پیچھے سے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا شاید وہی آواز وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی وہ نظریں جھکائے پاس سے گزر گئی تھی لیکن ایک بےرحم طنزیہ قہقے نے اس کا پیچھا کیا تھا وہ لرز کر رہ گئی تھی 


فرقت میں دورِ گوشہ نشینی بھی آئے گا

مِلنے سہیلیوں سے نہ جایا کریں گی آپ


دور بادلوں میں یک دم دڑاڑیں آنے لگی تھیں جیسے اس کی بے وفائی پر وہ بھی بکھرنے لگے تھے اور ہوائیں اس سے روٹھ کر اشک بہا رہی تھیں دنیا میں ہزاروں لوگ بےوفائی کرتے ہیں لیکن خود سے بےوفائی کرنے والی وہ شاید پہلی تھی


غصے میں نوکروں سے بھی الجھیں گی بار بار

معمولی بات کو بھی بڑھایا کریں گی آپ


سمندر کی لہریں پورے زور و شور سے اس کے قدموں کو بھگونے لگی تھیں لیکن وہ قدم بوسی کرنے والی لہریں آج اسے جلتی ابلتی محسوس ہو رہی تھیں وہ تکلیف سے کراہ دی تھی یہی تو وہ جگہ تھی جہاں اسے پہلی بار گھٹنوں پر جھک کر محبّت کا پہلا سلام پیش کیا گیا تھا پھر کیسے نا یہ جگہ اسے جلاتی اس نے معافی کے لئے قدم بڑھائے تھے جب سامنے پڑے ایک بڑے سے پتھر سے ٹھوکر لگ کر وہ منہ کے بل گری تھی اور ایسے ہی منہ کے بل اس نے محبّت کا سلام پیش کرنے والے کو بھی گرایا تھا

 

پھر اس کے بعد ایک وہ منزل بھی آئے گی

دِل سے مرا خیال ہٹایا کریں گی آپ...


خون اس کے منہ سے مسسل بہنے لگا تھا مگر اسے پرواہ نہیں تھی اس کی تو جیسے رگ رگ میں تکلیف اتری ہوئی تھی سانسیں حلق میں اٹکنے لگی تھیں وہ بےقابو ہوتے چیخنے لگی تھی اپنے اندر کے غبار کو باہر انڈیلنے لگی تھی وہ دنیا کی خوش قسمت ترین انسان تھی جسے اس کی محبّت ملی لیکن بدقسمت بھی بلا کی تھی جو پا کر کھو دی


حالاتِ نو بہ نو کے مسلسل ہجوم میں

کوشش سے اپنے جی کو لگایا کریں گی آپ...

 

وہ اس رات اپنی بےبسی پہ روئی تھی اپنی قسمت پر شکوہ کنا تھی اپنی بےوفائی پر ماتم کرتی رہی تھی وہ اس رات خود سے لڑتی رہی تھی وہ ان لہروں کے ساتھ بہہ جانا چاہتی تھی وہ اس اندھیرے میں گم ہو جانا چاہتی تھی مگر وہ بےبس تھی


آئے گا پھر وہ دن بھی تغیر کے دور میں

دل میں کوئی خلش ہی نہ پایا کریں گی آپ...


رات تڑپتے سسکتے کٹی تھی صبح اپنی سنہری کرنیں اس پر برسانے لگی تھی درختوں کے پیچھے چھپے بادل سورج کی خوشآمد کرنے لگے تھے لیکن ایک نیا دن ایک نئی ازیت اب تو اس ازیت کو ساری عمر سہنا تھا اسے احساس ہوا تھا کہ وہ رات واپس جانا بھول گئی تھی کسی احساس کے تحت وہ یک دم اٹھی تھی اور اب اس کا رخ ہسپتال کی جانب تھا


 نقشِ "کُہن" کو دل سے مِٹانا ہی چاہیے

گزرے ہوئے دنوں کو بھلانا ہی چاہیے

*********


اس نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا

وہ آئی تھی

وہ رخ موڑے کھڑا تھا اسے اس کے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی اس نے ہاتھ میں پکڑا سیگرٹ دور اچھالا تھا ہونٹ واکر کے دھواں آزاد کیا تھا

اسے یقین تھا وہ ضرور آئے گی

وہ مسکرایا تھا

"آہ جانِ ارمان..."

وہ پلٹا نہیں تھا اس کا دل کیا تھا وہ اسکا نام لے اسے پکارے وہ اس کی آواز سننا چاہتا تھا

لیکن دل کی ہر آرزو کہاں پوری ہوتی ہے

وہ بےآواز چلتی ہوئی آئی تھی اور اپنا چہرہ اس کے کندھے پر ٹکا دیا تھا

اور ارمان  اس کی اس حرکت پر پتھر کا ہی ہو گیا تھا

یک دم اس کا لمس محسوس کرتا پلٹا تھا

وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی

آج اس کی آنکھوں کی چمک الگ ہی تھی

وہ زیادہ دیر ان میں دیکھنے کی ہمّت نہیں کر سکا تھا

لیکن وہ...

اس نے تو شاید ایک دفعہ بھی پلکیں نہیں جھپکیں تھیں

وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی اتنی محویت سے کہ آس پاس کے منظر جیسے ماند پڑ گئے ہوں

ایسے جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو

ایسے جیسے آخری بار دیکھ رہی ہو

جیسے خود میں سمیٹنے آئی ہو

اچانک آنکھوں میں چمک بڑھنے لگی تھی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگی تھیں لیکن ہونٹ مسکرا دیئے  تھے

اور پھر اچانک جیسے کوئی قرب دل میں آیا ہو اور آنکھیں بند کرتی وہ آنسو اندر اتارنے لگی تھی ہونٹ لیکن مسکرا رہے تھے

لفظ جیسے وہ آج کہیں بھول آئی تھی

وہ اس کے ایک قدم اور قریب آیا تھا اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیا تھا جیسے اس کے دل نے قرب کا پیغام اسے بھی دے دیا ہو

"مجھے پتا تھا تم ضرور آؤ گی" وہ آہستگی سے بولا تھا

اور اس کا تو دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا دل تھا کہ تڑپ رہا تھا بند ہونے کو تھا جان تھی کہ منہ کو آئی ہوئی تھی

محبت کو پا لینا کوئی بڑی بات نہیں محبت میں تو بچھڑ کر جینا کمال ہے" اس کے کان میں کسی کی سرگوشی گونجی تھی

اور وہ ضبط کرتی ہوئی بھی سسک پڑی تھی

"کاش اس لمحے مجھے موت آ جائے" اس کے دل نے بڑی شدت سے آرزو کی تھی

لیکن کچھ دیر پہلے ارمان نے بھی تو ایک آرزو کی تھی اس کی بھی تو پوری نہیں ہوئی تھی

ارمان اس کی سسکی پر تڑپ اٹھا تھا

اس نے بولنے کی کوشش کی تھی لیکن ہونٹ کانپ اٹھے تھے

اس نے آگے بڑھ کر اس کو خود میں چھپا لیا تھا اتنی مظبوطی سے جیسے اسے خوف ہو کے کہیں کوئی اسے چرا نا لے

اور وہ ضبط کرتے درد پر شدت سے رو دی تھی ارمان کی شرٹ بھیگنے لگی تھی

وہ چاہتا تھا کہ اسے رونے سے روک دے اسے بتائے کہ اس کے آنسو اسے کتنی تکلیف دے رہے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکا تھا

"میم آپ کا ڈرائیور آ گیا ہے" سارہ نے آ کر اسے پیغام دیا تھا

اور وہ حیران ہوا تھا اب بھلا اسے کہاں جانا تھا

وہ اس سے الگ ہوئی تھی

آنسوؤں کے درمیان وہ مسکرائی تھی

آج تو اس کی نظریں بھی بےزبان تھیں وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا

اس کے حفظ کردہ نقوش پر ایک آخری نظر ڈالتی وہ دور ہٹتی جا رہی تھی

اور ارمان کے  پاؤں جیسے کسی جادو کے اثر میں وہیں جم کر رہ گئے تھے

وہ اسے روکنا چاہتا تھا

لیکن پھر اس نے وہ دیکھا تھا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا

وہ گاڑی میں بیٹھتی ہوئی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تھی

وہ جا چکی تھی؟

اسے چھوڑ کر؟

بہت سے سوال ہتھوڑے بن پر اس کر دماغ پر برس رہے تھے

وہ کتنی ہی دیر اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا تھا

اور جب پلٹا تو ایسے جیسے کوئی ہمیشہ جیتنے والا اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی ہار گیا ہو...


*********


جب آپ کا اپنا کوئی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہو جب اس کی اکھڑتی سانسوں سے آپ ہار رہے ہوں اسے کھو دینے کا ڈر آپ کا سینہ چیر کر ڈس رہا ہو تب آپ کو کچھ یاد نہیں رہتا...

پھر کون سی محبّت... کون سی دنیا...

ہر خواہش دم توڑ دیتی ہے صرف اس کا ہونا یاد رہتا ہے

ابو میری کل کائنات تھے انہوں نے کبھی مجھے رشتوں کی کمی محسوس ہونے نہیں دی کبھی مجھے اکیلے پن کا احساس ہونے نہیں دیا پھر میں کیسے ان کے کسی حکم سے انکار کرتی وہ بھی جب وہ مجھ سے شاید آخری بار کچھ مانگ رہے تھے

ہاں میں محبّت سے مکر گئی تھی... قیمت میری خوشی تھی؟ میری زندگی تھی تو کیا ہوا؟

یہ تو صرف ایک تھی میرے پاس ہزاروں بھی ہوتیں تو میں وہ بھی قربان کر دیتی

میں نے احمد سے نکاح کر لیا تھا

میرا نکاح ابو کے اس ہسپتال والے کمرے میں ہوا تھا جہاں ان کی اکھڑتی سانسیں مجھے اردگرد گھیرے ہوئے تھیں تائی امی نے شاید نکاح خواں کا انتظام پہلے سے کر رکھا تھا وہ لاٹری کسی صورت ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھیں لیکن اس وقت مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی سوائے اپنی کل کائنات کے...

اور میرے رب نے مجھے مایوس نہیں ہونے دیا تھا ابو بالکل ٹھیک ہو گئے تھے...

میری کائنات مجھے لوٹا دی گئی تھی بس زندگی کہیں کھو گئی تھی میرے خواب کہیں پیچھے رہ گئے تھے اور ویسے بھی ہر خواب کی قسمت میں تعبیر ہونا کب ہوتا ہے...

***********


وہ ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوئی تھی لیکن اس کا حلیہ صبح سے بہت مختلف تھا وہ عروسی جوڑے میں ملبوس تھی ابا اسے دیکھ کر اس کی فرمابرداری پر مسکرا رہے تھے ان کے ساتھ اس کا شوھر کھڑا تھا جسے اس کے خوابوں کی لاٹری بلآخر مل ہی گئی تھی ابو کی خواہش پر رخصتی ہسپتال سے ہی کی گئی تھی اب جس راستے پر وہ گامزن تھی وہ اسکی خوابوں کی کرچیوں کی زمین تھی 

کچھ دیر پہلے وہ اسے محبت کے سلام کا جواب دینے گئی تھی لیکن خاموشی سے لوٹ آئی تھی محبت کے سلام کے جواب میں اسے دکھ دینے کی اس میں ہمّت نہیں تھی اور یہ آخری وعدہ تھا جو وہ پورا کر سکی تھی وہ بےوفا تو تھی لیکن اسے بےوفائی کے طریقے نہیں آتے تھے وہ اسے نہیں بتا سکی تھی کہ وہ محبت سے پھر گئی ہے

ایسے ہی ایک راستے پر ارمان بھی رواں تھا وہ تو شدید صدمے میں تھا جب حارث نے اسے عنائیہ کے نکاح کا بتایا تھا اسٹیرنگ پر اس کی گرفت سخت ہوئی تھی وہ مضبوط اعصاب کا مالک ٹوٹ کر رہ گیا تھا اسے تھوڑی دیر پہلے والے سارے سوالوں کے جواب مل گئے تھے اسے عنائیہ سے کوئی شکوہ نہیں تھا وہ تو قسمت سے روٹھ گیا تھا

کسی نے کہا تھا عشق اگر خاک نا کرے تو کیا خاک عشق ہوا اسے آج شدت سے محسوس ہوا تھا


وہ دونوں اپنی زندگی کے نئے سفر پر تھے سفر بھی وہ جن کا انہوں نے کبھی تصور بھی نا کیا تھا ارمان حارث کے لاکھ روکنے پر بھی نہیں رکا تھا وہ واپس فرانس چلا گیا تھا اور عنائیہ احمد کے ساتھ کراچی...


اگر میں شاعر ہوتا

تو لکھتا میں

کہ بچپن سے جوانی تک

جو سارے خواب دیکھے تھے

اب ان میں کتنے پورے ہیں..؟؟

جو آنکھوں میں بسے ہیں وہ

ابھی تک کیوں ادھورے ہیں...!

میں لکھتا زندگانی کے

سبھی حصے، سبھی قصے


مگر یہ تب ہی ممکن تھا

کہ جب میں شاعر ہوتا


**********

پانچ سال بعد


وہ آج حارث بھائی کی شادی میں شرکت کے لئے لاہور جا رہی تھی احمد اتنا برا نہیں تھا جتنا وہ اسے سمجھتی تھی ہاں اسے عنائیہ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن اپنی چار سالہ بیٹی پر وہ جان دیتا تھا اورعنائیہ تو اسی میں خوش تھی وہ دل تو کب کا مار چکی تھی اب اسے کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا ہر جذبہ جیسے دم توڑ چکا تھا اب تو چاہ کر بھی غم یا خوشی کی کوئی لہر نہیں ملتی تھی زندگی معمول پر تھی ہاں مگر بس کچھ خواب تھے جو آج بھی نیند سے جگا دیتے تھے پھر کئی راتیں تو وہ جاگ کر ہی گزارتی تھی دن میں کہیں بیٹھ جاتی تو گھنٹوں اسی جگہ پر بیٹھی رہتی کبھی تو آنکھوں کے سامنے ہانڈی جل جایا کرتی تھی کئی بار سجدوں میں جاتی تو سر اٹھانا بھول جاتی تھی کچھ حرکتیں شاید احمد نے بھی نوٹ کی تھیں جو وہ اسے ایک دو بار سائکالوجسٹ کے پاس لے گیا تھا


جب آپ کو قریب نہ پایا کروں گی میں

روٹھوں گی خود سے خود کو منایا کروں گی میں


آج بہت عرصے بعد کوئی غزل اس کے ذہن کے پردے پر بکھرتی ہوئی محسوس ہوئی تھی لیکن  آج آواز تبدیل تھی وہ جس آواز میں غزلیں سنا کرتی تھی کہیں نہیں تھی آج تو یہ آواز اس کی اپنی تھی

پلین لاہور ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا تو اچانک دل میں کچھ ہل چل ہوئی تھی جس پر وہ خود حیران تھی پانچ سال میں ایسا پہلی بار ہوا تھا مگر وہ اسے نظر انداز کرتی ہوئی احمد کے پیچھے چل دی تھی جہاں حارث بھائی پہلے سے ان کا انتظار کر رہے تھے لیکن ایک دم اس کے قدم پھر آنکھیں پھر ذہن پھر آہستہ آہستہ پورا وجود پتھر ہوا تھا سوائے دل کے

دل اتنی دور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے یقین تھا اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا احمد سے ملتا ارمان باآسانی سن سکتا تھا

حارث بھائی اسے اپنی جگہ پر جما دیکھ کر اس کے قریب آئے تھے ان کا لمس محسوس کرتی وہ جیسے پانی ہوئی تھی آنکھیں تو برسنے کے لئے بےتاب تھیں آنسو لڑی کی صورت میں نکلے تھے جنہیں وہ بہت صفائی سے چھپا چکی تھی 

اور ارمان اسے تو ایک لمحہ لگا تھا صرف ایک لمحہ اور وہ نظریں پھیر چکا تھا اور دوبارہ اسے دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی


اب میرے آنسوؤں کی پناہیں نہیں رہیں

اب اپنے آنسوؤں کو چھپایا کروں گی میں


احمد حارث کے ساتھ آگے بیٹھ گیا تھا مجبوراً ارمان کو اس کے ساتھ پیچھے بیٹھنا پڑا تھا

"ارمان کب آیا پاکستان؟" یہ احمد تھا

"بس کل ہی یہ تو جیسے پاکستان سے روٹھ کر ہی چلا گیا تھا اب بھی اپنی شادی پر بلانے کے لئے اتنی منتیں کروائی ہیں جناب نے" حارث تو پہلے ہی اس سے خفا تھا اور اس کی بات پر عنائیہ شرمندگی سے سر جھکا گئی تھی اور یہ انداز تو اس کا بچپن سے ہی تھا ہر غلطی کرنے سے بعد ایسے ہی سر جھکا لیا کرتی تھی

وہ اس کی اس ادا پر مسکرا دیا تھا 

"پاکستان میں تو دل ہے اور دل سے کیسے کوئی روٹھ سکتا ہے" اس کے جواب پر عنائیہ نے اپنے آنسو چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی

"تو اس دل کو گھر کیوں نہیں لے آتے؟" حارث تو جیسے سارے حساب کتاب کرنے کے موڈ میں تھا

"تم جو ہو اور یقیناً تمہیں گھر لے آیا تو بھابی کو شکایت ہو گی" اس نے بات مذاق میں اڑائی تھی

"کم آن یار... عنائیہ تم ہی کچھ سمجھاؤ اسے پھپھو اس کی وجہ سے بہت پریشان ہیں یہ ہر رشتے سے انکار کر دیتا ہے" حارث نے چڑ کر عنائیہ سے کہا تھا

"عنائیہ کو کیوں بیچ میں گھسیٹ رہے ہو تمہیں اپنی ویلیو کا شاید اندازہ نہیں ہے" ارمان نے جیسے عنائیہ کی مشکل آسان کی تھی

"ہاں اتنی ہی میری ویلیو ہوتی تو آج تمہاری گود میں دو بچے ہوتے" حارث نے بیک مرر سے اسے گھورا تھا

"نہیں مجھے ایک ہی کافی ہے" اس نے اپنی گود میں بیٹھی حورب کو پیار کیا تھا اور عنائیہ تو بمشکل اپنی سسکیوں کو روک پائی تھی

"بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں اب آپ کو بھی شادی کر لینی چاہیے" وہ مدھم آواز میں بولی تھی اور اس کی آواز کا مرھم ایسا تھا کہ پچھلے پانچ سالوں کی دھول ارمان کو دل سے ہٹتی محسوس ہوئی تھی

"ہاں اگر کوئی اپنی جیسے ڈھونڈ دو تو کر لوں گا شادی" وہ اسے بھلا کب انکار کر سکتا تھا 


رخصت ہوا ہے صبح محبت کا کارواں

اب کس کے پاس شام کو جایا کروں گی میں


وہ بہت چپ چپ تھی بہت گم سم بھی وہ پہلے تو ایسی کبھی نہیں تھی اتنا بولتی تھی کہ سر کھا لیتی تھی لیکن اب تو جیسے وہ بالکل مرجھا چکی تھی اسے دیکھ کر ارمان کو دکھ ہوا تھا

"احمد صاحب کہیں آپ نے ہماری عنائیہ کو چپ رہنے کی دھمکی تو نہیں دے رکھی؟" ارمان کا دل کٹ رہا تھا اس کی خاموشی پر

"یار یقین کرو تم لوگوں نے پتا نہیں نکاح کے کھانے میں کیا ملایا تھا جب سے رخصت ہو کر آئی ہے بالکل ایسی ہی ہے" وہ ہنستا ہوا بولا تھا

اور اس کی بات پر وہ چپ سا رہ گیا تھا


ہاں وہ شرارتوں کے زمانے گزر گئے

اب حسرتوں کے داغ اٹھایا کروں گی میں

عنائیہ تلخی سے مسکرائی تھی بھلا اب آپ احمد کو بیچ میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں آپ کو شاید اپنی ویلیو کا اندازہ نہیں ہے احمد بھلا کب اس درجے پر فائز ہے کہ مجھے بدل سکے یہ تو آپ ہی ہیں جن کی غزلوں کی کمی نے مجھے مرجھا دیا ہے وہ محض سوچ کر رہ گئی تھی


ہاں اب کسی سماعت ہمسایہ کے لیے

اونچے سروں میں گیت نہ گایا کروں گی میں


گاڑی بلآخر گھر میں داخل ہوئی تھی احمد اتر کر آگے بڑھ کر مہمانوں سے ملنے لگا تھا اور ارمان اس کی اس حرکت کو دیکھ کر رہ گیا تھا پھر گھوم کر دوسری طرف آیا تھا اور دروازہ کھول کر حورب اور اس کا سامان سنبھالتا ہوا پیچھے ہٹا تھاعنائیہ اس کے ماتھے پر تیوری دیکھ چکی تھی اور ہلکا سا مسکراتی آگے بڑھ گئی تھی 


مطلب ہی اب نہیں ہے کسی بات سے مجھے

اب بات بات کو نہ بڑھایا کروں گی میں


رات میں مہندی کا فنکشن اپنے عروج پر تھا اور آج بہت عرصے بعد بھابی نے زبردستی اسے تیار کروایا تھا وہ سیاہ فراک میں سمپل سی جیولری اور میک اپ کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی البتہ چہرے پر ہجر کے رنگ اب بھی واضح تھے احمد نے بھی آج اسے آنکھ بھر کر دیکھا تھا وہ چلتا اس تک آیا تھا "آج تو سیدھا دل میں اتر رہی ہو" وہ مسکراتے ہوئے شرارت سے بولا تھا اور اس کے انداز پر حیران ہوتی وہ مسکرا دی تھی

"لیکن ایک چیز کی کمی ہے"  وہ اسے بغور دیکھتا ہوا بولا تھا

"وہ کیا؟" وہ چونکی تھی

"گجرے" وہ اس کی کلائی پکڑتا ہوا بولا تھا

"ویسے بھی حارث نے یہ ذمہ داری مجھے سونپ دی ہے وہ تھوڑا مصروف ہے تو میں ایسا کروں گا سب سے خوبصورت والے تمہارے لئے رکھ لوں گا" وہ آنکھ دباتا ہوا بولا تھا پھر آہستہ سا گاڑی کی طرف مڑ گیا

وہ اس کے انداز پر جی بھر کر حیران ہوئی تھی پھر مسکرا دی کچھ دیر وہ سب کے ساتھ رسم میں حصہ لیتی رہی تھی پھر جلد ہی رنگ برنگی روشنیوں پھولوں اور خوشبوؤں سے تنگ آ کر چھت پر چلی آئی تھی تنہائی اب اسے اچھی لگنے لگی تھی یہی تو واحد رازدار تھی اس کی

وہ ہر بات اس سے کہہ دیا کرتی تھی ہر یاد اسے سنا دیا کرتی تھی


انجام کے اداس اندھیروں میں بیٹھ کر

آغاز کے چراغ جلایا کروں گی میں


اسے اوپر آئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ نیچے اسے چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دینے لگی تھی وہ تقریباً بھاگتی ہوئی نیچے آئی تھی جہاں سامنے سے آتی ہوئی بھابی نے اسے روتے ہوئے گلے لگا لیا تھا "احمد کی کار کا بری طرح ایکسیڈنٹ ہوا ہے صورت حال انتہائی نازک ہے  ہسپتال سے ابھی فون آیا ہے" ان کے الفاظ پر گویا زمین و آسمان اس کے سامنے گھوم گئے تھے


ہم جھولیوں کو اپنی بسوز تصورات

ماضی کے واقعات سنایا کروں گی میں


مسلسل تین دن ہسپتال میں رہنے کے بعد وہ زندگی سے ہار گیا تھا اور اس پر تو جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی تھی شدید صدمے کی وجہ سے وہ بےہوشی کی کفیت میں تھی جس کی وجہ سے وہ آخری بار اپنے شوہر کا دیدار بھی نہیں کر سکی تھی


حیرت ہے آپ کا مرے بارے میں یہ خیال

دل میں کوئی خلش ہی نہ پایا کروں گی میں


اس کو گزرے چھ ماہ ہو گئے تھے وہ سارا دن حورب کو گود میں لئے بیٹھی رہتی تھی کمرے سے نکلنا تو اس نے بالکل چھوڑ دیا تھا کھانا پینا بھی برائے نام ہی ہوتا تھا ابو ایک بار پھر بیڈ سے جا لگے تھے ان سے اس کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اس شام تو وہ رو ہی دیے تھے اور ان کا رونا بہن سے برداشت نہیں ہوا تھا

"آپ پریشان نا ہوں رب نے ضرور اس کے لئے بہتر سوچا ہو گا"

"کیسے پریشان نا ہوں ایسی حالت میں کون اپنائے گا اسے اور میرے تو اس دنیا میں پتا نہیں کتنے روز باقی ہیں میرے بعد میری بچی کا کیا ہو گا" وہ اپنا دل کا حال سامنے رکھ رہے تھے سب ان کی دلجوئی میں مصروف تھے جب اس کی آواز پر ایک دم کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی

"میں شادی کرنا چاہتا ہوں عنائیہ سے" اور اتنے سالوں کا انتظار ختم ہوا تھا آج دل کی بات زبان پر آ ہی گئی تھی


شکلیں بنا بنا کے مٹایا کریں گے آپ

شکلیں مٹا مٹا کے بنایا کروں گی میں


عنائیہ کو جب اس کی خواہش کا پتا چلا تو وہ سارے ضبط کھو بیٹھی تھی اتنا روئی تھی کے کئی دن تک آنکھیں سوجی رہی تھیں وہ کب یہ چاہتی تھی خدا گواہ تھا کہ اس نے شادی کے بعد کبھی اس کی خواہش نہیں کی تھی اپنے شوہر کے ساتھ وفا نبھائی تھی پھر اب جب وہ صبر کر چکی تھی تو ایسا کیوں ہوا تھا


حالات سے نباہ یہ کیا کررہے ہیں آپ

حالات کا مذاق اڑایا کروں گی میں


ارمان حورب کے ساتھ بہت اٹیچ ہو گیا تھا وہ بھی کافی حد تک اس کے قریب ہو گئی تھی سارا وقت وہ اپنی مما کے ساتھ گزارتی یا ارمان کے پاس ارمان کو وہ ساری عنائیہ جیسی لگتی تھی وہ اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا تھا اس کا بس نہیں چلتا تھا وہ سارا وقت اسے اپنے پاس رکھے

وہ رات سونے کے لئے مما کے پاس آئی تو اس کی بات سن کر عنائیہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا "بابا نے اور میں نے آج ڈول ہاؤس بنایا تھا آپ کل میرے ساتھ بابا کے روم میں آئیں گی تو میں آپ کو بھی دکھاؤں گی" وہ خوشی سے بتا رہی تھی

"کون بابا؟" اس نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا تھا

"ارمان" وہ حارث سے سن کر اسے اس کے نام سے ہی بلاتی تھی

"آپ نے انہیں بابا کیوں کہا؟"

"وہ کہتے ہیں کہ وہ میرے بابا ہیں" اس کی بات پر وہ آنسوؤں سے رونے لگی تھی


کیا ہو گئے ہیں آپ بھی کچھ مصلحت پسند

کیا اب فریب ہجر ہی کھایا کروں گی میں


پھر ایک دن وہ ابا کے آگے ایک دفعہ پھر ہار مان گئی تھی بھائی اور بھابی کی بھی یہی مرضی تھی پھر ارمان کے ساتھ دوسری دفعہ بےوفائی کی ہمّت نہیں تھی اس میں وہ اس کی زندگی میں شامل ہونے کے لئے راضی ہو گئی تھی شادی کی تیاریاں  شروع ہو چکی تھیں روز ارمان کی طرف سے ڈھیروں شاپنگ بیگز اس کے کمرے میں آتے تھے وہ اسے بہلانے کی کوشش کرتا تھا اور کافی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہو گیا تھا وہ اس کی لائی گئی ایک ایک چیز کو غور سے دیکھتی تھی پھر محبّت سے سنبھال کے رکھ دیتی

اور پھر ایک دن وہ پھولوں سے سجی اس کے نام کی مہندی لگوا رہی تھی جس کا وہ ہمیشہ خواب دیکھتی تھی اور اس دن اسے اپنے خوش قسمت ہونے پر یقین آ ہی گیا تھا 


کیا اضطراب روح بھی برباد ہو گیا

کیا یوں ہی اپنے دل کو جلایا کروں گی میں


وہ عنائیہ سے عنائیہ ارمان ہو گئی تھی آج اس دنیا میں دو خواب ایک حقیقت بن گئے تھے آج پھر بادلوں ہواؤں اور بارش نے ان کے دائمی ساتھ کی دعا کی تھی وہ اسے ساتھ لئے ساحل سمندر پر آ گیا تھا آج ادھر کی ہر چیز میں سکون تھا محبّت تھی خوشی تھی دعا تھی حقیقت تھی وفا تھی اور دو دل تھے جو صرف ایک دوسرے کے لئے دھڑکتے تھے اور آج ان کے درمیان ایک تیسرا دل بھی تھا جسے بڑے پیار سے ارمان نے گود میں اٹھایا ہوا تھا

وہ اسے لئے ہوئے گھٹنوں کے بل جھکا تھا آج اس خوش قسمت ترین انسان کے لئے محبت کا سلام دہرایا گیا تھا

خوشی سے آنسو اس کی گالوں پر بہنے لگے تھے

"اس جواب نے بڑا انتظار کروایا ہے اب اور دیر نہیں کرو" وہ اس کی انکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تھا

اور وہ پورے دل سے مسکرا دی تھی

"کیا آپ کو قبول ہے آپ کے عشق میں ہارا ہوا لڑکا؟" وہ ایک ادا سے بولا تھا

"قبول ہے..." وہ ہنستی ہوئی بولی تھی

"قبول ہے؟" وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا

"قبول ہے قبول ہے قبول ہے" وہ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی تھی

اور وہ مسرور سا حورب کو لئے اٹھا تھا

"بابا لوو ماما" وہ اتنی زور سے چلایا تھا کہ فضا میں اس کی محبّت سے گوندھی آواز گونجنے لگی تھی حورب اس کی حرکت پر کھلکھلا کر ہنس دی تھی 


ہے اس روش کا نام اگر زندگی تو پھر

خود زندگی کو بحث میں لایا کروں گی میں


وہ لوگ فرانس شفٹ ہو گئے تھے عنائیہ زندگی کو پھر سے جینے لگی تھی پھر سے اس کے قہقے گھر میں گونجنے لگے تھے وہ اب روشنیوں سے بھاگتی نہیں تھی رنگوں سے کھیلتی بھی تھی اور بادلوں سے ہواؤں سے باتیں بھی کرتی تھی

کھانا بناتی وہ ارمان کی آواز پر پلٹی تھی جو حورب کو اٹھائے دروازے میں کھڑا تھا

"آپ آج آفس سے جلدی آ گئے؟" وہ اس کی اتنی جلدی آمد پر حیران ہوئی تھی

"ہاں وہاں اب میرا دل نہیں لگتا" وہ سنجیدگی سے بولا تھا

"وہ کیوں؟"

"کیونکہ اب کام ٹھیک سے نہیں ہوتا" وہ پریشان نظر آیا تھا

اور اس کی بات سن کر وہ بھی پریشان ہوئی تھی

"کیوں نہیں ہوتا؟"

"کیونکہ سارا دھیان تمہاری طرف جو رہتا ہے" وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتا ہوا بولا تھا اور اسکی بات پر وہ اسے دھپ رسید کرتی باہر نکلی تھی

"ڈرامےباز"

 

بس آپ ہی نہ دیجیے یہ مشورے مجھے

ہیں اور بھی ستم جو اٹھایا کروں گی میں

 

آپ کی لوو میرج ہے یا ارینج؟ اس کی نئی دوست جو قریب ہی رہتی تھی آج اس سے ملنے آئی ہوئی تھی

"وہ کہتا ہے کہ لوو ہے..." اس نے مسکراتے ہوئے پرسوچ انداز میں کہا تھا

"نہیں آپ کی طرف سے؟" 

"وہ میری طرف سے ہی کہتا ہے..." وہ مسکرائی تھی

"تو آپ کیا کہتی ہیں؟"

"میں مانتی ہی نہیں ہوں..." اس نے نیل پینٹ کا کوٹ لگاتے ہوئے اسے تنقیدی نگاہ سے دیکھا تھا اور پھونک مار کر جیسے اسے جذب کرنے کی کوشش کی تھی

"اور سچ کیا ہے؟" وہ متجسس تھی

"سچ بتاؤں گی تو جھوٹ پکڑا جائے گا... "وہ پرسکون لہجے میں بولی تھی

پھر اس کی شکل دیکھ کر ہنس پڑی تھی

 

’’نقش کہن‘‘کو دل سے مٹایا نہ جائے گا

گزرے ہوئے دنوں کو بھلایا نا جائے گا

 

The end 🔚

 

 




COMMENTS

Name

After Marriage Based,1,Age Difference Based,1,Armed Forces Based,1,Article,7,complete,2,Complete Novel,611,Contract Marriage,1,Doctor’s Based,1,Ebooks,9,Episodic,277,Feudal System Based,1,Forced Marriage Based Novels,4,Funny Romantic Based,1,Gangster Based,2,HeeR Zadi,1,Hero Boss Based,1,Hero Driver Based,1,Hero Police Officer,1,Horror Novel,2,Hostel Based Romantic,1,Isha Gill,1,Khoon Bha Based,2,Poetry,13,Rayeha Maryam,1,Razia Ahmad,1,Revenge Based,1,Romantic Novel,22,Rude Hero Base,3,Second Marriage Based,1,Short Story,68,youtube,30,
ltr
item
Urdu Novel Links: Teri Yaad Ky Zamanay By Eshal Chaudhary Short Story
Teri Yaad Ky Zamanay By Eshal Chaudhary Short Story
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhY_PvWEcOJSg2c_HrF4RpgwmtLPQq32ycwlR8vjPY1xKDdy7PXgGN3-kqhanUgH_y9j_UnW7VlNHUGIQURY25r8KAieOF8EMxe3lnC-VjmyPtvBZk9sBHCNFKmOOg2CDABWmFxNJEZOeAZmfl474ryXlK0DNceVoWGEBOISOkKI7-Z--r4lMOo3NeB/w400-h400/293620673_529601638919353_7151971107096325039_n.jpg
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhY_PvWEcOJSg2c_HrF4RpgwmtLPQq32ycwlR8vjPY1xKDdy7PXgGN3-kqhanUgH_y9j_UnW7VlNHUGIQURY25r8KAieOF8EMxe3lnC-VjmyPtvBZk9sBHCNFKmOOg2CDABWmFxNJEZOeAZmfl474ryXlK0DNceVoWGEBOISOkKI7-Z--r4lMOo3NeB/s72-w400-c-h400/293620673_529601638919353_7151971107096325039_n.jpg
Urdu Novel Links
https://www.urdunovellinks.com/2022/07/teri-yaad-ke-zamane-by-eshaal-chaudhary.html
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/
https://www.urdunovellinks.com/2022/07/teri-yaad-ke-zamane-by-eshaal-chaudhary.html
true
392429665364731745
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content